نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خواب کا دن

 تحریر: خواب کا خون

از قلم: عرفان حیدر


دسمبر کی یخ بستہ شام تھی۔ چودہ سالہ علی اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ ان کے کمرے مین تھا۔ وہ بچپن سے ہی روزانہ دادی سے ایک کہانی سنتا آرہا تھا۔ اس کی یہ عادت اب تک برقرار تھی۔ آج بھی وہ اپنا ہوم ورک مکمل کرکے کہانی سننے کے لئے دادی کے پاس آیا بیٹھا تھا۔

"دادی آج آپ مجھے کونسی کہانی سنائیں گی؟" علی نے تجسس آمیز لہجے میں اپنی دادی سے پوچھا۔

"بیٹا! آج میں تمھیں ایک سچی کہانی سناتی ہوں۔۔۔۔۔۔" دادا نے پیار سے جواب دیا۔

"جی دادی سنائیں۔۔۔" علی نے پرجوش انداز میں کہا۔

"بیٹا تاریخ اسلام کا ایک ایسا سپہ سالار جسے مجاہدِ اعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ میں بات کررہی ہوں صلاح الدین ایوبی کی جس نے بیت المقدس فتح کیا تھا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ ظالم صلیبیوں نے مسلمانوں کے مقدس شہر پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں موجود مسلمانوں پر کئی ظلم کیے۔ انھوں نے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں، اور ان ندیوں میں مظلوم خواتین اور معصوم بچوں کا خون بھی شامل تھا۔ بعد میں جب سلطان صلاح الدین ایوبی کا دور آیا تو انھوں نے مسلمانوں کے اس مقدس شہر کو فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ سلطان صلاح الدین نے اپنے وفادار لشکر کے ساتھ بیت المقدس کا رخ کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے نوازا۔ یوں صلیبیوں کے بیت المقدس پر قبضے کے اٹھاسی سال بعد مسلمانوں نے اسے دوباہ فتح کرلیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی سے بیت المقدس میں رہنے والے صلیبیوں نے رحم کی درخواست کی۔ سلطان نے سنت رسولﷺ پر چلتے ہوئے رضائے الہٰی کیلئے وہاں رہنے والے تمام صلیبیوں کو آزاد کردیا۔ جس وجہ سے آج تک مغربی لوگ بھی سلطان کے رحم کے گواہ ہیں۔" دادی نے اسے کہانی سنائی اور علی نے ہمہ تن گوش ہوکر سنی۔

"دادی جان! لیکن اب تو بیت المقدس کافروں کے قبضے میں ہے، یہ کیسے ہوا؟" علی نے پوچھا۔

"بیٹا! گزشتہ صدی کے آغاز میں جب خلافت عثمانیہ کو ختم کیا گیا تو مغربی ممالک نے اس خطے کو اپنے قبضے میں لے لیا، اب ایک صدی ہونے کو ہے لیکن آج تک وہاں موجود مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے۔" دادی نے غم زدہ لہجے میں بتایا۔

"دادی جان! میں بھی صلاح الدین ایوبی کی طرح مسلمانوں کا ہمدرد بنوں گا، انھیں ظالموں سے بچاؤں گا اوربیت المقدس کو فتح کروں گا۔" علی نے پرعزم انداز اور نم آنکھوں کے ساتھ باعتماد آواز میں کہا۔

●

"اللہ حافظ امی! اللہ حافظ دادی!" علی یہ کہہ کر اپنے ابو کے ساتھ سکول کیلئے روانہ ہوا۔ اس کے دل میں ایک آگ بھڑک چکی تھی اور وہ آگ تھی بیت المقدس کو فتح کرنے کی۔ اس نے اس آگ کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا تھا۔

●

"بچوں آپ سب اپنا ہوم ورک چیک کروائیں۔" مس فوزیہ نے کلاس میں موجود بچوں سے کہا۔

"کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے ورنہ۔۔۔۔۔" ایک نقاب پوش کمرہ جماعت میں تیزی سے داخل ہوا اور اپنی بندوق کا رخ مس فوزیہ پر کرتے ہوئے گرج دار آواز میں بولا۔

یہ دیکھتے ہی کلاس میں موجود تمام بچے زور زور سے چیخنے اور چلانے لگے۔ ان کی چیخوں کی آواز سے پہلے ہی سکول کی عمارت میں فائرنگ کی آواز بلند ہوچکی تھی۔ مس فوزیہ بھی سہم چکی تھیں۔ اس نقاب پوش نے مس فوزیہ پر اپنی بندوق کا نشانہ باندھا اور ٹریگر پر گرفت مضبوط کرلی۔ علی جو کہ پہلے بینچ پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں پین تھا۔ نقاب پوش کو مس فوزیہ کی طرف بڑھتا دیکھ کر اس نے اپنے ڈیسک پر پاؤں رکھتے ہوئے، نقاب پوش کی طرف چھلانگ لگائی۔ علی نے اسے جکڑ لیا اور اس کے کان کے نیچے پین کی نب چبھا دی۔ نقاب پوش کے منہ سے ایک درد ناک چیخ نکلی اور اس نے علی کو ایک طرف پھینکا اور فائرنگ شروع کی۔ نقاب پوش نے علی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کردیا اور اس نے جام شہادت نوش کرلیا۔

●

"اس وقت کون آگیا؟" علی کے ابو نے دروازے کی دستک سنی تو یہ بڑبراتے ہوئے اٹھے۔

"السلام علیکم سر!" علی کے ابو نے دروازہ کھولا تو سامنے دو فوجی جوان موجود تھے جن میں سے ایک نے کہا۔

"وعلیکم السلام!" علی کے ابو نے حیرانگی سے سلام کا جواب دیا۔

    "سر آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے۔ آپ کا بیٹا علی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکا ہے۔ اس نے اپنی استانی کو بچانے کیلئے بہادری کی عظیم مثال قائم کردی ہے۔ ہم آپ کو اور آپ کے بچے کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں۔" ایک فوجی نے جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ کہا اور پھر ان دونوں جوانوں نے علی کے ابو کو سلیوٹ کیا۔

ختم شد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...