تحریر: زمّرد سلطانہ
حقیقت پر مبنی افسانہ
افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر
شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔
نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔
صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔
اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اپنی پسندیدہ اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے ہنسنے لگے۔
آج ہماری استانی کتنی پیاری لگ رہی ہیں؟
پھر اسی وقت استانی جماعت میں داخل ہوتی ہیں۔
مسکراہتے ہوۓ چہرے کے ساتھ بچوں کو سلام کا جواب دے کر حاضری لگاتی ہیں اور لیکچر کا آغاز کرتی ہیں سب بچے اپنے کاموں اور پڑھائی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
دسمبر سے جڑی ہوئی یادیں جہاں سردیوں کے خوشگوار موسم کا احساس دلاتی ہیں وہیں اس مہینے سے منسلک دردناک واقعات دل دہلا دینے والے دل دوز واقعات بھلائے نہیں بھولتے۔
میں صحن میں سرد موسم سے لطف اندود ہوتے ہوئے ٹہل رہی تھی۔
کہ اچانک ماضی کی ان یادوں نے مجھے ایک دم ہلا کر رکھ دیا ۔
7 دسمبر کے پی آئی اے کے طیارہ تباہ ہونے والے واقعے نے دسمبر کو غم ناک بنا دیا۔
16 دسمبر کو ہر سال پاکستان کے حصے مشرقی پاکستان سے علیحدگی کا دکھ تاذہ کرتا ہے۔
16دسمبر2014کو پھولوں کے شہر پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچے اپنے متعلقہ مضامین اساتذہ سے لیکچر لینے میں مصروف تھے کہ اچانک گولیاں چلنے اور اسکول میں دہشت گردوں کی آمد نے سارے ماحول کو وحشت زدہ بنادیا۔
اُستانیاں بچوں کو بچنے کےلیے دہشت گردوں سے بھی نبرد آزما ہوئیں۔
اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اول دستے کا کردار ادا کیا ۔
جب حملہ ہوا تو بچوں کی آہ و بکا نے دِل دہلا دئیے۔
شبانہ رحمان جو ریڈنگ سپتال میں نرس زیر علاج مریضوں کا علاج کر رہی تھیں جب ان تک یہ اطلاع پہنچی تو وہ معصوم بچوں کے چہروں اور جسموں سے بہنے والے خون اور زخموں کو دیکھ کر بے حد دکھی ہوئیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ تمام اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسز اس حادثے سے بے حد دکھی تھے مگر انسانیت کی خدمت اور زخمی مریضوں اور وفات پانے والے بچوں کی لاشوں نے جو زخم دل پر چھوڑے ابھی تک نہیں بھولے۔
وہ معصوم پھول جو ابھی کھِل رہے تھے۔کھلنے سے پہلے مرجھا گئے۔ کل141میں سے134 طالبہ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور 19اسائذہ نے بچوں کو بچاتے ہوۓ اپنی جانیں داؤ پر لگا دیں۔
اس دل دوز واقعے نے مجھے ایسا جھنھوڑا کہ میں اس واقع سے باہر نہیں آ پارہی تھی۔
ہر ماں اپنا لخت جگر ڈھونڈنے میں مصروف تھی اور جن کے سپوت ان سےبچھڑ گئے ہمیشہ کے لیے زخم ہرے کر گئے اور ان والدین کو یوں جوڑ دیا جیسے جوڑنے کا حق تھا۔
وہ اپنے بچوں کی یادوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے اور اپنا دکھ بھلانے کے لیے اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی یادیں آپس میں شئیر کرتے۔
میں انہیں سوچوں میں گم تھی کہ میری ایک طلباء جو مجھ سے پڑھنے آتی تھی۔
دروازے پر دستک دی پھر میں نے چونک کر دروازہ کھولا تو اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ اس دردناک کرب کو بھلانے میں مرہم ثابت ہوا۔
اے پی ایس میں پڑھنے والا طالبعلم بھی میری سر پرستی میں پڑھ رہا تھا ۔اس کا چہرہ بھی وہ روداد بھلانے اور اس پرانی یاد کو پھر سے میرے ذہن ابھار دیتا ہے۔
اب ایک سال بعد معمول سے بچے اپنے اپنے اداروں میں پڑھائی میں محو ہیں۔
صوبہ خیبرپختوخنواہ کا علاقہ پشاور کا وہ مشہور ارادہ اے پی ایس اب پھر سے اپنی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے روشن اور درخشندہ چہرے صلاحیتوں کے ساتھ نکھارنے میں محو عمل ہے۔
اور اقبال کے اس شعرکی عکاسی کرتا ہے
اٹھ کے اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے۔
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
پھر میں بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہوگئی۔ لیکن آج بھی وہ دن سیاہ دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔وہ معصوم چہرے اور ان کے والدین وہ دن بھلائے نہیں بھولتے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں