ميریےلہوسے پھوٹتی روشنی
ميرے قلم کی نوک سے لکھے لفظوں کی روشناٸ بن کر
دکھاٸ دے گی
ہماری بازگشت بن کر
سناٸ دے گی
ہمارے بدن کے پاکيزہ
زخموں سے اک لو جلے گی
جہل کی تاريکيوں سے
اک رخشندہ پو پھٹے گی
فضا سے بارود کی بُو چھٹے گی
اے بد بخت کمينوں
اے شيطان کے چيلوں
تم سب واصلِ جہنم ہو چکے ہو
اور ہم سب کا مقدس خون
آبِ کوثر سے دھل چکا ہے
ہماری درسگاہ کے دروبام
کی چيخيں
جنت کےنغموں کا ساز بن کر
آواز بن کر
گنگنا رہی ہيں
امام حسن و حسين ہم کو سينے
لگا چکے ہيں
اماّں فاطمہ اپنی گودی سلا چکی ہيں
رفعت سحر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں