دوستی ہماری 💗 (چشمِ بد بہت دوورر)
کالج کا وہ پہلا دن
سب ڈوبے تھے اپنی مستی میں
سب تھے اک دوجے سے انجان
جھانک رہی تھی کھڑکی سے میں
اک لڑکی ہوئی مخل
باتوں باتوں میں گئے ہم بھول
تعارف تو ہے سب سے ضرور
یوں وہ بن گئی شناسا
اس کو بس آتا تھا مجھے ستانا
وہ سب سے گھل مل جاتی تھی
میری بس وہی ساتھی تھی
میں رہتی تھی خاموش
وہ سناتی تھی افسانہ
یوں بنا یہ سفر سہانا
سر یاسر کا انگلش سمجھانا
میرا چھپ کے ناول میں سر چھپانا
وہ کہتی تھی تو ہے پاگل رضوانہ
میں نے تجھ کو ایک تھپڑ ہے لگانا
تھپڑ سے چِڑ تھی مچھ کو
مگر اسکو دیکھ کے بس مسکرانا
کالج میں مشہور تھا غصہ میرا
سب سکھیاں اسکو کہتی تھیں
ہے یہ بہت غصیلی
مسکرا کےاسکا فرمانا
کہاں ہے اس میں غصہ
کنٹین پہ وہ نہ جاتی تھی
دھکم پیل میں مجھ کو پھنسا آتی تھی
عادت ہوئی اک دوسرے کی ایسی
کچی سے بن گئی دوستی گہری
کالج سے آ کے بھی تھی فون ملاتی
اور مجھے اپنی سب باتیں بتاتی
ملتی تھی وہ سب سے مسکرا کے
بس مجھ کو سناتی دوچار لگا کے
گراؤنڈ میں بیٹھ کر اسکا
مجھکو ہر قصہ سنانا
تاریخ کی کلاس میں
میری حاضری مِس کروانا
سر کا عینک میں سے جھانک کے فرمانا
بیٹا ادھر تشریف لانا
غصے میں بھی مسکرا کے کہنا
بیٹا جب کبھی ہو سالن پکانا
بن مرچ ڈالے اپنی انگلی ہلانا
تب سے اسکا مجھ کو
مرچ کی دکان بلانا
وہ دوستی ہماری
تھی دل و جاں سے پیاری
یوں امتحانات کا نزدیک آنا
رول نمبر اسکا میرے سے دور آنا
سالوں بیت گئے مگر
نہ بدلا انداز اسکا پرانہ
کچھ نشیب و فراز آئے تھے مگر
وفا سے اپنی انکو بھگایا
دوستی نے اسکی دل میں میرے
اک جال ہے بسایا
رگوں کی جگہ پیار اسکا سمایا
ویسے تو اب ہم لڑتے بہت ہیں
پیار مگر اب بھی کرتے بہت ہیں
پیاری ہے وہ مجھکو اتنی
چھیڑے جو کوئی اسکو
بنا دوں میں اسکی چٹنی
ہے مگر وہ سانپوں کی سردار
زہر ہے اس میں بے شمار
کرتی ہے مجھکو روز خبردار
میں ہو جاؤں جو ذرا مصروف
چڑھ جاتا ہے اسکو غضیلہ بخار
مجھکو ستانے کا
ہر روز ڈھونڈتی ہے نیا بہانہ
اے خدا یوں ہی سدا
چلتا رہے ہمارا یہ دوستانہ
نور کو آتی ہے بس وفاداری
وہ بھی تو ہے قرۃالعین پیاری
رضوانہ نور
نومبر30,2021
12:12Am
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں