"روحانی بے سکونی" رضوانہ نور ہماری آنکھیں اور کان جھوٹ دیکھ اور سن کر اعتبار کر سکتے ہیں لیکن روح نہیں کرتی۔ وہ تنگ ہونے لگتی ہے اسی لیے جب ہم سے کوئی حقیقت میں خالص محبت نہ کرتا ہو بس الفاظ سے بیان کرے تو انسان دل سے یقین نہیں کرتا۔ اور اگر اظہار کرنے والے کے لیے دل میں جگہ نہ ہو تو ایک لمحہ لگائے بنا نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگر اسکو چاہتا ہو تو پھر ایک ایسی الجھن والی کیفیت ہوتی ہے کہ انسان کہہ نہیں پاتا۔ اندر کہیں نہ کہیں بے اعتباری کی گھڑیاں منڈلا رہی ہوتی ہیں۔ دل بار بار خدشات میں پھنستا جاتا ہے کہ کہیں مجھے چھوڑ نہ دے کہیں کوئی اسکو مجھ سے دور نہ کر دے۔ اور پھر انسان اسی طرح اس شخص کی چاہت پانے کے لیے اعتبار کرنے کی کوشس تو کرتا ہے۔ کئی ایسے کام کر جاتا ہے جو اسکے اصولوں کے خلاف ہوتے ہیں اسکو مناتا اس کے سامنے خوبصورت الفاظ کا استعمال کرتا ہے ۔ خوبصورت بن کر اسکی چاہ پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ تھکنے لگتا ہے۔ دوسرے انسان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑھ رہا ہوتا پر چاہنے والے کی روح بے سکون رہتی ہے۔ اب سوال آتا ہے ان کا جن کی چاہت پر ہم ...
Check this out for all type of Books, study material, MCQs related all subjects, Notes of all books, CSS, PMs & Motivational quits. All things are present here that can Transform billions of Lives!