نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آخر دسمبر آٹھہرا

 آخر دسمبر آٹھہرا


رات کا اندھیرا ہے گہرا

تیری یادوں کا ہے پہرا


چاروں اور دھند ہے چھائی

ہمارے دل میں تیرا ہے بسیرا


منظر سب شفاف ہو جائیں گے

جب دیدار ہونا ہے تیرا


پسند تیری کا سنا کے میوزک

دل کو اپنے ہم نے ہے بکھیرا


جلا کے شمع تیری یادوں کی

بھنورے کی مانند دیا ہے پہرا


رضوانہ نور





تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں