نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

 ازقلم  رضوانہ نور

 حافظ آباد پاکستان

   میری والدہ محترمہ کے نام



بس کر دیں امی یار خدا کے لیے

ابھی نہیں ہے میرا موڈ۔۔۔۔!

کل جب شام ٹائم آرام سے بٹیھی کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گانوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی تو امی نے کھانا لا کر دیا تو میں بنا وجہ کے چیخ پڑی تو امی خاموشی سے واپس لے گئیں لیکن کچھ دیر بعد پھر لے آئیں تومیں غصے سے دیکھ کے بڑبڑاتی ہوئی چھت پے آ گئی "کبھی چین نہیں لینے دیتیں حد ھے یار زندگی عذاب بنا دی ھے"

 اُسی وقت میری بیسٹ فرینڈ کا میسج آ گیا اور میرے چہرے پر مسکراہٹ بھی۔


 جب میں کافی دیر بعد بھوک محسوس ہوئی تو یاد آیا امی سےغصہ کر کے آئی تھی تو سوچا جا کے معافی مانگ لیتی ہوں اور کھانا بھی کھا لوں چھت سےآئی تو امی ٹائٹ ڈیوٹی پے چلی گئیں تھیں اور سب گھر والے کھانا کھا چکے تھے.  خود ہی سالن گرم کر کے کھانا لے کے بیٹھی تو یاد آیا پانی نہیں ھے چھوٹی سے کہا تو اس نے سنی ان سنی کر دی مجھے خود لینا پڑا تو بہت غصہ آیا. خیر اسی طرح رات گزر گئی صبح جب میں اٹھی ٹائم دیکھا تو بارہ بج رہے تھے حیران ہوئی آج کیسے امی نے اتنا ٹائم سونے دیا۔

      جب باھر آئی تو پتا چلا امی گھر نہیں ہیں کہیں کام سے گیئں ھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

بھوک لگی تھی کھانے کا پوچھا تو جواب ملا کچن سے لے لو

 خود دیکھا تو کھانا بلکل ٹھنڈا پڑا تھا بہت غصہ آیا پر خیر بھوک لگی تھی خود گرم کرنے لگی تو ہاتھ جل گیا.

کیسے نہ جلتا خود سے اٹھ کے کبھی پانی تو پیا نہیں تھا ہر وقت سب کچھ بلکل تیار اپنی پسند کا بنا کہے مل جاتا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اس وقت غصے کی جگہ اک سوچ نے لی کہ اگر امی ہوتی تو ہاتھ نہ جلتا۔ اس سوچ کو پس پشت ڈالا اور تھوڑا سا کھانا کھا کے ڈرامہ دیکھنے لگ گئی ایسے ہی چار بج گئے آواز دی مما جی کچھ کھانے کو دےدیں جواب نہیں آیا تو بڑبڑانے لگی ویسے تو اک منٹ نہیں چین سے رہنے دیتیں ہر وقت بس کھاو پیو اب کہاں گئیں ھیں.

 جب دیکھا تو وہ واپس نہیں آئی تھیں۔اور باقی سب موبائل میں مصروف۔

جب کچن میں گئی تو کھانا نہیں تھا فریج بھی خالی۔ ممانی جو کہ آرام کر رہی تھیں ان سے پوچھا تو کہتی ھیں تھوڑی دیر بعد کھانا بنانا ھے اور وہ تھوڑی دیر انتظار کرتے کرتے سات بج گئے میرا بھوک اور غصے سے برا حال تھا اور رونا آ رہا تھا پھر دماغ میں کلک ہوا امی ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔پھر اپنا رویہ یاد آیا تو پتا نہیں کیوں بہت رونا آیا آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے اللّه سے معافی مانگی اور دل میں تہہ کیا کہ اب کبھی اپنی امی جان کو اونچا نہیں بولوں گی اور جب وہ آئی تو معافی مانگوں گی۔ اور انکے آتے ہی میں نے ساتھ لگ کے بولا ماما جی مجھے معاف کر دیں میں معذرت خواہ ہوں آپ کو تو پتہ ھے مجھے غصے میں پتہ نہیں چلتا تو وہ پیشانی چوم کے بولی مجھے تو یاد بھی نہیں پریشان مت ہو  اور اُن کی اس بات پے میرے دل کوسکون مل گیا۔

"یہ ھے ماں کی بے لوث محبت"


 خدارا جب کوئی

آپکی بے وجہ کیئر کرتا ھے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ سر پے سوار ھو رہا ھے اسکا مطلب ھے وہ آپکو آپ سے زیادہ جانتا ھے اور آپ سے بہت زیادہ پیار کرتا ھے۔

اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے آپ قبر پے بیٹھے بس رو رو کے یہ کہیں اک بار بس اک بار واپس آ جائیں آپکی ہر بات مانوں گی غصہ نہیں کروں گی پکہ وعدہ....

انکی قدر کریں انہیں پیار سے سمجھا ئیں اور خود بھی انکو سمجھنے کی کوشش کریں۔ غصہ مت کریں ۔

یہ آپکا غصہ یہ آنا کا پہاڑ اس دن مٹی میں مل جائے گا جب آپ روتے رہ جائیں گے اور آپکی نظروں کے سامنے سے جنازہ اٹھ جائے گا پھر یہ ناز نخرے کوئی نہیں اٹھائے گا آپکی چھوٹی سے بڑی خواہش بنا کہے کوئی نہیں پوری کرے گا بلکہ ممکن ھے کہنے پے بھی اگنور کر دیئے جاو گئے۔

اس سے پہلے کہ آپ ہاتھ ملتے رھ جاو اپنے ماں اور باقی قریبی لوگوں کی قدر کر لو۔ اپنے اندر کی صفائی کر کو آپکے غضے آنا سے زیادہ اہم ہیں وہ چند اک آپ سے مخلص لوگ۔

آپکے والدین اور چند اک مخلص دوست آپکو کسی قیمت پر بھی وقت واپس نہیں کرے گا آپ گھڑی کو سویاں پکڑ کر بھی واپس کرو گے نہ تو بھی انکو اک نظر دیکھ بھی نہ سکو گے۔

 اللّه ہمارے والدین کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرما اور ہمیں انکا فرماں بردار بنا ہمیں اپنے سے مخلص لوگوں کی پہچان اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرما آمین اللّه ھمہ آمین

اے نور تجھ کو جو کچھ عطا ہے
یہ تیری ماں کی دعاؤں کا صلہ ہے
تُو تو اس قابل بھی نہیں جتنا کچھ ملا ہے
اور تجھے اب بھی خالق سے گلہ ہے






تبصرے

  1. Write api I know yeh koi khani nhi haqeqat hy 🤞😇

    جواب دیںحذف کریں
  2. HmmM its True Allah pak Sab k Walidaain Ko Sehat yabi atta krain or un k saya hmesha apnay bachon k siron pr salamat rakhain ameen

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...