نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

True Love or time pass حقیقی محبت یا دھوکا

 "روحانی بے سکونی"

      رضوانہ نور


ہماری آنکھیں اور کان جھوٹ دیکھ اور سن کر اعتبار کر سکتے ہیں لیکن روح نہیں کرتی۔ وہ تنگ ہونے لگتی ہے اسی لیے جب ہم سے کوئی حقیقت میں خالص محبت نہ کرتا ہو بس الفاظ سے بیان کرے تو انسان دل سے یقین نہیں کرتا۔ اور اگر اظہار کرنے والے کے لیے دل میں جگہ نہ ہو تو ایک لمحہ لگائے بنا نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگر اسکو چاہتا ہو تو پھر ایک ایسی الجھن والی کیفیت ہوتی ہے کہ انسان کہہ نہیں پاتا۔ اندر کہیں نہ کہیں بے اعتباری کی گھڑیاں منڈلا رہی ہوتی ہیں۔ دل بار بار خدشات میں پھنستا جاتا ہے کہ کہیں مجھے چھوڑ نہ دے کہیں کوئی اسکو مجھ سے دور نہ کر دے۔ اور پھر انسان اسی طرح اس شخص کی چاہت پانے کے لیے اعتبار کرنے کی کوشس تو کرتا ہے۔ کئی ایسے کام کر جاتا ہے جو اسکے اصولوں کے خلاف ہوتے ہیں اسکو مناتا اس کے سامنے خوبصورت الفاظ کا استعمال کرتا ہے ۔ خوبصورت بن کر اسکی چاہ پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ تھکنے لگتا ہے۔ دوسرے انسان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑھ رہا ہوتا پر چاہنے والے کی روح بے سکون رہتی ہے۔


اب سوال آتا ہے ان کا جن کی چاہت پر ہم اندھا اعتبار کر لیتے ہیں۔ حالاں کہ انہیں ہم سے حقیقت میں اتنا پیار نہیں ہوتا۔ ان کے لیے دل مطمئن کیوں ہو جاتا ہے۔؟


کیوں کہ انہوں نے بھی کسی ایک لمحے میں آپ کو اسی پیار کی نظر سے دیکھا ہوتا ہے کہیں نہ کہیں ان کے دل میں چند لمحوں میں آپ کے لیے ویسا ہی پیار آیا ہوتا ہے جس میں صرف انسانی خلوص ہو جیسے انسان کبھی کبھی گزرتے بچوں کو بہت پیار سے دیکھتا ہے وہ بن مطلب کا خالص پیار ہوتا ہے۔ اور ہماری روح نے وہی لمحہ دیکھا ہوتا ہے وہ اسی لمحے میں قید ہو جاتی ہے ہماری محبت کا سمندر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ محبوب کا ایک محبت بھری نظر دیکھنا اس سمندر میں کہیں گم جاتا ہے، بہہ جاتا ہے۔ اور روح اسی لمحے میں مست جھومتی رہتی ہے سمجھتی ہے کہ میرے محبوب کو مجھ سے بھی ویسا ہی پیار ہے جیسا مجھے اس سے ہے۔ 

بار بار ذہن و دل ہر وہ لمحہ ابھرتا ہے تو انسان کر روحانی تسکین ملتی ہے اسی لیے انسان محبت ہونے کے بعد زیادہ تر خیالات کی دنیا میں ہی رہتا ہے۔اور ہر بار وہ لمحہ سامنے رکھ کے سوچتا ہے کہ یار اسکو بھی مجھ سے ایسی ہی محبت ہے جیسی مجھے اس سے ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ مسلہ تو یہ ہے کہ سمندر میں سے ایک قطرہ نکالنا اور پھر اسکو سمجھنا کہ اوہ یہ تو ایک لمحہ، ایک قطرہ ہے یہ قلزم نہیں بن سکتا۔

وہ بہت مشکل ہے ذہن و دل اس بات کو ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں تب انسان اپنے وجود کو چھوڑ کر محبوب میں گم ہو جاتا ہے۔ 

انسان کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر کوئی چند لمحوں کے لیے آپ کو پسند کر رہا ہے تو لازم نہیں ہے کہ ساری زندگی پسند کرے گا اس لیے جب کوئی اپنے آپ کو محدود کرے تو اپنی چاہتوں کے سمندر کو اپنے تک محدود کر لو۔ اس سمندر کو دل کے کوزے میں بند کر لو۔ نہیں تو ایک لمحے کی چاہ میں انسان ساری زندگی دربدر ہو جاتا ہے۔ اپنا آرام و س


جب دو لوگ محبت کرتے ہیں وہ ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کے محبوب اور محب ہوتے ہیں وہ دونوں مل کر ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں ۔ جہاں ساتھ دوسرا نہ ہو تو کوئی بھی خیال اپنی ساتھی کے خیال سے اہم نہیں ہوتا۔ وہ اسکے وجود کو اپنے خیالات کی دنیا میں بسا کر سامنے لاتا ہے اور اس جگہ ہو کر بھی اپنے ساتھی کے بارے میں سوچتا ہے۔ جہاں دونوں طرف خلوص کی ندیاں بہتی ہوں وہاں بن محسوس کیئے انسان ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں چاہتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ انسان دنیا سے بیگانہ ہو کر اسی ایک شخص کا طواف کر رہا ہوتا ہے لیکن اسی لمحے جس کا طواف ہو رہا ہوتا ہے اسکی بھی روح اپنے محب کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے۔ اسی لیے انسان روحانی طور پر مطمئن رہتا ہے۔ جہاں حقیقی چاہتیں ہوں وہاں دوریوں میں بھی روح سے روح کا تعلق رہتا ہے ایک ایسی مقناطیسیت ہوتی ہے کہ انسان میں اور تم کی بجائے ہم ہو جاتا ہے اور اسکی روح بے چین تو ہوتی ہے لیکن محبوب کے لیے محبوب کی وجہ سے نہیں۔ انسان تڑپتا تو ضرور ہے لیکن اپنے محبوب کو دیکھنے اور ملنے کے لیے نہ کہ خدشات سے۔ 

اور اگر خدا نخواستہ اس دوری کی مدت بڑھ جائے اور کسی ایک کی نیت میں لمحے کے لیے بھی فرق آ جائے تو دوسرا انسان ایسا بکھرتا ہے کہ سنبھل نہیں پاتا اس کی زندگی اپنی ذات کے ٹکڑے جمع کرتے ہوئے یہ حساب لگاتے گزر جاتی ہے کہ وہ تو مجھے اتنا چاہتا تھا پھر ایسا کیسے ہوا ؟ کیا میری کوئی غلطی تھی۔ اس وقت انسان نہ ادھر کا رہتا نہ ادھر کا نہ وہ یہ فیصلہ کیا پاتا ہے کہ میرے محبوب کی سوچ میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے اور نہ دل کو اس بات پر مطمئن کر پاتا ہے کہ وہ آج بھی مجھے ویسا ہی چاہتا ہے۔ وہ کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔ وہ ہوتا کہیں اور ہے لیکن سوچیں کچھ اور حساب لگانے میں مگن ہوتی ہیں۔ 

روحانی طور پر غیر مطمئن ہونے کا مطلب ہے کہ کہیں تو کچھ ایسا ہے جو ہم نے غلط سمجھ لیا ہے۔ 


🖋️رضوانہ نور

#rizwananoor #truelove #lifeline #rizwanaliaqat #mohabbat




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...