اعلیٰ ظرفی
دامیاء تحسين میمبر آف پاکستان مینٹور کمیونٹی
السلام علیکم !خواتین و حضرات امید کرتی ہوں کہ آپ سب لوگ خیر و عافیت سے ہونگے آج شام جس موضوع پر بات کرنے والے ہیں وہ بہت ہی اہم موضوع ہے اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے آپ کی ایک خوبی کسی دوسرے انسان کی سو خوبیوں پر بھاری ہو تو آپ کیا جواب دیں گے اپنا جواب مجھے ضرور بتائیے گا لیکن اس سے پہلے آپ نے اس سوال کا جواب میں آپ سب تک پہنچانا چاہتا ہوں گی جی ہاں خواتین جی ہاں خواتین و حضرات میں آپ کو بتانا چاہوں گی وہ ایک خوبی جو بظاہر تو ایک ہے لیکن سو خوبیوں پر بھاری ہے جس کا نام ہے اعلی ظرفی اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ میزان کے ایک پلڑے میں ایک خوبی ڈال دو اور میزان کے دوسرے پلڑے میں سو خوبیاں ڈال دو تب بھی اعلی ظرفی کا پلڑا بھاری ہوگا اعلیٰ ظرفی کو مزید جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اعلی ظرفی کی تعریف دیکھنے کے اعلی ظرفی کا مطلب کیا ہوتا ہے مجھے امید ہے کہ ہم سب نے یہ لفظ بچپن سے سنا ہوا ہے اور امید کرتی ہوں کے آپ نے بھی سنا ہوگا اگر آپ کو یاد ہو تو پہلی جماعت کے قائد میں ہم پڑھتے تھے ظ ظروف اور اس کے آگے کچھ برتنوں کی تصویر بنی ہوتی تھی اس وقت تو ہمیں اس بات کا مطلب اتنی گہرائی سے نہیں بتا تھا لیکن آج ہم اس مطلب کو گہرائی سے جانیں گے خواتین و حضرات ضرور کا واحد ہی ظرف اور ظرف کا مطلب ہے برتن یعنی کے صرف ایک ایسا برتن ہے جس میں عزت دولت شہرت پیسہ علم یہ ساری چیزیں آسانی کے ساتھ سما سکتی ہیں آپ اس کو اس طرح سے سمجھئے کہ اگر کوئی شخص آپ کو کچھ دینا چاہتا ہے لیکن آپ کے پاس اس چیز کو سمیٹنے کے لیے کوئی برتن ہی نہیں ہے کوئی پیالا ہی نہیں ہے تو کیا ہوگا وہ ساری چیز ضائع ہوجائے گی بالکل اسی طرح جب ہم اپنے رب سے اتنی نعمت مانگتے ہیں تو کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے ان نعمتوں کو اپنے پاس رکھنے کے لئے ہمارے پاس بھی ظرف جیسا پیار موجود ہے یا نہیں کیوں کہ اگر آپ کے پاس ان سب اللہ کی نعمتوں کو سمیٹنے کا ظرف نہیں ہے تو کیا ہوگا اس سب نعمتیں آپ سے سنبھالی نہیں جائیں گی اور چھلک جائینگیں ضائع ہو جائیں گی گر جائیں گے اس لئے آج سے اپنی دعاؤں میں یہ دعا شامل کرلیں کہ الہی میرے ظرف میں کشادگی دے یا اللہ مجھے اعلی ظرف بنا پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے پاس عزت بھی آجائے گی دولت بھی آجائے شہرت بھی آجائے گی پیسہ بھی آجائے گا اب اگر ہم بات کریں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک پر تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی کے بارے میں شاعر نے کہا ہے ڈرامہ ایسی دیزا سے آگے ہے مقام ان کا کلام اللہ کی تفسیر ہے گویا ہے کلام ان کا حیات جاوداں دیتا ہے دنیا کو پیام ان کا خدا ہی جانتا ہے کس قدر پیارا ہے نام آپ کا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اعلی ظرفی کے مثالوں سے بھری پڑی ہے سب سے بہترین مثال ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ واپس گئے تو بجائے اہل مکہ کو بڑی بڑی سزائیں دینے کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل مکہ کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں وہی اہل مکہ جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا مجبور کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑا فتح مکہ کے دن اہل مکہ کے دل ڈر رہے تھے کہ پتہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اتنا برا سلوک اختیار کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی زلفی کی ایک ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک تاریخ کے پنوں میں سنہری حروف سے درج رہے گی
