نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

افسانہ سانحہ اے پی ایس

 ”افسانہ“

 از قلم : ”نتاشہ فیاض“

”خون آلود دسمبر“

دسمبر2021

دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔ہر شے پہ اداسی ڈھیرا جماٸے بیٹھی تھی۔شاید دسمبر نام ہی اداسی کا ہے۔یہ مہینہ جب بھی آتا ہے ہر شے پر اداسی خودبخود چھا جاتی ہے۔ 


صبح کا  آغاز ہو چکا تھا اور دسمبر شروع ہو چکا تھا تو پشاور میں بھی سردی نے زور پکڑنا شروع کر دیا تھا۔کالونی میں خاموشی کا راج تھا اور ایسی ہی خاموشی کالونی میں موجود ایک گھر میں بھی تھی۔یا یوں کہیے کہ پچھلے کچھ سالوں نے تو اس گھر کے مکینوں کے چہروں سے خوشی اور مسکراہٹ تک جدا کر دی تھی۔ ماضی میں ہوٸے سانحے کے اثرات اب بھی باقی تھے۔انسان کا ماضی چاہے خوشگوار ہو یا غم سے بھر پور انسان ماضی کو نہیں بھول سکتا۔اور یہی مسٹر فرمان اور انکی فیملی کے ساتھ ہوا وہ ماضی میں ہوٸے اس سانحے  اور اس دن کو نہیں بھلا سکے۔بھلا انسان اس سانحے کو کیسے بھول سکتا ہے جو سانحہ اسکے قریبی عزیز کو جدا کرنے کی وجہ بنا ہو۔۔


ماضی میں ان کے ساتھ جو سانحہ درپیش آیا وہ جاننے کے لیۓ آپ کو ماضی کے اس دن میں جھانکنا پڑے گا۔ 


مسٹر فرمان اپنی مسز زویا اور دو بیٹوں علی اور احد کے ساتھ پشاور کے خوبصورت شہر میں مقیم تھے۔ان کے دونوں بچے آرمی پبلک اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔


”ماضی“

16 دسمبر2014


دسمبر کے مہینے کے اختتام میں کچھ ہی دن باقی تھے۔اداسی نے ہر شے پر ڈھیرا ڈال رکھا تھا۔ اس بار تو دسمبر کے تیور بھی پہلے کی نسبت سرد تھے۔


صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ مسٹر فرمان اپنے دفتر روانہ ہو چکے تھے جبکہ زویا نےدونوں بیٹوں کو ناشتہ کروا کے اسکول روانہ کیا اور خود گھر کے کام نپٹانے میں مصروف ہو گٸی۔ان کا دل اندر سے بہت اداس تھا جیسے کچھ برا ہونے والا تھا۔


زویا کام نپٹا کر جیسے ہی لاٶنج میں داخل ہوٸی انکو فون کی گھنٹی سناٸی دی۔تو انہوں نے فون اٹھایا تو  فون کے دوسری جانب موجود اپنی سہیلی کی پریشان اور آنسوٶں میں بھیگی آواز سناٸی دی اور جو کچھ اسنے کہا اسکو سن کر فون زویا کے ہاتھ سے گرگیا۔انکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ان کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کریں۔ انکے دماغ میں فوراً فرمان صاحب کا خیال آیا تو انکو کال ملاٸی لیکن انہوں نے کال رسیو نہ کی۔تو زویا نے ٹی وی آن کیا۔جہاں نیوز میں پشاور آرمی پبلک اسکول پہ دہشتگردوں کے حملے کی خبر بتاٸی جا رہی تھی۔اتنے میں پریشان حال مسٹر فرمان بھی گھر تشریف لا چکے تھے انکی حالت بھی زویا سے مختلف نہ تھی۔انہوں نے زویا کو اپنے ساتھ لیااور اسکول کی طرف جانے کے لیۓ نکل پڑے۔


16دسمبر کی صبح اب شام میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اور 16 دسمبر کا یہ دن مسٹر فرمان کے خاندان اور ان کے جیسے کٸی خاندانوں  پر قیامت بن کے ٹوٹا تھا۔دسمبر کٸی معصوم پھول جیسے بچوں کے خون سے آلود ہو چکا تھا۔

زویا کا لاڈلہ بیٹا علی اس سانحے میں شہید ہو چکا تھا۔جبکہ احد کو معمولی سی چوٹیں آٸیں تھیں۔والدین کے لیۓ ان کے بیٹے کا یوں اچانک چلے جانا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔


حملہ آوروں کو ان معصوم بچوں پر ذرا رحم نہ آیا۔انہوں نے کتنی ماٶں کی گودوں کو بے دردی سے اجاڑ دیا۔لیکن الله ایک مخصوص وقت تک ہی ظالم لوگوں کی رسی دراز کرتا ہے۔پھر جب ایسے ظالم لوگوں کی پکڑ شروع ہوتی ہے تو انکو تو چھپنے کے لیۓ جگہ بھی نہیں ملتی۔


”حال“

دسمبر 2021


زویا علی کی فریم شدہ تصویر لیۓ بچوں کے کمرے میں بیٹھی تھی اور انکی آنکھوں سےآنسو رواں تھے۔اس سانحے کو کٸی سال گزر چکے تھے لیکن ان کے لیۓ تو جیسے کل کی بات ہو۔ماٸیں اپنے بچوں کو کیسے بھلا سکتی ہیں اور وہ تو تھا بھی ان کا لاڈلہ۔زویا کو اب بھی یاد تھا اس دن ان کے لاڈلے بیٹے  نے ان سے سکول نہ جانے کی کتنی ضد کی تھی ۔لیکن زویا نے اسکو  زبردستی بھیجا تھا۔زویا وہ وقت یاد کرتی تو سوچتی کہ کاش میں نے اپنے لاڈلے کی بات مانی ہوتی۔لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہر حال میں ہو کر رہتا ہےاسکو کوٸی بھی نہیں ٹال سکتا۔

وقت انکے لیۓ مرہم تو نہیں ثابت ہوا لیکن تھوڑا بہت ٹھہراٶ ضرور آ گیا تھا انکی زندگی میں۔علی کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا تھا اسکو کوٸی نہیں بھر سکتا تھا۔زویا کو اب جینا تھا اپنے لاڈلے کے بغیر۔ علی تو چلا گیا تھا زویا کو جینا تھا احد کے لیۓ ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...