سپنوں کی تعبیر
سورج سا ابھرنا ہے
اس دنیا کو روشن کرنا ہے
پڑھنا ہے کچھ بننا ہے
اپنے دم پہ کچھ کرنا ہے
قدم قدم پہ لڑنا ہے
مجھے ہر دم آگے بڑھنا ہے
سپنوں کی اک دنیا ہے
اور اس کی میں شہزادی ہوں
ہوں مفرور پرندہ ،نہ صیاد کے تیر سے بچنا ہے
یہ دنیا میرا نشیمن ہے، میں عورت ہوں یہ جرم نہیں ہے
عورت ہو تم چپ رہو، بولنا تجھے زیب نہیں
وطیرہ ہے اس دنیا کا،اس سے بغاوت کرنی ہے
تشہیر کا میں سامان نہیں،رائے میری مقدم ہے
میں عورت ہوں یہ جرم نہیں ہے
میرا بھی اک نام ہے اس سے ہی پہچان ہے
گھر داری میرا ہدف نہیں ہے مجھے ایسے ہی تو مرنا نہیں ہے
اس کے ساتھ کچھ کرنا ہے
مجھے نام تو پیدا کرنا ہے
سپنوں کی اس دنیا سے بیدار ہوئی تو یاد آیا
گمنام ہوں میں اس دنیا میں ،مجھے نام اپنا بنانا ہے
سر نا کبھی جھکانا ہے
مجھے خود کو تو منوانا ہے
فکر ہے ماں کو شادی کی
پر نؔور کا بھی اک سپنا ہے
تعبیر میں اس کو ڈھلنا ہے
مجھے پڑھنا ہے کچھ بننا ہے
از قلم:-
تنزیلہ نؔور
قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم تنزیلہ نور استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن معلوم ہونا چاہے کہ ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں