نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تیری یادیں

 تیری یادیں ہوسٹل کے بوسیدہ کمرے میں مدہم روشنی سی تھی جب تجھ کو پہلی بار دیکھا تھا دیکھ کے تجھ کو  اک دھڑکن مدھم ہو کے ابھری دیکھ رہی تھی وارڈن مجھکو   ناچار مکھڑے سے تیرے میں نے نظریں پھیری تھیں بعد تعارف ملنا ملانا اک اک لمحہ ہمارا ساتھ بِتانا راتوں کو جی بھر کے  اک دوجے کو ستانا ہم جولی اور ہم کلاس تھے ہم پڑھنے کے بہانے ساتھ وقت بتانا میں تھا کچھ شاعرانہ اوراس کا تھا ہر وار قاتلانہ نہ جانے کب دل میرا  بن گیا اسکی آنکھوں کا نشانہ انجانے میں اس کا بھی ہم پر جی بھر کے حق جتلانا ہر بات سب سے پہلے  رازدانہ مجھے ہی بتانا مجھ سے جو کوئی بھول ہوتی اسکا آسماں سر پے اٹھانا میں تھا انا کا قائل مگر اسکے لیے دل تھا گھائل بُھلا کے خود کو میرا رو رو کے اسکو منانا ناز نخرے پھر اسکا جی بھر اٹھوانا بعد ناراضگی مجھے یہ سمجھانا دیکھ میں ہوں ایسی ہی  تم سدا مجھے یوں ہی منانا حق ہے میرا روٹھ جانا فرض ہے تیرا مجھکو منانا جھکا کے نظریں اسکا یوں فرمانا گلے میں ڈال کے باہیں ناز سےاسکاجھوم جانا باتوں باتوں میں اسکا خود کو صرف میری امانت کہلانا بن کہے ہمارا اک دوسرے کا ب...

دوستی ہماری 💗

 دوستی ہماری 💗 (چشمِ بد بہت دوورر)  کالج کا وہ پہلا دن سب ڈوبے تھے اپنی مستی میں سب تھے اک دوجے سے انجان جھانک رہی تھی کھڑکی سے میں اک لڑکی ہوئی مخل  باتوں باتوں میں گئے ہم بھول  تعارف تو ہے سب سے ضرور یوں وہ بن گئی شناسا اس کو بس آتا تھا مجھے ستانا وہ سب سے گھل مل جاتی تھی میری بس وہی ساتھی تھی میں رہتی تھی خاموش وہ سناتی تھی افسانہ یوں بنا یہ سفر سہانا سر یاسر کا انگلش سمجھانا میرا چھپ کے ناول میں سر چھپانا وہ کہتی تھی تو ہے پاگل رضوانہ میں نے تجھ کو ایک تھپڑ ہے لگانا تھپڑ سے چِڑ تھی مچھ کو مگر اسکو دیکھ کے بس مسکرانا کالج میں مشہور تھا غصہ میرا سب سکھیاں اسکو کہتی تھیں  ہے یہ بہت غصیلی  مسکرا کےاسکا فرمانا کہاں ہے اس میں غصہ  کنٹین پہ وہ نہ جاتی تھی دھکم پیل میں مجھ کو پھنسا آتی تھی عادت ہوئی اک دوسرے کی ایسی کچی سے بن گئی دوستی گہری کالج سے آ کے بھی تھی فون ملاتی اور مجھے اپنی سب باتیں بتاتی ملتی تھی وہ سب سے مسکرا کے بس مجھ کو سناتی دوچار لگا کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر اسکا مجھکو ہر قصہ سنانا تاریخ کی کلاس میں میری حاضری مِس کروانا سر کا عینک میں سے ج...

سانحہ اے پی ایس

 ”سانحہ اے پی ایس“ از قلم : نتاشہ فیاض 16 دسمبر ایک ہولناک اور لرزہ خیز دن جب نوخیز کلیوں کی طرح پروان چڑھتے بچوں کو بے دردی سے موت کی آغوش میں سلا دیا گیا۔ان ننھے پھولوں کی آنکھوں میں جو خواب تھے اور جو سپنے تھے۔ ان خوابوں اور سپنوں کو بھی ہمیشہ لیۓ ان کے ساتھ ہی ابدی نیند سلا دیا گیا۔ 16 دسمبر کی صبح بھی ایک ایسی صبح تھی۔جب ننھے منے بچے گھروں سے اپنے والدین کی دعاٶں کو اپنے سنگ لیۓ اسکول کے لیۓ رخصت ہوٸے۔حسبِ معمول کوٸی کسی بات کی ضد کر کے رویا تو کسی نے اسکول سے چھٹی کرنے کی ضد کی۔لیکن موت کے خوفناک پنجے کے آگے سب بے بس ہو کر اسکول چلے گٸے۔جہاں دل دہلا لینے والا سانحہ پیش آیا۔ سانحہ اے پی ایس میں کٸی افراد نے اپنی جان کی بازی ہار دی اور کٸی افراد اس سانحے میں زخمی ہوٸے۔کٸی اساتذہ اور معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔کٸی ماٶں کی گودوں کو بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اجاڑ دیا گیا۔ ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“ لیکن یہ حملہ کرنے والے ظالم ایک جان کی اہمیت کیا جانیں جنہوں نے کٸی معصوم بچوں کی جان لے لی۔ان حملہ آوروں کو ان معصوم ننھے پھولوں پر رحم نہ آیا۔بھل...

سانحہ پشاور اے پی ایس

سانحہ (APS) پشاور از قلم : وردہ محمد ناصر تحریر: 16 دسمبر شہدا کے نام  16 دسمبر کا دن پاکستانی قوم کبھی نہیں بھولے گی،یہ وہ دن تھا۔ جب سبز ہلالی پرچم معصوم بچوں کے لہو سے و سرخ ہو گیا،درندوں نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں،باپوں سے ان کے لخت جگر،بہنوں سے ان کے بھائی جدا کر دئیے۔ یہ وہ دن تھا جب دہشت گردوں نے قوم کے مستقبل پہ حملہ کیا تھا،یہ وہ دن تھا جب سر زمین پاک پر طلوع ہونے والا سورج بھی اشک یار ہو کر ڈوبا اور شہیدوں کے خون سے لت پت پشاور کی سر زمین کی سرخی ہمیں آج بھی یاد ہے۔ "پھول دیکھے تھے جنازوں پہ ہمیشہ میں نے " کل میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے" 16 دسمبر کو دہشت گردوں کا یہ گمان تھا ،کہ وہ اس بے رحمانہ کارروائی سےہمارے حوصلوں کو پست کردیں گے،لیکن ان کو یہ خبر نہیں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے ہے جو!!!!!          {جڑ سےجبر مٹاتی ہے        ظالم کو مار بھگاتی ہے  ہم موت کو آنکھ دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔} ہم ٹینگو سے کب گھبراتے ہیں ۔ہم توپ سے بھی لڑ جاتے ہیں  اس سانحے نے یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک کے فوجی جوان اور بڑے ہی نہیں، بلکہ ب...

16 December APS

 On 16 December, some stony hearted sapiens crossed all the limits of humanity and stolen the beaminess of emerging stars...  This day brings our souls to deadly piece of land which own some screamings and whispers of condolence...  Another day of failure of humanity...               And   Last day of blessed souls in a dreamy land... #APSAttack  #army  #16December

افسانہ سانحہ اے پی ایس

 ”افسانہ“  از قلم : ”نتاشہ فیاض“ ”خون آلود دسمبر“ دسمبر2021 دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔ہر شے پہ اداسی ڈھیرا جماٸے بیٹھی تھی۔شاید دسمبر نام ہی اداسی کا ہے۔یہ مہینہ جب بھی آتا ہے ہر شے پر اداسی خودبخود چھا جاتی ہے۔  صبح کا  آغاز ہو چکا تھا اور دسمبر شروع ہو چکا تھا تو پشاور میں بھی سردی نے زور پکڑنا شروع کر دیا تھا۔کالونی میں خاموشی کا راج تھا اور ایسی ہی خاموشی کالونی میں موجود ایک گھر میں بھی تھی۔یا یوں کہیے کہ پچھلے کچھ سالوں نے تو اس گھر کے مکینوں کے چہروں سے خوشی اور مسکراہٹ تک جدا کر دی تھی۔ ماضی میں ہوٸے سانحے کے اثرات اب بھی باقی تھے۔انسان کا ماضی چاہے خوشگوار ہو یا غم سے بھر پور انسان ماضی کو نہیں بھول سکتا۔اور یہی مسٹر فرمان اور انکی فیملی کے ساتھ ہوا وہ ماضی میں ہوٸے اس سانحے  اور اس دن کو نہیں بھلا سکے۔بھلا انسان اس سانحے کو کیسے بھول سکتا ہے جو سانحہ اسکے قریبی عزیز کو جدا کرنے کی وجہ بنا ہو۔۔ ماضی میں ان کے ساتھ جو سانحہ درپیش آیا وہ جاننے کے لیۓ آپ کو ماضی کے اس دن میں جھانکنا پڑے گا۔  مسٹر فرمان اپنی مسز زویا اور دو بیٹوں علی اور احد کے...

