نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مجھے ہے حکم

 عنوان : مجھے ہے حُکم ازاں
ازقلم: اُم حفصہ محمد عرفان 
اللہ کے بابرکت نام سے آغاز کرتے ہوۓ میں اپنے قلم کا رُخ اپنی تحریر کی طرف کرنا چاہوں گی 
آذادی کو پچھتر برس کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ خطہ زمین آزاد ہوا لیکن کیا اس پر بسنے والے انسان ابھی بھی آزاد ہیں ؟
آج کل افراتفری کا سماں ہے ،کچھ معلوم نہیں حالات کس جانب رخ کر رہے ہیں ۔ گردوپیش میں ہونے والے واقعات کیوں اور کیسے ظہور پذیر ہورہے ہیں کوٸ واضح وجہ سامنے نہیں آتی کہ کوٸ دوسرا واقعہ رونما ہوجاتا ہے ۔ ہر طرف گہما گہمی کا عالم ہے۔ ہر طرف اپنے ذاتی مفاد کا شور برپا ہے ایسے میں واضح راہ دیکھنا اور اس پر چلنا ، دونوں ہی مشکل کام ہیں ۔ آزاد تو پاکستان کا ہر نوجوان ، بچہ ، بوڑھا 1947 کو ہی آزاد ہوگیا تھا ۔ ہمارے بانٸ قاٸداعظم نے جسمانی اور ذہنی آزادی لے کر دی سب کو آزاد بار آور کروایا ۔ لیکن وطن قاٸد کے باشندے آج بھی جسمانی طور پر تو آزاد ہیں لیکن ذہنی طور پر غلامی کی راہ اختیار کر چکے ہیں ۔ جس خواب کی تعبیر پہ یہ وطن عزیز منظر عام پر آیا اسکی تعبیر پچھتر سالوں سے آدھی ادھوری ہی ہے ۔ جمہوریت ،معاشی و سماجی، انصاف فرد، اور اسکی راٸے کی آزادی جنھیں ریاست کے بانی نے ریاست کے لازمی اجزاء قرار دیا تھا آج تک مکمل شکل میں نافذ نہیں ہوسکے ہیں ۔ مسکینی، محکومی، اور نومیدی کے منحوس ساۓ ابھی تک وطن عزیز پر چھاۓ ہوۓ ہیں ۔ اور ہم ان اندھیروں کو دور اور غاٸب کرنے کی بجاۓ مزید تاریکی کی دلدل میں دھنسے چلے جارہے ہیں۔ ہمیں بس اتنا پتہ ہے ہمیں 14 اگست کو آزادی ملی تھی لیکن یہ نہیں معلوم کا اس آزادی کا مطلب کیا تھا اسکے پیچھے قربانیاں کیوں دیں گٸیں ۔ اسکے پیچھے کے چھپے خوابوں کو کا مقصد کیا تھا ؟ ان سب کو ہم اپنے اوپر آشنا کرنے کی بجاۓ اپنی ذہنیت کو اسی غلامی میں دھکیل چکے ہیں جس سے جسمانی آزادی دلاٸ گٸی ۔ لیکن ہم ذہنی غلام ہوچکے ہیں اور ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہے ۔ غلامی کی وجہ دین سے دوری اور قاٸد کے خوابوں اور آزادی کے مقصد کو پس پشت ڈال بیٹھے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی خود کو برباد کر رہے ہیں ۔ انسان اپنی شخصیت کو نکھار نہیں پارہا ۔ آپ نے اپنی اس دھرتی کے اس بانجھ پن پر کبھی غور کیا ہے جس کی بدولت آج ہمارے ہاں آج کے بُتوں کی سرکوبی کیلیے کوٸ ابراہیم پیدا نہیں ہورہا تو اس کم عقل کے پاس اسکا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے لا الہٰ الا اللہ سے دوری ۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ تو نے متاع غرور کا سودا کرلیا ہے تو وہ کسی طور پر غلط نہیں کہہ رہا ۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں گوکہ قاٸداعظم کی رُحلت کے ساتھ ہی ہماری سیاسی اشرافیہ خطرے میں پڑگٸ ہے کہ ریاستی مفادات ایک طرف ساری توجہ اس طرف کہ کس طرح شخصی اقتدار قاٸم رکھا جاۓ۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اقتدار کے اس کھیل میں ایسا رسہ کشی شروع ہوٸ کہ لوگ سوچنے لگے کہ کیوں نہ ٹانگ کھینچنے کو پاکستان کا قومی کھیل قرار دے دیا جاۓ ۔ شرم کا مقام تو اس وقت تھا جب ہندوستانی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے یہ کہا کہ میں نے اتنے پاجامے نہیں بدلے جتنے پاکستان اپنے وزیراعظم بدل چکا۔ سامراجی گماشتوں اور ناخداٶں کی خوشنودگی حاصل کرنے کا یہ گھناٶنا کاروبار ہر دور میں اپنے عروج پر تھا اور آج بھی یہ سب ایسے ہی رواں دواں ہے ۔ اگر ہم چاہتے کہ تاریخ اپنا آپ نہ دہراۓ تو ہمیں مل کر آزادی کا مقصد اور نامکمل خوابوں کو پورا کرنا ہوگا ۔ اورجسمانی آزادی کے ساتھ ساتھ ذہنی آزادی بھی لازمی ہے ۔ ذہنی آزادی دین سے دوری پہ نہیں بلکہ مغربی تہذیب کی دوری سے ملے گی ۔ علامہ اقبالؒ نے اسی بات کوبہت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے  ہے  حکمِ  اذاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
اللہ پاک ہم سب کو ذہنی اور جسمانی آزادی دے اور اسکی توفیق بھی عطا فرماۓ ۔
آمین
دعاٶں میں یاد رکھیے گا ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...