نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

"اسمٰعیل سے ذبیح اللہ"

"اسمٰعیل سے ذبیح اللہ" عید الضحٰی حضرت ابراہیم خلیل اللہ، اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کی یاد ہے۔ قربانی تو اصل میں رضائے الہی کا نام ہے۔ "مخصوص ایام میں ، مخصوص جانور کو اللہ رب العزت کی راہ میں قربان کرنا قربانی کہلاتا ہے"۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کئی سالوں کی عبادت و ریاضت کے بعد جب اللہ پاک نے نبی ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا تو انہیں وہ بیٹا بہت پیارا تھا لیکن جیسے ہی وہ اتنا بڑا ہوا کہ خلیل اللہ کے ساتھ سعی میں شامل ہو سکے تو خدائے بزرگ و برتر جو ہر خواہش سے پاک ہے خواب میں اشارہ دیتا ہے کہ "اے ابراہیم ، اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر دو۔" نبی ابراہیم نے جب اپنے بیٹے نبی اسماعیل سے پوچھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے تجھے اللہ کی راہ میں قربان کر رہا ہوں تو اسماعیل علیہ السلام بولے ابا جان آپ وہ کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والا ہی پائے گا۔ والد نے اپنے جان سے پیارے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے لیٹا دیا چھری چلا دی اللہ نے جبریل کو بھیجا کہ اسمٰعیل کی جگہ مینڈھا رکھ دو۔ کسی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ ...

Writing Competition

صدائے قلب پاکستان مینٹور کمیونٹی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر سے معاشرے کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ ہم آپ تمام معزز لکھاری حضرات سے بہترین تعاون کی امید رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے دل کی کہانی بتائیے وہ کہانی جسے آج تک آپ کے لبوں کی قید سے آزادی نہ مل سکی لیکن آپ کے دل کا زخم بنتی گئیں.  وہ کہانی کوئی بھی ہو سکتی ہے. کسی طرح کی بھی اندرونی تکلیف ہو سکتی ہے.   ڈپریشن، خاندانی مسائل، ذاتی خیالات، رشتہ داروں کی بہتان بازی، والدین کی بے اعتباری، بن پوچھے ہوئی شادی کا بوجھ، جنس پر مبنی تشدد یا کسی اور چیز کے بارے میں جس نے آپ کے اندر کے ہنستے کھیلتے انسان کو قتل کر دیا۔  ایک بار اپنے لفظوں کو آزاد ضرور کیجئے ایک بار درد دل کو کھول دیجئے کہانی لکھتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے مثبت الفاظ کا انتخاب کیجئے اور کہانی مکمل ہونے پر آخر میں جامع انداز میں بتایا جائے کہ  جو بھی مسائل رہے ہوں ان سے آپ نے کس طرح نجات حاصل کی اور اب آپ اپنی زندگی کے کون مقام پر ہیں۔ قارئین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے۔   ہو سکتا ہے آپ کی تحریر ہی ہمارے معاشرے کے لیے تبدیل...