16 دسمبر کے شہدا کے نام نظم

 ميریےلہوسے پھوٹتی روشنی ميرے قلم کی نوک سے لکھے لفظوں کی روشناٸ بن کر دکھاٸ دے گی ہماری بازگشت بن کر سناٸ دے گی ہمارے  بدن کے پاکيزہ  زخموں سے اک لو جلے گی جہل کی تاريکيوں سے اک رخشندہ پو پھٹے گی فضا سے بارود کی بُو چھٹے گی اے بد بخت کمينوں اے شيطان کے چيلوں تم سب واصلِ جہنم ہو چکے ہو اور ہم سب کا مقدس خون آبِ کوثر سے دھل چکا ہے ہماری درسگاہ  کے دروبام  کی چيخيں جنت کےنغموں کا ساز بن کر آواز بن کر گنگنا رہی ہيں امام حسن و حسين  ہم کو سينے  لگا چکے ہيں اماّں فاطمہ اپنی گودی سلا چکی ہيں رفعت سحر

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

خواب کا دن

 تحریر: خواب کا خون از قلم: عرفان حیدر دسمبر کی یخ بستہ شام تھی۔ چودہ سالہ علی اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ ان کے کمرے مین تھا۔ وہ بچپن سے ہی روزانہ دادی سے ایک کہانی سنتا آرہا تھا۔ اس کی یہ عادت اب تک برقرار تھی۔ آج بھی وہ اپنا ہوم ورک مکمل کرکے کہانی سننے کے لئے دادی کے پاس آیا بیٹھا تھا۔ "دادی آج آپ مجھے کونسی کہانی سنائیں گی؟" علی نے تجسس آمیز لہجے میں اپنی دادی سے پوچھا۔ "بیٹا! آج میں تمھیں ایک سچی کہانی سناتی ہوں۔۔۔۔۔۔" دادا نے پیار سے جواب دیا۔ "جی دادی سنائیں۔۔۔" علی نے پرجوش انداز میں کہا۔ "بیٹا تاریخ اسلام کا ایک ایسا سپہ سالار جسے مجاہدِ اعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ میں بات کررہی ہوں صلاح الدین ایوبی کی جس نے بیت المقدس فتح کیا تھا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ ظالم صلیبیوں نے مسلمانوں کے مقدس شہر پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں موجود مسلمانوں پر کئی ظلم کیے۔ انھوں نے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں، اور ان ندیوں میں مظلوم خواتین اور معصوم بچوں کا خون بھی شامل تھا۔ بعد میں جب سلطان صلاح الدین ایوبی کا دور آیا تو ...

بد نصیب دن

 "سانحہ اے پی ایس" عنوان : بد نصیب دن  از قلم : کنزہ مریم  دن سبھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔صبح سے دوپہر،دوپہر سے شام اور شام سے رات۔۔۔اور پھر اگلے روز کا یہی چکر۔۔۔۔ لیکن دنوں کے بھی نصیب ہوتے ہیں۔۔جیسے ہم انسانوں کے ہوتے ہیں۔۔کبھی اچھا نصیب کبھی برا نصیب۔۔۔اور کبھی بہت ہی برا۔۔۔۔۔اور کبھی اتنا برا۔۔۔اتنا برا۔۔۔کہ انسان لفظوں سے بیان ہی نہ کر سکے اور ساری زندگی۔۔۔اس کی حد ہی نہ ناپ سکے۔۔۔۔16 دسمبر۔۔۔ایک سیاہ دن۔۔۔ہمیں اس سے برا لفظ نہیں ملا۔۔۔اس دن کو بیان کرنے کے لئے۔۔۔اور صرف سیاہ کا لفظ اس برائی اور ظلم کو بیان کرنے کے لئے بہت چھوٹا لفظ ہے۔۔ معصوم فرشتہ صفت بچے۔۔اللہ کے باغ کے پھول۔۔۔ان کے لئے تو چند لمحوں کی قیامت تھی۔۔۔جسے سہہ کر وہ جنت مکین ہو گئے۔۔۔اسکول کا وہ عملہ جو فرض کی ادائیگی میں ڈٹ کر کھڑا رہا۔۔۔وہ سب تو جنت مکین ہوئے۔۔۔۔سرخرو ہوئے۔ہمارے کل" پر اپنا "آج" قربان کر گئے۔۔۔لیکن یہ ظلم۔۔۔۔یہ بھلائے نہ بھولے۔۔یہ فرعونیت جو 16 دسمبر کے نصیب میں لکھی تھی۔۔۔۔اس کی یاد ہر 16 دسمبر کو تازہ ہو جاتی ہے۔ اور وہ والدین جن کے لخت کٹ کٹ کر گرے ان کے لئے ہر سال یہ دن ...

