از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد
" مکافات عمل"
کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟
ھر گز نہیں آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا
زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے
ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے
خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر دیا تھا تو اسے کتنی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔۔۔
کبھی تو کسی کے چند جملے ہی خوش کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں اور کبھی کبھار کسی کے چند جملے ہی انسان کی زندگی میں زہر بھر دیتے ہیں اس لیے کسی سے بھی کوی امید نہ رکھو وہ اک ہی ہے جو سب کچھ دینے کے بعد بھی کہتا ہے اور مانگو مجھ سے ۔۔۔کوی اسے کالے کوٹھے والا کہتا ہے اور اسے اپنی محبت کا نام دیتا ہےتو کوئی اسے اپنا دوست سمجھتا ہے اور اس سے اپنی باتیں شیئر کرتا ہے اور وہ سنتا بھی ہے وہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں پر ہمیں چاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پہ ۔چلیں تاکہ اخرت میں ہم ان سے مدد مانگ سکیں اور ہم اپنے رب کو راضی کر سکیں.
۔

Very well done.. Keep it up
جواب دیںحذف کریںMuteeba Tehseen
جواب دیںحذف کریںYe thek hy k maafi mangny sy takleef khatm nh hogi lkn bazz dfaaa maafi mangny hurt hony waly bandy ko satisfaction mil jata hy aur wo maaf to kr deta hy na
جواب دیںحذف کریں