دسمبر
رضوانہ نور
جولائی ہو دسمبر چاہے نومبر
ہر ماہ میں شاد رھتا ہوں
ملاقات ہوئی پہلی جب تھا نومبر
بچھڑی وہ جب تھا ماہ دسمبر
بھلا کے اذیت بچھڑنے کی
دلکش ملاقاتیں یاد رکھتا ہوں
دسمبر غم نہیں دیتا مجھکو
میں دن سہانے یاد رکھتا ہوں
جون میں چھاؤں اسکی زلفوں کی
دسمبر میں گرمی اسکی باہوں گی
یاد آئے کوئی اذیت جو
مسکرانے کے بہانے پاس رکھتا ہوں
مانا غم ہے بچھڑنے کا مگر
مہینوں کو الزام سے پاک رکھتا ہوں
خزاں کے بے رنگ موسم میں
اسکا سنہری آنچل یاد کرتا ہوں
ٹھنڈک جب بھی بڑھ جائے تو
تپش اسکی ہتھیلی کی یاد کرتا ہوں
تلخی حیات مجھکو جب ستائے
چاشنی اسکی باتوں کی یاد رکھتا ہوں
میں ہوں نور خوش گماں
ہر لمحہ غم سے آزاد رکھتا ہوں
رضوانہ نور
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں