نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سانحہ اے پی ایس

 ”سانحہ اے پی ایس“


از قلم : نتاشہ فیاض


16 دسمبر ایک ہولناک اور لرزہ خیز دن جب نوخیز کلیوں کی طرح پروان چڑھتے بچوں کو بے دردی سے موت کی آغوش میں سلا دیا گیا۔ان ننھے پھولوں کی آنکھوں میں جو خواب تھے اور جو سپنے تھے۔ ان خوابوں اور سپنوں کو بھی ہمیشہ لیۓ ان کے ساتھ ہی ابدی نیند سلا دیا گیا۔


16 دسمبر کی صبح بھی ایک ایسی صبح تھی۔جب ننھے منے بچے گھروں سے اپنے والدین کی دعاٶں کو اپنے سنگ لیۓ اسکول کے لیۓ رخصت ہوٸے۔حسبِ معمول کوٸی کسی بات کی ضد کر کے رویا تو کسی نے اسکول سے چھٹی کرنے کی ضد کی۔لیکن موت کے خوفناک پنجے کے آگے سب بے بس ہو کر اسکول چلے گٸے۔جہاں دل دہلا لینے والا سانحہ پیش آیا۔


سانحہ اے پی ایس میں کٸی افراد نے اپنی جان کی بازی ہار دی اور کٸی افراد اس سانحے میں زخمی ہوٸے۔کٸی اساتذہ اور معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔کٸی ماٶں کی گودوں کو بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اجاڑ دیا گیا۔


”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“

لیکن یہ حملہ کرنے والے ظالم ایک جان کی اہمیت کیا جانیں جنہوں نے کٸی معصوم بچوں کی جان لے لی۔ان حملہ آوروں کو ان معصوم ننھے پھولوں پر رحم نہ آیا۔بھلا ظالم کو بھی کبھی کسی پر رحم آیا ہے،بھلا ظالم نے بھی کسی کے ساتھ بھلاٸی کی ہے۔تو پھر ان بے رحموں کو کیسے ان معصوم بچوں پہ رحم آ سکتا تھا۔

لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ہر فرعون کے لیۓ موسیٰ ہوتا ہے۔ اور پھر جب ایسے ظالم لوگوں کی پکڑ شروع ہوتی ہے تو ان کو کٸی پر بھی جاٸےپناہ نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...