نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سانحہ پشاور اے پی ایس

سانحہ (APS) پشاور

از قلم : وردہ محمد ناصر

تحریر: 16 دسمبر شہدا کے نام 



16 دسمبر کا دن پاکستانی قوم کبھی نہیں بھولے گی،یہ وہ دن تھا۔ جب سبز ہلالی پرچم معصوم بچوں کے لہو سے و

سرخ ہو گیا،درندوں نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں،باپوں سے ان کے لخت جگر،بہنوں سے ان کے بھائی جدا کر دئیے۔ یہ وہ دن تھا جب دہشت گردوں نے قوم کے مستقبل پہ حملہ کیا تھا،یہ وہ دن تھا جب سر زمین پاک پر طلوع ہونے والا سورج بھی اشک یار ہو کر ڈوبا اور شہیدوں کے خون سے لت پت پشاور کی سر زمین کی سرخی ہمیں آج بھی یاد ہے۔

"پھول دیکھے تھے جنازوں پہ ہمیشہ میں نے

" کل میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے"

16 دسمبر کو دہشت گردوں کا یہ گمان تھا ،کہ وہ اس بے رحمانہ کارروائی سےہمارے حوصلوں کو پست کردیں گے،لیکن ان کو یہ خبر نہیں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے ہے جو!!!!!


         {جڑ سےجبر مٹاتی ہے

       ظالم کو مار بھگاتی ہے 

ہم موت کو آنکھ دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔}


ہم ٹینگو سے کب گھبراتے ہیں ۔ہم توپ سے بھی لڑ جاتے ہیں 

اس سانحے نے یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک کے فوجی جوان اور بڑے ہی نہیں، بلکہ بچے بھی ملک کے لئے قربانی دینے کو تیار ہیں۔وہ معصوم بچے مردہ نہیں بلکہ کہ زندہ جاوید ہیں،خداوند کریم کا بھی ارشاد ہے؟

          اللہ کی راہ میں شہیدوں 

               کو مردہ نہ کہو

             بلکہ وہ ذندہ ہیں


چلے جو ہوں گے شہادت کا جام پی کر تم

رسول پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

عمر تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے

حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

 

میں سوچتی ہوں کہ ہم نے اپنا حاکم ان ضمیر فروشوں کو بنا ڈالا،جو جبر کے ایوانوں سے لے کر ظلم کی کمین گاہوں تک یہ نہیں سوچتے کہ مائیں بچے اس لیے نہیں جنتی کہ ان کی ننھی قبروں پر فاتحہ پڑھ سکیں ۔ کوئی باپ اپنا نور نظر جوان اس لیے نہیں کرتا کہ پھر ضعیفی میں اپنے لختے جگر کے نا معلوم قاتل ڈھونڈتا پھرے ، کہ 

ان حاکموں کی سزائیں سہتے ہوئے ہم مظلوم ابن مظلوم ان حاکموں کے گریبان کیا پکڑتے، کہ ہمارے ہاتھ تو بریانی کی پلیٹوں میں الجھے رہے، تو پھر ہمیشہ کی طرح سزائیں ہمارا مقدر بنیں، 

          کہ ہم جیسے لوگ:

چلتے ہیں دبے پاؤں 

کے کوئی بھاگ نہ جائے

غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے

ک بوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا 

          "اس قوم کا حاکم ہی بس

              " اس کی سزا ہے"


 اے میرے اللّٰہ!!

   تو ان درندوں کو ہدایت دے اور وطن پاکستان کی بہادر ماؤں کہ ان کے صبر پر اجر عظیم عطافرما

   _(آمین ثم آمین یارب العالمین)_

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...