تو یہاں سے ہم نے کیا سیکھا ہے کہ اعلی ظرف حضرات معاف کرنا جانتے ہیں وہ لوگوں کے منفی رویوں پر لوگوں کی کڑوی باتوں کو میٹھے جان کی طرح اپنے اندر اتار کر وہاں سے مسکرا کر گزر جانا جانتے ہیں اب یہاں پر ایک سوال ہے کہ اگر کوئی پوچھے کی اعلی ظرفی کی کوئی اہمیت ہے تو جی ہاں اعلی ظرفی کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے ظرف سے ہی پہچانے اور پر کھل جاتے ہیں اور جتنا کسی شخص کا ظرف بلند ہو گا اتنی ہی اس کی اہمیت اور مرتبہ بھی بلند ہوگا اور اتنا ہی زیادہ لوگوں کا جھرمٹ اعلی ظرف حضرات کے گرد ہو گا اور اتنے ہی لوگ ہوں گے جو ان کو یاد رکھیں گےاور خواتین و حضرات یہ اعلی حضرت حضرات ہی ہوتے ہیں جو اپنی اعلی ظرفی سے بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں اور بہت کچھ سیکھا جاتے ہیں اور پھر ہماری کائنات ان کو یاد رکھتی ہے کن ناموں سے شاہ عبداللطیف بھٹائی سچل سرمست بابا بلھے شاہ بہاؤالدین زکریا اس طرح کے بہت سارے نام ہیں پوری لسٹ ہے ہمارے پاس کے اعلی ظرف لوگوں کو رہتی دنیا تک اس طرح کے ناموں سے یاد رکھا جاتا ہے اور اب مجھے لگتا ہے کہ ایک پہلو میرے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ سب کے ذہنوں میں بھی وہی سوال ہوگا خاص طور پر ہماری نوجوان نسل جو اس آرٹیکل کو پڑھ رہی ہے وہ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم کیوں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں یا الہجری ہمارے لئے ہی کیوں ضروری ہے تو سب سے پہلے آپ مجھے ایک بات کا جواب دیں دیکھتے ہوئے سوچ رہی ہو گی کہ کیا اس کے بعد بھی وہ کوئی ہماری یوتھ اس ویڈیو کو دیکھنے میں سوچ رہی ہو گی کہ کیا ہم یہ کیوں والا دلی کا مظاہرہ کریں یا ہمارے لیے اعزاز ہے عزت کریں کہ آپ چاہتی ہے کہ اس محفل میں موجود ہوں لوگوں کو قتل کریں گے جو آپ کے پاس ان لوگوں کا دل چاہے وہ آپ سے بات کریں کہ ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دنیا آپ اچھے کلیم سر سید صبغت اللہ صاحب انہوں نے بھی اس حدیث کی روشنی میں کیا کہہ سکتا ہوں آج آپ کے جانے کے بعد دعاؤں میں یاد رکھیں اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے جانے کے بعد اگر کوئی یہ کہے کہ کی اعلی ظرفی ہمارے لئے ہی ضروری ہے یا ہم ہی کیوں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں تو ایک بات کا مجھے جواب دیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ جہاں جائیے لوگ آپ کی عزت کریں اب جس محفل کو چھوڑ کر جائیں لوگ وہاں پہ آپ کا نام لے کے آپ کو یاد کریں لوگ آپ کی تعریف کریں لوگ آپ کی عزت کریں اور آپ جس محفل میں موجود ہوں لوگوں کا دل کرے کہ وہ آپ کے پاس آیا آپ سے بات کریں اور کیا آپ چاہتے ہیں جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں تو لوگ آپ کو اچھے الفاظ سے یاد کریں میرے مینٹور سر سید صبغت اللہ صاحب انہوں نے کامیابی کی یہ تعریف ہمیں بتائیں کہ کامیابی کا مطلب ہوتا ہے یادوں میں زندہ رہ جانا خود تو مٹ جاؤ لیکن اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑ جاؤ کہ لوگ ہمیں یاد کریں لوگ تمہارا نام لے تو میری بات بھی لکھ کر رکھ لیں اعلی ظرفی کی سی خوبی ہے جس کی بنا پر لوگ رہتی دنیا تک آپ کو یاد رکھتے ہیں ہمیں پتا نہیں چلتا لیکن لوگ ہم سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں لوگ ہماری شخصیت کے مداح بن رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ان سب کا پتہ نہیں چلتا مثال کے طور پر اگر آپ سیاست میں جانا چاہتے ہیں یا آپ سماجی فلاح و بہبود کا کوئی کام کرنا چاہتے ہیں یا کوئی اینجیو بنانا چاہتے ہیں تو اپنے سماجی دائرہ کار کو وسیع کریں تو اللہ زلفیں آپ کی اس سارے کام میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے اس ساری بات کو اگر میں ایک شعر میں مختصرا بیان کرنا چاہوں تو وہ ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ تو خواتین و حضرات اپنے دلوں کو فتح کرنا ہے کیوں کہ جو دلوں کو فتح کر لیتے ہیں وہی فاتح زمانہ بھی کہلاتے ہیں شاہ محمود غزنوی کو ہم سب جانتے ہیں شاہ محمود غزنوی کے دربار میں ایک مجرم لایا گیا شاہ محمود غزنوی نے اپنے درباریوں سے