نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Study Abroad Free Session Scholarship guidelines

Foreign studies Scholarship free Session1 : Time & Date:   Monday 8 to 9 PM,   Nov 14 ,2022 Medium : Live on Zoom 1) Eligibility Cariteria  2)Financial Coverage  3) How to apply  4) Require Documents  5) Process of Documentation  6) Recommendation Letter  7)How to get No objection Certificate?   8)How to get Police clearance certificate ? 10)Finding Scholarship and University    11) University/Scholarship Application  12) Letter of Recommendation Writing  13) SOP Writing 14) CV/Resume Writing 15) Cover Letter Writing Facebook https://web.facebook.com/Pakistan-Mentor-Community-106061224995985 Instagram : https://www.instagram.com/pakistanmentorecommunity/ Blogger : https://pakistanmentor.blogspot.com/ YouTube : https://www.youtube.com/c/PakistanMentorcommunity Linkedin : https://www.linkedin.com/in/rizwanaliaqat558/ Medium : https://medium.com/@rizwanaliaqat558 #scholarships #AbroadStudy #abroadfreest...

مجھے ہے حکم

  عنوان : مجھے ہے حُکم ازاں ازقلم: اُم حفصہ محمد عرفان   اللہ کے بابرکت نام سے آغاز کرتے ہوۓ میں اپنے قلم کا رُخ اپنی تحریر کی طرف کرنا چاہوں گی  آذادی کو پچھتر برس کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ خطہ زمین آزاد ہوا لیکن کیا اس پر بسنے والے انسان ابھی بھی آزاد ہیں ؟ آج کل افراتفری کا سماں ہے ،کچھ معلوم نہیں حالات کس جانب رخ کر رہے ہیں ۔ گردوپیش میں ہونے والے واقعات کیوں اور کیسے ظہور پذیر ہورہے ہیں کوٸ واضح وجہ سامنے نہیں آتی کہ کوٸ دوسرا واقعہ رونما ہوجاتا ہے ۔ ہر طرف گہما گہمی کا عالم ہے۔ ہر طرف اپنے ذاتی مفاد کا شور برپا ہے ایسے میں واضح راہ دیکھنا اور اس پر چلنا ، دونوں ہی مشکل کام ہیں ۔ آزاد تو پاکستان کا ہر نوجوان ، بچہ ، بوڑھا 1947 کو ہی آزاد ہوگیا تھا ۔ ہمارے بانٸ قاٸداعظم نے جسمانی اور ذہنی آزادی لے کر دی سب کو آزاد بار آور کروایا ۔ لیکن وطن قاٸد کے باشندے آج بھی جسمانی طور پر تو آزاد ہیں لیکن ذہنی طور پر غلامی کی راہ اختیار کر چکے ہیں ۔ جس خواب کی تعبیر پہ یہ وطن عزیز منظر عام پر آیا اسکی تعبیر پچھتر سالوں سے آدھی ادھوری ہی ہے ۔ جمہوریت ،معاشی و سماجی، انصاف فرد، اور اسکی...

سپنوں کی تعبیر

سپنوں کی تعبیر     سورج سا ابھرنا ہے  اس دنیا کو روشن کرنا ہے  پڑھنا ہے کچھ بننا ہے اپنے دم پہ کچھ کرنا ہے  قدم قدم پہ لڑنا ہے  مجھے ہر دم آگے بڑھنا ہے  سپنوں کی اک دنیا ہے  اور اس کی میں شہزادی ہوں ہوں مفرور پرندہ ،نہ صیاد کے تیر سے بچنا ہے  یہ دنیا میرا نشیمن ہے، میں عورت ہوں یہ جرم نہیں ہے  عورت ہو تم چپ رہو، بولنا تجھے زیب نہیں وطیرہ ہے اس دنیا کا،اس سے بغاوت کرنی ہے  تشہیر کا میں سامان نہیں،رائے میری مقدم ہے  میں عورت ہوں یہ جرم نہیں ہے  میرا بھی اک نام ہے اس سے ہی پہچان ہے  گھر داری میرا ہدف نہیں ہے مجھے ایسے ہی تو مرنا نہیں ہے  اس کے ساتھ کچھ کرنا ہے  مجھے نام تو پیدا کرنا  ہے   سپنوں کی اس دنیا سے بیدار ہوئی تو یاد آیا  گمنام ہوں میں اس دنیا میں ،مجھے نام اپنا بنانا ہے  سر نا کبھی جھکانا ہے  مجھے خود کو تو منوانا ہے  فکر ہے ماں کو شادی کی  پر نؔور کا بھی اک سپنا ہے  تعبیر میں اس کو ڈھلنا ہے مجھے پڑھنا ہے کچھ بننا ہے از قلم:-   تنزیلہ نؔور