تیری یادیں ہوسٹل کے بوسیدہ کمرے میں مدہم روشنی سی تھی جب تجھ کو پہلی بار دیکھا تھا دیکھ کے تجھ کو اک دھڑکن مدھم ہو کے ابھری دیکھ رہی تھی وارڈن مجھکو ناچار مکھڑے سے تیرے میں نے نظریں پھیری تھیں بعد تعارف ملنا ملانا اک اک لمحہ ہمارا ساتھ بِتانا راتوں کو جی بھر کے اک دوجے کو ستانا ہم جولی اور ہم کلاس تھے ہم پڑھنے کے بہانے ساتھ وقت بتانا میں تھا کچھ شاعرانہ اوراس کا تھا ہر وار قاتلانہ نہ جانے کب دل میرا بن گیا اسکی آنکھوں کا نشانہ انجانے میں اس کا بھی ہم پر جی بھر کے حق جتلانا ہر بات سب سے پہلے رازدانہ مجھے ہی بتانا مجھ سے جو کوئی بھول ہوتی اسکا آسماں سر پے اٹھانا میں تھا انا کا قائل مگر اسکے لیے دل تھا گھائل بُھلا کے خود کو میرا رو رو کے اسکو منانا ناز نخرے پھر اسکا جی بھر اٹھوانا بعد ناراضگی مجھے یہ سمجھانا دیکھ میں ہوں ایسی ہی تم سدا مجھے یوں ہی منانا حق ہے میرا روٹھ جانا فرض ہے تیرا مجھکو منانا جھکا کے نظریں اسکا یوں فرمانا گلے میں ڈال کے باہیں ناز سےاسکاجھوم جانا باتوں باتوں میں اسکا خود کو صرف میری امانت کہلانا بن کہے ہمارا اک دوسرے کا ب...
Check this out for all type of Books, study material, MCQs related all subjects, Notes of all books, CSS, PMs & Motivational quits. All things are present here that can Transform billions of Lives!