Thesis after viva...
جب اس ملک میں پڑھے لکھوں کا ، محنت کرنے والوں کا یہ حال ہونا ہے تو ہر طرف آجا آ جا اور پاوا لاوا کی صدائیں ہی آئیں گی۔
اسی کا انجام تھا کے سروے میں 60فی صد پاکستانی پہلی فرصت میں یہاں سے کسی اور جگہ چلے جانا چاہتے ہیں۔ لاکھوں فیسیں لینے کے بعد ریسرچ کے نام پر 20 نمبر کی اسائنمنٹ دے کر پروفیسرز 10 منٹ میں 75 بچوں کو A سے D تک گریڈز دے کر ہاتھ جھاڑ کر یہ جا وہ جا ۔
اور جب تھیسز جمع کروایا جاتا ہے یا تو آگ لگا کر سیک لیتے ہیں یا دکانداروں کے ساتھ مل کر بیچ کر چائے کے پیسے بنا لیتے ہیں (حلال سے پیٹ نہیں بھرتا حرام لازم ہے) اور جو ایمانداری سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس ملک میں اکثر وہ سرعام قتل کر دیئے جاتے ہیں یا کرپشن کا الزام لگ جاتا ہے یا اللہ کو بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہیں یہ کہہ کر ایکسیڈنٹ کروا دیا جاتا یا ہو جاتا ہے اور موقع پر ہی روح خالق حقیقی سے مل جاتی ہے۔
"ہمارے ایک بہت قابل استاد محترم فرمایا کرتے تھے ہمارا محکمہ بہت بد بودار ہو چکا ہے بہت گندہ ۔بچے اگر آپ دیکھو تو گندی نالی کے کیڑوں کی طرح ہم سے بدبو آئے گی آپ کو۔"
اس وقت میں سوچتی تھی بھلا استاد کو ایسا کہتے ہیں۔ لیکن وقت نے ان کی باتیں سچ ثابت کر دی۔ چند اچھے لوگ ہیں لیکن ان کی قدروقیمت کون جانے۔
ابھی تو 1لاکھ سے زائد ملک چھوڑ کر گئے ہیں یہ آغاز تھا انجام دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
●ہر پاسے لاوے تے پاوے ہی نظر آنے نیں●
یہ سب حالات دیکھ کر پڑھائی سے زیادہ ناچ گانے کی طرف ترغیب ملتی ہے ۔ ہم اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو کیا کہہ کر پڑھائیوں کی طرف لائیں سمجھ نہیں آتا۔ ماسٹرز مکمل ہوا تو ایک ٹیچر ہو کال کی جو ما شاءاللہ مکمل محنت کے ساتھ بہت اچھا سبق سکھاتے تھے ۔ میں نے سلام دعا کے بعد بولا سمجھ نہیں آ رہی ایم فل کروں یا پروفیشنل فیلڈ کی طرف آ جاوں تاکہ تجربہ ہونے کے بعد اچھی جاب مل سکے تو ان کا جواب تھا "ایم فل نہیں کرو نہ ہی کسی فیلڈ کی طرف جاو بلکہ کوئی اچھا کورس کر لو" میں نے کہا آپ ہی بتا دیجئے کچھ اچھا جو اس وقت کے مطابق مددگار ثابت ہو۔ ان کا جواب تھا "پارلر کا کورس کر لیجئے اچھی جگہ سے کافی اچھی ارننگ ہو جاتی ہے۔"یہ سن کر مجھے سمجھ نہیں آئی کیا جواب دوں تو میں نے "جی اچھا" کہہ کر خاموشی سے فون بند کر دیا۔
میں اپنی ماں کی جگہ خود کو رکھتی ہوں تو تڑپ جاتی ہوں کیسے کیسے خواب نہ دیکھے ہوں گے اس نے ۔
بالیاں کانوں کی بیچ کر فیس دی ہو گی میری۔
کس مقام تک پہنچانا چاہتی ہو گی وہ مجھے جو بے دھڑک بنا کچھ بولے فیسیں دیتی جا رہی تھی۔
ملک سے محبت ضرور ہے لیکن یہاں ایسی محبت کا کیا کریں جو جینے نہ دے۔
کبھی تو بیعت فروخت کردی کبھی فصیلیں فروخت کر دیں
میرے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کر دیں
وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے، میرے چراغوں کو بیچ ڈالا
فرات اپنے بچا کے رکھے، میری سبیلیں فروخت کر دیں
جس کو میری باتوں پر اعتراض ہو اس کا اعتراض بجا ہے مجھ سے بحث کرنے کی کوشش ہر گز نہ کی جائے🙏🏻
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
🖋️رضوانہ نور

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں