نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بد نصیب دن

 "سانحہ اے پی ایس"

عنوان : بد نصیب دن 

از قلم : کنزہ مریم 


دن سبھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔صبح سے دوپہر،دوپہر سے شام اور شام سے رات۔۔۔اور پھر اگلے روز کا یہی چکر۔۔۔۔

لیکن دنوں کے بھی نصیب ہوتے ہیں۔۔جیسے ہم انسانوں کے ہوتے ہیں۔۔کبھی اچھا نصیب کبھی برا نصیب۔۔۔اور کبھی بہت ہی برا۔۔۔۔۔اور کبھی اتنا برا۔۔۔اتنا برا۔۔۔کہ انسان لفظوں سے بیان ہی نہ کر سکے اور ساری زندگی۔۔۔اس کی حد ہی نہ ناپ سکے۔۔۔۔16 دسمبر۔۔۔ایک سیاہ دن۔۔۔ہمیں اس سے برا لفظ نہیں ملا۔۔۔اس دن کو بیان کرنے کے لئے۔۔۔اور صرف سیاہ کا لفظ اس برائی اور ظلم کو بیان کرنے کے لئے بہت چھوٹا لفظ ہے۔۔

معصوم فرشتہ صفت بچے۔۔اللہ کے باغ کے پھول۔۔۔ان کے لئے تو چند لمحوں کی قیامت تھی۔۔۔جسے سہہ کر وہ جنت مکین ہو گئے۔۔۔اسکول کا وہ عملہ جو فرض کی ادائیگی میں ڈٹ کر کھڑا رہا۔۔۔وہ سب تو جنت مکین ہوئے۔۔۔۔سرخرو ہوئے۔ہمارے کل" پر اپنا "آج" قربان کر گئے۔۔۔لیکن یہ ظلم۔۔۔۔یہ بھلائے نہ بھولے۔۔یہ فرعونیت جو 16 دسمبر کے نصیب میں لکھی تھی۔۔۔۔اس کی یاد ہر 16 دسمبر کو تازہ ہو جاتی ہے۔

اور وہ والدین جن کے لخت کٹ کٹ کر گرے ان کے لئے ہر سال یہ دن قیامت کی صورت طلوع ہوتا ہے۔۔۔۔

اور باقی سارے دن۔۔۔اپنے ننھے مظلوم شہیدوں کی یاد میں۔۔۔۔ان ماؤں کی تڑپ۔۔۔۔ان کا دکھ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔۔نہ ہی ہم میں حوصلہ۔۔۔اور اہلیت ہے۔۔۔کہ ہم ان کے دلوں کو سکون اور قرار دے سکیں۔۔۔۔۔

افسوس ہے۔۔۔۔بہت افسوس ہے کہ ہم قیامتیں یاد کرنے۔۔۔۔خراج تحسین پیش کر نے کے لئے ہر سال کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔۔ان بد نصیب سیاہ دنوں کو یاد کرتے ہیں مظلوں کے لئے شمعیں جلاتے ہیں اور ظالم پر دل کھول کر لعنت ڈالتے ہیں۔۔۔۔لیکن۔۔۔ہم سیکھتے نہیں ہیں۔۔۔۔کوئی سد باب نہیں کرتے۔۔۔۔کوئی پختہ ارادہ نہیں کرتے کہ ہم کیسے سدھریں اور کیسے سدھاریں۔۔۔کیسے محفوظ رہیں۔۔۔ کچھ نہیں سیکھتے اور کچھ نہیں سمجھتے۔۔

اگر سیکھ لیتے اور سمجھ لیتے تو آج ہم 16 دسمبر جیسے سیاہ دنوں کو نہ رو رہے ہوتے۔۔۔اتنی ماؤں کے کلیجے خون نہ ہوئے ہوتے۔۔۔

وقت تو اب بھی اپنا ہے۔۔۔آنے والے دن بھی وہی ہیں۔۔۔ویسا ہی چکر۔۔۔دن سے رات۔۔۔یہ قدرت کا چکر نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔لیکن ان دنوں کا نصیب لکھا جا سکتا ہے۔۔روشن۔۔۔اور خوش۔۔۔تو وہ ایسے لکھ لیں کہ آج اگر ہمیں سیاہ دنوں کی سیاہی بیان کرنے کو الفاظ نہیں ملتے۔۔۔تو کل ان دنوں کی خوشی اور روشنی بیان کرنے کو ہمیں تمام روشن الفاظ کم اور چھوٹے لگنے لگیں۔۔۔

اللہ تعالی ہمیں یہ سب سیکھنے ،سمجھنے اور ایسے عمل کرنے کی توفیق دیں۔۔جو سیاہ دنوں کی تاریخ نہیں روشن اور اجلی کامیابیوں کی داستانیں بنیں(آمین )

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...