نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Bad condition of Pakistani Students

Thesis after viva... جب اس ملک میں پڑھے لکھوں کا ، محنت کرنے والوں کا یہ حال ہونا ہے تو ہر طرف آجا آ جا اور پاوا لاوا کی صدائیں ہی آئیں گی۔  اسی کا انجام تھا کے سروے میں 60فی صد پاکستانی پہلی فرصت میں یہاں سے کسی اور جگہ چلے جانا چاہتے ہیں۔ لاکھوں فیسیں لینے کے بعد ریسرچ کے نام پر 20 نمبر کی اسائنمنٹ دے کر پروفیسرز 10 منٹ میں 75 بچوں کو A سے D تک گریڈز دے کر ہاتھ جھاڑ کر یہ جا وہ جا ۔ اور جب تھیسز جمع کروایا جاتا ہے یا تو آگ لگا کر سیک لیتے ہیں یا دکانداروں کے ساتھ مل کر بیچ کر چائے کے پیسے بنا لیتے ہیں (حلال سے پیٹ نہیں بھرتا حرام لازم ہے) اور جو ایمانداری سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس ملک میں اکثر وہ سرعام قتل کر دیئے جاتے ہیں یا کرپشن کا الزام لگ جاتا ہے یا اللہ کو بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہیں یہ کہہ کر ایکسیڈنٹ کروا دیا جاتا یا ہو جاتا ہے اور موقع پر ہی روح خالق حقیقی سے مل جاتی ہے۔  "ہمارے ایک بہت قابل استاد محترم فرمایا کرتے تھے ہمارا محکمہ بہت بد بودار ہو چکا ہے بہت گندہ ۔بچے اگر آپ دیکھو تو گندی نالی کے کیڑوں کی طرح ہم سے بدبو آئے گی آپ کو۔"  اس وقت میں سوچتی تھی...

Have Strong belief on Allah

Have strong belief on Allah subhanahu Tala  🖊By Rizwana Noor    Are you depressed? Are you losing hope? Do you need motivation? Then  Read this dua: O Allah, I am weak, help me. فَدَعَا رَبَّهِ انِّيْ مغْلوبٌ فَانْتَسِرْ.” (Al-Qamar: 10) Translation: “Thereupon they called upon their Lord that I have become helpless, now you take revenge.”  This is a simple dua when you are suffering from anxiety, this dua will boost your spirit .   This is the prayer of Hazrat Nuh (AS), from the story of Hazrat Nuh (AS), wecan't  learn that a person can try with sincerity, but if his efforts are fruitless, then a person can ask Allah (SWT) for help. The stories of our prophets are there to read and learn. We can see that our prophets also felt depressed at times. Then we are just ordinary human beings. If we feel stress, it is quite normal, but the feeling of hopelessness or despair is not for the believers of Allah Ta'ala. The "Who" of Allah Subhanahu Taala can chan...

سنو دسمبر تمہارا خیر مقدم مگر

!سنو دسمبر تم لوٹ آئے ہو  مگر  یاد رکھنا تم   میرے کانوں میں گونجتی  ہیں میرے پیاروں کی آہیں  تیری خنکی سے دبی ناں تھی  میرے اپنوں کی  صدائیں تو اس بار جو آیا ھے  تو خوشیاں ساتھ لانا پھر  اپنوں سے ملانا تم  خوشیاں بانٹ جانا تم  سنو دسمبر! جو روگ تم نے ڈالا  وہی روگ ہم نے پالا  تیری ان لمبی راتوں  میں لٹ گیا تخت زریں  اب تو ساقی ہے نہ پیالہ   سنو دسمبر !  طلوعِ آفتاب نے بھی دیکھیں اداس راتیں قفس بھری تھی   سنو دسمبر! سلوٹوں سے بھری ہے روح بھی  وہ شکن زدہ سا لباس ہے  تو بلھا بن کے آ اس دھرتی کو منانا ہے  جن پھولوں کو تو نے چھینا ہے  جن آنکھوں نے سب جھیلا ہے   سنو دسمبر! ان ٹھندی راتوں میں جن آنکھوں نے رستے دیکھے ہیں  کسی کے لوٹ آنے کے ،کسی کے مسکرانے کے ان بچھڑوں کو ملا دے تو  اس بار خوشیاں لوٹا دے توں سنو دسمبر! تمہارا خیر مقدم ہے مگر یاد رکھنا تم ان لبوں کو مسکرانا ہے ،اس دشت کو مہکانا ہے از قلم:-  تنزیلہ نور