نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

 DAY#1 ... 15 Days Training Session!

"Lead the Leaders"

7july,2021 


انٹروڈکشن سیشن :(PMC)


سب سے پہلے تو سر

 (صبغت اللّه) کا انداز انکا طرز بیاں انتہائی خوب صورت ، قابل ستائش ، مانند گل ،اور قابل فہم ہے۔ 

انکے لہجے میں ،انکے اسلوب میں خدا نے یہ طاقت رکھی ہے کے انکا ایک ایک حرف دل میں ایک گہری چھاپ چھوڑ کا جاتا ہے۔ 

    پہلے لیکچر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جن میں سے چند پوائنٹس:


انسان کو ہر قدم پر گر کر اٹھنا آنا چاہیے ۔ اٹھ کر سمبھلنا آنا چاہیے اور سمبھل کر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا آنا چاہیے ۔

وقت اور حالات کے آگے گھٹنے وہ ٹیکتے ہیں جو بزدل ہوتے ہیں ایک کامیاب انسان خاموش طوفاں کی طرح ہر مصائب اور آزمائش کو سر کرتا چلا جاتا ہے۔ 


میں جب خود کو ہارا ہوا محسوس کرتی ہوں تو جب ہمت ہارنے لگتی ہوں جب میرے حوصلے کو لوگوں کی تنقید پست کر دیتی ہے تو میں خود کو مخاطب کرتی ہوں ، اپنے اندر یہ حوصلہ پیدا کرتی ہوں کے کچھ بھی نہ ممکن نہیں ہے ۔تم کر سکتی ہو۔ اور تمہیں کرنا ہوگا۔ خود کو چیلنج کرتی ہوں ۔


میرے نزدیک تنقید انسان کے اندر ایک شعلا بھڑکا دیتی ہے۔

وہ شعلہ جو دیکھنے میں ایک دم خاموش نظر آتا ہے مگر کب اس کے اندر سے چنگاری بھڑک اٹھے یہ کوئی نہیں جانتا۔ 

 اس شعلے کو اپنی تڑپ اپنی لگن اور اپنی جستجو بنائے نہ کے تنقید کو نیگیٹو لے کر ہمت ہار کر بیٹھ جایئں ۔


کامیابی کے سفر کی جانب جاتے ہوۓ اپنی سوچ اور سمت ہمیشہ درست رکھے۔ تا کہ آپ منزل کو  بر وقت اور دماغ حاضر سے اپنی پوری توجہ سے حاصل کر سکیں۔ 


ہمیشہ ایسی چھاپ زمانے میں چھوڑ کر جائے کے آپ کے جانے کے بعد آپ لوگوں کے دلوں پر ہی نہیں دماغوں پر بھی راج کرے۔ آپ زمانے سے نہیں زمانہ آپ سے پہچانا جائے۔ اپکی آواز کی گونج ہمیشہ سنائی دیتی رہے کبھی کسی کے چہرے پر آپ مسکراتے ہوۓ نظر آے تو کبھی کسی کی کامیابی سے آپکا عکس دکھائی دے ۔

اس کے علاوہ __

انسان کے اندر:

 خود اعتمادی 

خود داری 

اندرونی سکوں 

خود کاری 

خدادانہ صلاحیت کو  اجاگر کرنے کا جنوں 

اور سب سے بڑھ کر 

کمیونیکیشنز سکلز کا ہونا 

کامیابی کی کنجیاں ہیں۔ 


اس سیشن کا مقصد ہمیں اس قابل بنانا ہے کے ہم اپنے دلوں کو اپنی امیجینیشنز کو ،اپنے نظریات کو اپنی سوچ کو بدل کر اور اس پر عمل پیرا ہو کر آنے والی نسلوں کے لئے ایک رول ماڈل بن سکیں ۔اور ایسی زندگی جی سکیں جسکا مقصد انسانیت کی خدمت ہو۔ 


✅تنقيد سے گھبرانا نہیں چاہئے.

✅کچھ فیصلے تقدیر پر چھوڑ دیں۔

✅کبھی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں۔

✅محنت اتنی خاموشی سے کریں کہ آپ کی کامیابی شور مچا دے.

✅ کامیاب انسان وہ ہے جو

⏺️ اپنے پیچھے اچھی یادیں چھوڑ جاۓ جو عام موت نہ مرے جو مر کر بھی ذندہ رہے۔

OUR SOCIAL LINKS
_/Connect With Me On Social Media\_




=============================
☞For Queries:- pakistanmentorecommunity@gmail.com

جزاک اللّه خیر کثیراً

 پاکستان مینٹور کمیونٹی♥️

پاکستان زندہ باد

#Pakistan_Mentor_Community

#PMC

#Leaders



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...