نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سانحہ پشاور APS

 سانحہ پشاور #(اے پی ایس) 

"ہم نہیں بھولے تمہاری قربانی "


شہیدوں کے لہو سے رنگے گہرے سیاہ ،سرخی میں لپٹے منجمد جذبات ۔ 

وہ دن جب ننھی کلیاں ، 

درندوں کی وحشت ناک درندگی کا نشانہ بن کر، ماؤں کی گودیں اجاڑ کر ،باپ کی کمر توڑ کر ،کسی بہن کے سر سے بھائی کی حفاظت کا غلاف چھین کر ،کسی بھائی کا بازو فراموش کر کے 

شہادت کا جام نوش کرتے 

 اس دنیا کو خیر آباد کہتی فرشتوں کی بارات کے ساتھ جنّت کی جانب سفر کر چکی تھیں ۔ 

ننھے پھولو!! ہم تمہیں یاد کرتے ہیں۔ دسمبر  کے آتے ہی رقت طاری ہو جاتا ہے ۔سانس اکھڑنے لگتی ہے ۔مائیں دروازوں سے لگ لگ کر تمھارے آنے کی فریاد کرتی ہیں۔ تمہارا سرخ لہو سے رنگا یونیفارم دیکھتے ہی آنکھیں خون کے آنسوں بہانے لگتی ہیں۔ تمہاری کتابوں پر وفا کے سرخ رنگ کے دھبے روشن مستقبل کا پتہ دینے لگتے ہیں۔ 

تمہارا ڈاکٹر، انجئینیر ،قوم کا معمار بننے کا خواب ہر منٹ آنکھوں میں ٹوٹے ہوۓ خوابوں کی طرح چھبنے لگتا ہے۔

میرے شہید بھائیوں !! 

جب کوئی بہن اپنے بھائی کا سہرا سجاتی ہے تو مجھے تمھارے سینچے خواب ستانے لگتے ہیں۔ ارمان وہی ارمان جو میرے سینے میں دفن ہو چکے ہیں۔ 

مجھے خبر ہے کے تم اب کبھی نہیں لوٹو گے ۔تم وہاں جا پہنچے جہاں سے کوئی کبھی لوٹ کر نہیں آیا ۔ہاں مگر تم امر ہوگئے آب حیات کی طرح ۔

تم ہمارے بہادر شیر ( گولیوں کو سینہ تان کر کھانے والے شہداء ) ہو ۔ وہ ولید ہو جو منہ پر 6 گولیاں کھا کر کہتا ہے یہ نشان میرے لئے اعزاز ہیں اور میں ان پر فخر کرتا ہوں۔ 

سنو !! تم نے اپنے خون سے وہ داستاں تحریر کی ہے ، بہادری کی وہ مثال قایم کی ، صبر عظیم کی بنیاد رکھی ، جس پر چلتے ہم دشمن کا تختہ الٹ دیں گے۔ کوئی ہمیں للکارے گا تو تم اسکی آنکھوں کے سامنے جرآت و استقامت کی خوف سے بھری تصویر کی طرح گردش کرنے لگو گے ۔ سنو !! شہیدوں ،

نہیں بھولے وہ دن ابھی تک جو  نقش ہے آنکھوں میں 

ننھی لاشوں کے كفن تھامے تھیں مائیں اپنے ہاتھوں میں 

وہ منظر ، جب خون کی ہولی کھیلی گئی چاروں جانب 

آج بھی تازہ ہوجاتا ہے اسکول کی دهاڑیں مارتی بنیادوں میں

یہ قیامت جو اتری تھی زمینِ پشاور پر 

وہ صدا گلی گلی ،کوچا کوچا ،گونجتی ہے آشیانوں میں

تم زندہ ہو اے میرے وطن کے شہیدوں 

تمہارا نام رہے گا تاحیات کبھی نہ مٹنے والی کتابوں میں


✍🏻سائرہ عباس




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...