پوچھا بتاؤ اس کو کیا سزا دی جائے ایک وزیر نے کہا کہ اسے چڑیوں کے ساتھ مار دیا جائے کہ چڑیاں اس کی کھال نوچ لیں اور دوسرے نے کہا کہ جس طرح کپڑے کو پٹک پٹک کر دیا جاتا ہے اس کو بالکل ویسے ہی دیواروں کے ساتھ پٹک کر قتل کر دیا جائے اور تیسرے نے کہا کہ حضرت اسے معاف کر دیا جائے تو شاہ محمود غزنوی نے کہا کہ تینوں جواب بالکل درست ہیں لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ حضرت تینوں جواب کیسے درست ہو سکتے ہیں تو شاہ محمود غزنوی نے کہا کہ تینوں نے جواب اپنے اپنے ظرف کے مطابق دیا ہے پہلا قصائی ہے اس نے اس طرح سے جواب دیا دوسرا دوبئی ہے اس نے ویسے جواب دیا اور تیسرا سید زیادہ ہے اس نے اپنے ظرف کے حساب سے جواب دیا میں امید کرتی ہوں کہ ظرف کے معنی میں آپ تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہو اس مثال سے بہترین انداز میں واضح ہو چکے ہوں گے اب اس بات کا انحصار آپ لوگوں پر ہے کہ آپ کس طرح کے ظرف کا مظاہرہ کرتے ہیں اسی طرح ایک بابا جی تھے جو یہ دعا کیا کرتے تھے یا الہی مجھے درختوں جیسا ظرف عطا فرما تو کسی نے پوچھا بابا جی یہ درخت جیسا ظرف سے کیا مراد ہے آپ کی تو باباجی نے کہا کہ دیکھو درختوں کو درخت ہمیں سایہ دیتے ہیں درخت ہمیں ٹھنڈی چھاؤں دیتے ہیں درخت ہمیں میٹھا پھل دیتے ہیں بدلے میں ہم ان کو پتھر بھی مارتے ہیں اپنی ضرورت کے تحت ان کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود دیکھو ہمارے لیے کتنے فائدہ مند ہیں تو اسی لئے میں بھی دعا کرتا ہوں اللہ مجھے درختوں جیسا ظرف تھا فرما اب یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ اعلی ظرف کیسے بنا جائے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کس طرح کیا جائے ؟تو اس تو اس سوال کا جواب میں ایک شعر کے ذریعے دینا چاہوں گی
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
اعلیٰ سر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی میں کو ختم کر لیں اپنی انا کو مارنے کے اس دنیا میں جتنے بھی مسئلے ہیں وہ ہماری انا کے لیے ہیں جہاں ہم ختم وہاں ہماری انا بھی ختم اور ایک بات یہ بھی ہے کہ دنیا میں کامیابی کے سب دروازے آپ کو کھلے ہوئے نہیں ملتے کچھ دروازے ایسے ہیں جہاں سے آپ کو جھک کر جانا پڑتا ہے کچھ دروازے ایسے ہیں جہاں سے آپ کو رینگ کر جانا پڑتا ہے تو آپ اس بات کا انحصار آپ پر ہے کہ آپ اپنی انا کے جھنڈے تلے وہیں کھڑے رہتے ہیں یار اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھک کر اپنی کامیابی کی ساری منزلیں طے کر لیتے ہیں ۔
ہماری زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم بعض اوقات اپنے رویوں اپنے اعمال اور اپنے بچوں کا جو بوجھ ہوتا ہے وہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ اس نے ایسا کیا تو اس نے ویسا کر دیا لیکن یہاں پر میں آپ کو اس بات کی تھوڑی سی وضاحت دیتی چلوں کہ آپ کے اعمال کی ذمہ دار آپ خود ہی ہر کسی کا ظرف ہوتا ہے اور کوئی بھی انسان جو کام کرتا ہے جو بات کرتا ہے وہ اپنے ظرف کے مطابق ہی کرتا ہے اس کائنات پر ذرا غور کریں اللہ تعالی نے کتنی بہترین مثال ہم سب کے لیے قائم کی ہے بارش کا قطرہ جب سی پیپر گرتا ہے تو اسے بیش قیمتی موتی بنا دیتا ہے اور یہی بارش کا قطرہ آج شام پر کرتا ہے تو اس کے منہ میں زہر جنم لیتا ہے تو اس بات کا انحصار سر آپ پر ہے کہ آپ اپنے حالات اور واقعات کو اس طرح سے اور اس نظر سے دیکھیں کہ ان سے بیش قیمتی موتی بن جائے یا پھر کڑوا ترین زہر ۔ آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ الیعذر کو کی خدمت میں رہا کریں گے محفل میں اٹھا بیٹھا کریں کیونکہ جو پیالے میں ہوتا ہے وہ چھلکتا ہے تو اگر علی ظرفوں کے پیالے سے کچھ چلا گیا تو وہاں پر ہی گرے گا ۔آپ نے اس آرٹیکل کا اختتام ایک شعر پر کرنا چاہوں گی
کم ظرفوں کے کہاں جچتی ہے قبائے سکندری
وہ اعلی ظرف ہیں تو ہیں جو ہر دور میں زندہ ہیں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں