نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تیری یادیں

 تیری یادیں


ہوسٹل کے بوسیدہ کمرے میں

مدہم روشنی سی تھی

جب تجھ کو پہلی بار دیکھا تھا

دیکھ کے تجھ کو 

اک دھڑکن مدھم ہو کے ابھری

دیکھ رہی تھی وارڈن مجھکو  

ناچار مکھڑے سے تیرے

میں نے نظریں پھیری تھیں

بعد تعارف ملنا ملانا

اک اک لمحہ ہمارا ساتھ بِتانا

راتوں کو جی بھر کے

 اک دوجے کو ستانا

ہم جولی اور ہم کلاس تھے ہم پڑھنے کے بہانے ساتھ وقت بتانا

میں تھا کچھ شاعرانہ

اوراس کا تھا ہر وار قاتلانہ

نہ جانے کب دل میرا 

بن گیا اسکی آنکھوں کا نشانہ

انجانے میں اس کا بھی ہم پر

جی بھر کے حق جتلانا

ہر بات سب سے پہلے 

رازدانہ مجھے ہی بتانا

مجھ سے جو کوئی بھول ہوتی

اسکا آسماں سر پے اٹھانا

میں تھا انا کا قائل مگر

اسکے لیے دل تھا گھائل

بُھلا کے خود کو

میرا رو رو کے اسکو منانا

ناز نخرے پھر اسکا جی بھر اٹھوانا

بعد ناراضگی مجھے یہ سمجھانا

دیکھ میں ہوں ایسی ہی 

تم سدا مجھے یوں ہی منانا

حق ہے میرا روٹھ جانا

فرض ہے تیرا مجھکو منانا

جھکا کے نظریں اسکا یوں فرمانا

گلے میں ڈال کے باہیں ناز سےاسکاجھوم جانا

باتوں باتوں میں اسکا خود کو

صرف میری امانت کہلانا

بن کہے ہمارا اک دوسرے کا بن جانا

ہے یاد مجھے وہ دور سہانا

جب دل تھا انجانا

اتوار کو گھر جانے سے پہلے 

آنکھوں میں آنسو بھر آنا

واپسی پر اسکا شرارت سے 

نظریں ملانا

یاد میری آئی تھی نہ آپکو جاناں

اقرار پر میرے بے فکری سےاسکا مسکرا کے سر کو ہاں میں ہلانا 

آسیر تھامیں انہی اداؤں کا

کچھ دل تھا اسکا بھی دیوانہ

عشق میں وہ دیوانی سی

تھی کہتی اک پل بھی دورنہ جانا

چند کھڑیاں بھی اسکا میرے بن نہ بتانا

میں جو رابطہ کرتا کسی سے

بن محسوس کروائے اداس اسکا ہو جانا

میرا تڑپ کے اسکو سمجھانا

جاناں میری جسم و روح میں

ہے بس آپ کا ٹھکانا

سن کے اقرار میرا اسکاکُھل کے مسکرانا

پسند میری کے پہن کے کپڑے

 ڈھل کر رنگ میں میرے

اسکا مجھکو دیکھانا

وہ تھی نازک نازنیں پیکر حسیں

کہتی تھی پیار سے رانجھا مجھکو

میرا بھی اسکو پیار سے ہیر بلانا

سب دوستوں کا اسے میرے نام سے ستانا

جھکا کے نظریں اسکا شرمانا 

اسے عشق تھا غضب مجھ سے

مگر نہ آتا تھا اسکو بتانا

خاموش لبوں بولتی آنکھوں سے

پڑھایا مجھے عشق کا فسانہ

ہے یاد مجھے آج بھی وہ وقت سہانا

جو بیتا تیرے ساتھ اک زمانہ

میں آج بھی ہوں بس تیرا دیوانہ

تو ہیر میری ہے کہاں بتا ناں

میں ہوں تیرا رانجھا دیوانہ

تو ہی ہے نور کا عشق

کل سامنے تھی آج ہے غائبانہ

رضوانہ نور..




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...