وطن عزیز سن فروری یہ داستان ہے پرانی سال تو تئیس کا ہے پر کہانی وہی ہے پرانی تجھ میں نیا تو ہوا کچھ نہیں ہے وہی رونا مہنگائی اور وہی چور تخت نشین ہیں حکومت لٹیروں کی ہے اور غریب اسی چکی میں پس رہا ہے جس میں رقیب تجھ کو سناؤں میں داستان پھر نئ کیا بدلہ ہے سال بس اور کچھ نہیں نیا لکھاری تو ہیں پر حوصلہ نا کسی میں کہ سب تک پہنچائیں آوازیں معصوموں کی اور صدائیں جو محلوں میں ہیں صاحبِ استراحت ان کے بھی کانوں میں گونجیں صدائیں کہ سونے کو بستر نا رہنے کو گھر ہے نا کھانے کو آٹا ،پہننے کو زر ہے کرتے ہیں جھک کر روسا کو سلام تجھ کو پتہ ہے اہل ثروت کے کام کرتے ہیں معصوموں کی وہ تذلیل چلے آتے ہیں پھر بن کر فقیر پرندے ہیں قیداور سارے درندے کھلے عام ان کے داتا بنے ہیں تڑپتے ہیں جب وہ تو ہستے ہیں ظالم دیکھ ان کی تو سنگ دلی اور شقاوت کیسا بنیں جال لفظوں کا اور پھر پکاریں مانگیں تو کیسی دعا رب سے آخر آنکھیں ہیں نم اور تشنہ ہیں لب سنگلاخ راستے اور شکستہ ہے دل نورؔؔ تجھ کو پکارےاور کرئے التجائیں سن لے مولا تو ہم غریبوں کی آہیں از قلم:- تنزیلہ نورؔؔ
Check this out for all type of Books, study material, MCQs related all subjects, Notes of all books, CSS, PMs & Motivational quits. All things are present here that can Transform billions of Lives!