نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قوم کا معمار

 

قوم کا معمار

رضوانہ نور

        

معمار کا اگر ہم  لفظی معنی لکھیں تو "عمارت بنانے" والا ہے.  سادہ الفاظ میں دیکھیں تو ہم معمارکو "کاری گر" کہیں گے.

ہمارے معاشرے میں استاد کا کردار بھی معمار جیسا ہے۔

یہ بکھری ہوئی ٹوٹی ہوئی شخصیت کو جوڑنے کے لیے اپنا دن رات ایک کر دیتا ہے۔

جس طرح معمار ایک ویران جگہ کو خوبصورت عمارت کی شکل دینے میں دن رات ایک کرتا ہے ایسے ہی استاد ایک ناسمجھ شخص کو کامل بنانے میں اپنے شب و روز وقف کر دیتا ہے۔

استاد وہ عظیم ہستی ہے جس کے باعث یہ نااہلوں سے بھری گلیاں یہ معاشرہ قابل احترام اور قابل توقیر بنا۔

دنیا کے سب سے عظیم استاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کے اتنے پہلو ہیں کہ انہیں بیان کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ اللہ رب العزت نے شان نبی بیان کرتے ہوئے قرآن پاک کا نزول فرمایا۔

جب ہم سب کے  استاد محترم جناب نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں معلم بن کر تشریف لائے تو دنیا جہالت کے گہرے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تئیس سال میں دنیا کا مکمل نقشہ اور سوچ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی کا ہی اثر ہے جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا نڈر رہنما دنیا کو ملا۔

یہ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی کمال ہے کہ دنیا و جہان کے سخی مل کر بھی عثمان رضی اللہ عنہ کے قدموں کی خاک برابر بھی نہ ہو سکیں گے عثمان غنی جیسا سخی نہ کوئی تھا نہ کوئی ہو گا۔ 

ساری دنیا میں سے چن چن کر بھی مردوں کی شجاعت اکھٹی کریں تو ایک علی المرتضیٰ کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔

دوستی وفاداری جیسی بھی ہو مگر کوئی بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ ٰٰٰعنہ کی طرح غار ثورمیں سانپ کا ڈنگ نہ سہے گا اور تو اور بن دیکھے کوئی اویس قرنی کی طرح فرماں بردار نہیں ہو سکے گا۔ دنیا کے نقشے پر ان  عظیم ہستیوں کے آنے کی وجہ کیا ہے؟ یہ سب صرف استاد ہی کا کمال ہے۔

کامل استاد اپنے شاگردوں کو فرش کی خاک سے اٹھا کر عرش کا تاج بنا دیتا ہے۔

"استاد روحانی باپ ہے" ( مشرقی دانش)

استاد ہماری روحوں کو سنوارتا ہے وہ ناامید انسان میں امید کی کرن روشن کرتا ہے اور اسے آگے بڑھنے پر متحرک ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ استاد چاہے تو نابینا انسان کو دیکھنا سیکھا دے۔

جو صرف سبق پڑھا دے سمجھا دے مگر اس سبق کو سیکھائے نہیں، لگن پیدا نہیں کرے موٹیویشن نہیں دے وہ استاد نہیں ہوتا وہ معلم نہیں ہوتا۔

معلم وہ ہے جو لوہے کو سونا اور سونے کو کندن بنا دے۔

ترقی کی راہوں پر گامزن ہونےکے لیے کامل استاد ضروری ہے۔

کچھ ترقی یافتہ ممالک میں اصول ہے کہ پڑھانے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ لے کر ہی شعبہ تدریس سے وابستہ ہو سکتے ہیں.


اس اجازت نامے کے چند اہم نکات یہاں واضح کروں گی۔

 :مکمل عبور       

ﺟﺲ کو ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ مکمل مہارت حاصل ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﺁپکو ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ہر مکمل عبور (مہارت) ہونے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁپکا علم نا نسل کے تقاضوں پر پورا اترے.

 :اظہار خیال کی مہارت

ﯾﮧ ﺑﮩﺖ اہم نقطہ ﮨﮯ کہ, ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ سکلز ﮐﺎ ہونا ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ سمجھیں اور ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ .

آپ کے پاس اپنے ذہن میں موجود لفظی خاکوں کو الفاظ کا لباس پہنانا آئے اور معلم خوش اخلاق ہو. . 

:گھلنے ملنے کی صلاحیت

ﺍﺱ ﺧﺎﺹ terminology ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪہ , ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮ خوش اخلاق کو.

ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ , ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ معلم ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ .

:امید کا دیا جلائے

اگر کسی میں امید کا جذبہﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ  ﺗﻮ ﻭﮦ استاد نہیں بن ﺳﮑﺘﺎ.

 اچھا استاد ناامیدی کے گہرے اندھیروں میں علم کئ شمع جلا کر اپنے بچے کو حقیقی معنوں میں "طالب علم" بنانا ہے جو پھر دنیا و جہاں کی سات تہوں اور آسمان کی بلندیوں تک تلاش علم میں پہنچ جاتا ہے.


 :سیکھنے کا شوقین

ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ , ﺍﮔﺮﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ تڑپ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ  علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ ؟ اچھے استاد کے پاس اپنے موضوع کی کتاب کے علاوہ اور بے شمار علم کا خزانہ ہوتا ہے. اچھا استاد پہلے خود طالب بن کر دوسروں میں طلب اور لگن پیدا کرتا ہے

 

 :آگے بڑھنا سیکھائے

ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ وہ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا ؟

معلم سٹوڈنٹس کو خواب دیکھا کر رسک لینا سیکھاتا ہے. ایک اچھا استاد نازک سے بچے میں خطرات سے لڑ جانے کی جرات اور ہمت پیدا کرتا ہے.


عام آدمی کو طالب علم بنانے کا فن ایک کامل استاد کے پاس ہوتا ہے. کئ استاد سالوں پہلے دنیا میں آئے فانی دنیا سے کوچ کر گئے مگر انکا علم  آج بھی کئ کھوٹوں کو کھارا بنا رہا ہے. 

سقراط زہر کا پیالہ پیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہ گیا

 

مجھے مارنے والے یہ جانتے ہی نہیں مجھے مارا جا سکتا ہے لیکن میری سوچ کو نہیں مارا جا سکتا 

 

اصل علم وہ ہے جو پڑھایا جائے تو کئی نسلوں تک اثر کرے. 

استاد پر ایک بھاری زمہ داری ہوتی ہے اور  اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی  مکمل توجہ اور لگن کے ساتھ پورا کرنا ہی استاد کی صفات میں شامل ہے. 

استاد قوم کو بنا اور بگاڑ سکتا ہے. اس شعبے کی عزمت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ آقا دو جہاں محبوب رب العالمین کو دنیا میں معلم بنا کر بھیجا گیا.  جب تک کوئی طالب علم اپنے استاد کا دل و جان سے ادب نہیں کرتا وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا. اللہ رب العزت ہم سب کو اساتذہ کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کامیابیاں عطا فرمائےآمین

   ازقلم: رضوانہ نور



 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...