نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Writing Competition

صدائے قلب


پاکستان مینٹور کمیونٹی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر سے معاشرے کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ ہم آپ تمام معزز لکھاری حضرات سے بہترین تعاون کی امید رکھتے ہیں۔

ہمیں اپنے دل کی کہانی بتائیے وہ کہانی جسے آج تک آپ کے لبوں کی قید سے آزادی نہ مل سکی لیکن آپ کے دل کا زخم بنتی گئیں. 

وہ کہانی کوئی بھی ہو سکتی ہے. کسی طرح کی بھی اندرونی تکلیف ہو سکتی ہے. 

 ڈپریشن، خاندانی مسائل، ذاتی خیالات، رشتہ داروں کی بہتان بازی، والدین کی بے اعتباری، بن پوچھے ہوئی شادی کا بوجھ، جنس پر مبنی تشدد یا کسی اور چیز کے بارے میں جس نے آپ کے اندر کے ہنستے کھیلتے انسان کو قتل کر دیا۔ 

ایک بار اپنے لفظوں کو آزاد ضرور کیجئے ایک بار درد دل کو کھول دیجئے

کہانی لکھتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے مثبت الفاظ کا انتخاب کیجئے اور کہانی مکمل ہونے پر آخر میں جامع انداز میں بتایا جائے کہ  جو بھی مسائل رہے ہوں ان سے آپ نے کس طرح نجات حاصل کی اور اب آپ اپنی زندگی کے کون مقام پر ہیں۔ قارئین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے۔ 

 ہو سکتا ہے آپ کی تحریر ہی ہمارے معاشرے کے لیے تبدیلی کا باعث بنے اور اُس سوچ کا خاتمہ کر سکے جو ہمارے نوجوانوں کے وقار اور مسکراہٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

 اگر آپ چاہیں تو: ہم آپ کا نام اور مکمل شناخت چھپائیں گے اور آپ کی کہانی شائع کریں گے، اس کے لیے کوئی چارجز درکار نہیں۔


 کتاب مکمل ہونے پر اگر آپ  ضرورت محسوس کریں تو آپ ہارڈ کاپی خرید سکتے ہیں ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہو گا ان شاءاللہ.


شرائط:

 کہانی سچ پر مبنی ہو

 1000 الفاظ سے زائد نہ ہو 

 کہانی کو عنوان لازمی دیا جائے کہانی لفظی غلطیوں سے پاک ہوhttps://wa.me/+923177465951

Email:  pakistanmentorcommunuty@gmail.com





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...