نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

"اسمٰعیل سے ذبیح اللہ"

"اسمٰعیل سے ذبیح اللہ"
عید الضحٰی حضرت ابراہیم خلیل اللہ، اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کی یاد ہے۔ قربانی تو اصل میں رضائے الہی کا نام ہے۔
"مخصوص ایام میں ، مخصوص جانور کو اللہ رب العزت کی راہ میں قربان کرنا قربانی کہلاتا ہے"۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کئی سالوں کی عبادت و ریاضت کے بعد جب اللہ پاک نے نبی ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا تو انہیں وہ بیٹا بہت پیارا تھا لیکن جیسے ہی وہ اتنا بڑا ہوا کہ خلیل اللہ کے ساتھ سعی میں شامل ہو سکے تو خدائے بزرگ و برتر جو ہر خواہش سے پاک ہے خواب میں اشارہ دیتا ہے کہ "اے ابراہیم ، اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر دو۔"
نبی ابراہیم نے جب اپنے بیٹے نبی اسماعیل سے پوچھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے تجھے اللہ کی راہ میں قربان کر رہا ہوں تو اسماعیل علیہ السلام بولے ابا جان آپ وہ کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والا ہی پائے گا۔ والد نے اپنے جان سے پیارے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے لیٹا دیا چھری چلا دی اللہ نے جبریل کو بھیجا کہ اسمٰعیل کی جگہ مینڈھا رکھ دو۔
کسی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا یہ قربانیاں کیا ہیں تو آپ نے فرمایا:
"تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ اور انکو خوش دلی سے اللہ کی راہ میں قربان کرو قیامت کے دن یہ اپنے بالوں، سینگوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گی کل پل صراط پر یہ سواریاں بن کے تمہیں پار لگائیں گی۔"
جب کوئی شخص خوش دلی کےساتھ جانور کو رضائے الٰہی کے لیے قربانی کرتا ہے تو اس جانور کا خون زمیں پر گرنے سے قبل یہ عمل قبول کر لیا جاتا ہے۔
ایام نحر (قربانی کے تین دن) میں جو بھی صالح اعمال کیے جائیں فورا قبول ہوتے ہیں لیکن ان دنوں میں اللہ پاک کو سب سے زیادہ جو عمل محبوب ہے وہ اللہ کی راہ میں قربانی کرنا ہے۔ ان تین دنوں میں سب سے افضل عمل رضائے الہی کے لیے خون بہانا ہے۔قربانی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اسلام تو نام ہی قربانی کا ہے عید قرباں کے ذریعے بھی ہمیں ایثار اور قربانی کا جذبہ سیکھایا جاتا ہے
قربانی کرتے ہوئے شوبازی سے بچیں ۔ قربانی کے جانور سے محبت کرنا، خیال رکھنا اسکو رنگ لگانا شوبازی نہیں بلکہ اصحابہ اکرام کا طریقہ کار ہے لیکن جو کسی وجہ سے قربانی نہیں کر پا رہے اور آپ جانتے بھی ہیں کہ اس مرتبہ استطاعت نہیں ہے تو آپ پر لازم ہے آپ انکو بنا محسوس کروائے خیال رکھیں اگر ہمارے معاشرے کو احساسات کی زبان سمجھ آ جائے تو کئی آنکھیں رونے سے بچ جائیں گی۔ راہ خدا میں اگر قربانی کرنے کی توفیق آپ کو عطا کی گئ ہے تو اپنے غریب رشتہ داروں کا خیال رکھیں انکے سامنے بار بار اپنے جانور کا تذکرہ نہ کریں۔ انہیں جتائے بغیر ان کے گھر بھی گوشت پہنچائیں اصل قربانی دن میں 4 وقت 40 دن مسلسل گوشت کھانا نہیں بلکہ اک وقت کھانے سے پہلے اپنے اردگرد دیکھیں کس نے نہیں کھایا انہیں خاموشی سے گوشت پہنچائیں تاکہ دل میں اخلاص اور پیار محبت کا جذبہ پیدا ہو۔ آپ 40 دن کھانے کی بجائے 40 گھروں میں پہنچائیں۔ یہ خیال نہ کریں کہ اس نے مجھے نہیں بھیجا میں اسے کیوں بھیجوں یاد رکھیں آپ اپنے عمل کے جوابدہ ہیں کسی اور کے نہیں۔ اب ہمارے ہاں عید قرباں کو ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے اسے صرف ایک تہوار بنا دیا گیا ہے مگر جذبہ ایثار و قربانی کا فقدان ہے۔
اصل قربانی تو یہ جذبہ ہے کہ ہمیں احساس ہو جائے کہ اے اللہ ہم اک بھی لمحہ لگائے بنا تیری راہوں میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جو خالص بندہ ہوتا ہے وہ خلیل ہوتا ہے وہ اپنے اسمٰعیل کو ذبیح اللہ بنا دیتا ہے خدا کے ہر حکم پر گردن جھکا دیتا ہے۔
رب قرآن میں اپنے نام سے منسوب جانور کی تعظیم کا حکم دیتا ہے تو اپنے سے منسوب بندوں کو کیا مقام خاص عطا فرمائے گا.
یہ صرف تہوار نہیں بلکہ اپنی خواہشات کو راہ الہی میں قرباں کرنے کی تربیت ہے۔ یہ عشق خدا کا ایک عظیم نمونہ ہے۔
قربانی صرف جانور کی نہیں اپنے اندر بغض اور نفرتوں کی بھی کریں۔ جانور کی گردن پر چھری چلاتے ہوئے خیال رہے کہ آپ کی انا کا پہاڑ بھی کٹ جائے۔ جانور ذبح کرتے ہوئے اپنی بے جا خواہشات کی گردن پر بھی چھری چلائیں اگر ایسا نہیں ہوا تو ہم قربانی کی روح سے آشنا نہیں ہو سکیں گے۔
خلیل اللہ بننے کے لیے لازم ہے کہ اپنے اسمٰعیل کو ذبیح اللہ بنایا جائے۔
رضوانہ نور



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...