سانحہ پشاور APS

 سانحہ پشاور #(اے پی ایس)  "ہم نہیں بھولے تمہاری قربانی " شہیدوں کے لہو سے رنگے گہرے سیاہ ،سرخی میں لپٹے منجمد جذبات ۔  وہ دن جب ننھی کلیاں ،  درندوں کی وحشت ناک درندگی کا نشانہ بن کر، ماؤں کی گودیں اجاڑ کر ،باپ کی کمر توڑ کر ،کسی بہن کے سر سے بھائی کی حفاظت کا غلاف چھین کر ،کسی بھائی کا بازو فراموش کر کے  شہادت کا جام نوش کرتے   اس دنیا کو خیر آباد کہتی فرشتوں کی بارات کے ساتھ جنّت کی جانب سفر کر چکی تھیں ۔  ننھے پھولو!! ہم تمہیں یاد کرتے ہیں۔ دسمبر  کے آتے ہی رقت طاری ہو جاتا ہے ۔سانس اکھڑنے لگتی ہے ۔مائیں دروازوں سے لگ لگ کر تمھارے آنے کی فریاد کرتی ہیں۔ تمہارا سرخ لہو سے رنگا یونیفارم دیکھتے ہی آنکھیں خون کے آنسوں بہانے لگتی ہیں۔ تمہاری کتابوں پر وفا کے سرخ رنگ کے دھبے روشن مستقبل کا پتہ دینے لگتے ہیں۔  تمہارا ڈاکٹر، انجئینیر ،قوم کا معمار بننے کا خواب ہر منٹ آنکھوں میں ٹوٹے ہوۓ خوابوں کی طرح چھبنے لگتا ہے۔ میرے شہید بھائیوں !!  جب کوئی بہن اپنے بھائی کا سہرا سجاتی ہے تو مجھے تمھارے سینچے خواب ستانے لگتے ہیں۔ ارمان وہی ارمان جو ...

Personality Grooming

Personality Grooming   30Lectures+few bonus sessions, 30days. Starting from st January Certificates + Recorded lectures +selection as a team member. Benefits, of course, You'll learn. Mind Mapping Cv & resume writing Interview skills Job searching Stress management Time Management peace management Deal with Fear Rules of life How to face criticism Personality grooming personal growth your personality Be creative People skills Body language Sense of responsibility Teaching Methodology Active listening Leadership skills and Many More Hurry up Enroll yourself https://wa.me/923177465951

دسمبر

   دسمبر   رضوانہ نور   جولائی ہو دسمبر چاہے نومبر ہر ماہ میں شاد رھتا ہوں ملاقات ہوئی پہلی جب تھا نومبر بچھڑی وہ جب تھا ماہ دسمبر بھلا کے اذیت بچھڑنے کی دلکش ملاقاتیں یاد رکھتا ہوں دسمبر غم نہیں دیتا مجھکو میں دن سہانے یاد رکھتا ہوں جون میں چھاؤں اسکی زلفوں کی دسمبر میں گرمی اسکی باہوں گی یاد آئے کوئی اذیت جو مسکرانے کے بہانے پاس رکھتا ہوں مانا غم ہے  بچھڑنے کا مگر مہینوں کو الزام سے پاک رکھتا ہوں   خزاں کے بے رنگ موسم میں اسکا سنہری آنچل یاد کرتا ہوں ٹھنڈک جب بھی بڑھ جائے تو تپش اسکی ہتھیلی کی یاد کرتا ہوں   تلخی حیات مجھکو جب ستائے چاشنی اسکی باتوں کی یاد رکھتا ہوں میں ہوں نور خوش گماں ہر لمحہ غم سے آزاد رکھتا ہوں رضوانہ نور