نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 تنزیلہ نور 

 استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔

اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں

سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے

اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہے ۔اس دور میں استاد کا بھی یہ خیال ہے کہ ان کاحترام نہیں کیا جاتا۔ اُنھیں صرف ایک ملازم سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ کچھ  دن پہلے  ہم کلاس لے رہے تھے۔اور موضوع بحث" ٹیچر ڈے "تھا  ہماری میم بشریٰ صاحبہ نے کہا بیٹا آپ کی یونیورسٹی میں بہت سی اساتذہ  ہیں جو میری سٹوڈنٹ رہ چکی ہیں لیکن آج وہ میری  کولیگ ہیں اور  میں ان کے ساتھ اس اعتماد کے ساتھ بیٹھتی ہوں کہ میں نے اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں کی اور آج اس مقام پر فائز ہونے کے باوجود وہ میری اس طرح عزت اور احترام کرتیں ہیں جس پر ایک استاد کا حق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اس کی وجہ یہ ہےکہ میں نے اپنا فرض پوری ایمانداری سے نبھایا ۔سوال یہ  ہے کہ آج استاد کی عزت کیوں نہیں کی جاتی؟ اس  کے لئے ہمیں اپنے ماضی میں دیکھنا پڑے گا جب بادشاہ اور شہزادے استاد محترم کی دہلیز پر آنا فخر سمجھتے تھے ۔استاد کی توجہ قسمت بدلنے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی ۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:- "کل استاد سلطان تھا اور آج استاد ملازم ہے"

"اگر استاد اہل ہے اور مخلص بھی ہیں تو وہ ولی ہے "  ایک بہترین استاد اپنے شاگردوں میں اعتماد اور ایمان جیسی صفات پیدا کرتا ہے وہ ایک طاقتور مقناطیس کی مانند ہوتا ہے لوہے کے زنگ لگے ذرات بھی اس کی طرف کھنچے چلے آتےہیں ۔ یہ ممکن نہیں ایک کامل استاد ملے اور طالب علم کی زندگی نہ بدلے ۔ جو قومیں اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتیں کبھی ترقی نہیں کرسکتیں۔ہمیں نبی پاک کی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کا احترام کرنا چاہیئے لیکن لمحہ فکریہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل اپنے اساتذہ کو وہ عزت و احترام  نہیں دے رہی جو ان کا حق ہے۔اللہ ہم سب کو اپنے اساتذہ کا ادب و احترام  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...