نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عنوان: فلسفہ خودی اور مسلمان

 عنوان: فلسفہ خودی اور مسلمان  

ازقلم :سائرہ عباس ،مریدکے 


اقبال وہ نام ہے جس میں کامیابیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ اقبال وہ طاقت جس نے دنیا کو اپنے خیال اپنی سوچ سے فتح کیا ۔اقبال وہ جہت ہے جس نہ آزادانہ فضا میں سانس لینے کا مقصد سمجھایا ۔اقبال وہ راہنما ہے جس نے مشرق میں اندھیروں میں ڈوبے ،بھولے بھٹکے مسلمانوں کو ھدایت کی کنجی دی ۔ اقبال وہ ہستی ہے جس نے انسان کو توحید پرستی کا ایسا مظہر دیا کے انسان بتوں کو توڑ کر خدا کی محبّت و بندگی میں کھو گیا ۔اقبال وہ نور ہے جس نے خودی کا ایسا تصور پیش کیا جس پر کامل عمل سے قوموں کی کایا پلٹ گئی۔ اقبال وہ مفکر ہے جس نے شاہین کو ایک ایسی اڑان دی جس کے پاس پر تو نہیں تھے مگر وہ اپنے بلند حوصلے اور ہمت سے مشکلات و ناکامیوں کی رکاوٹوں کو چیرتا ہوا (کے _ٹو) کی بلندیوں کو سر کر گیا۔ اقبال کے شاہین نے ایک سوچ و افکار کی سنسنی سے بھرپور دنیا دریافت کر لی۔

علامہ اقبال کی شخصیت کے بیش قیمت اور بہت سارے  انمول پہلو ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم پہلو شاعری اور  حکمت و دانائی ہے۔ علامہ اقبال  جنھیں شاعر مشرق کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ علامہ اقبال (حکیم مشرق یعنی مشرق کا  دانا ،) کے لقب سے مشہور ہیں۔

 اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف خواب غفلت میں پڑے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کیا بلکہ امت مسلمه کے آنے والے نوجوانوں کے لئےامید ، لگن ،جستجو ،محنت اور ہمت سے لبریز سبق آموز شاعری کا بے مول تحفہ اور زندگی کو بدلنے کا ایک پختہ نظریہ نعمت کے طور پر دیا ۔

علامہ اقبال کا" فلسفہ خودی " جس میں انہوں نے اپنے بل بوتے پر، خود کو تلاش کرنے ،خودی کو پہچاننے، انسان کے اندر چھپے انسان کو پرکھنے اور اونچی اڑان بھرنے کی تلقین کی ہے۔

علامہ اقبال نے انسان کے ذہن میں ابھرنے والے ان (انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اسکی تخلیق کیوں کی گئی ؟ کیا انسان ہر نا ممکن کو ممکن بنا سکتا ہے؟ انسان کا رب سے اور اسکی مخلوق سے تعلق کیا ہے؟

 کیا انسان ایک تسخیراتی مشین ہے؟)  تمام سوالات کو "خودی " میں تلاش کرنے کی جہت دی-

اقبال اپنی کتاب میں کیا خوب لکھتے ہیں :

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر 

اس شعر میں خودی کا پہلو واضح جھلک رہا ہے ۔اقبال اس شعر سے یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کے اے انسان! اپنی اصل کو مت بھول۔ اپنے آپ کو قبول کرنا سیکھ جا ۔اپنی خامیوں اور خوبیوں کو پہچان لے۔ اپنے وجود کی مٹی کو بیکار اور كمتر سمجھنے کو دوڑ سے باہر نکل جا۔جس مٹی سے آدم کو تخلیق کیا گیا تو بھی اسی مٹی سے  تخلیق ہوا ہے۔امیر غریب کے فرق کو مٹا کر رنگ و نسل کے بتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو پہچان لے۔ اپنے اصل کو بتانے میں شرمندگی محسوس نہ کر بلکہ اسی غریبی کو محنت ،لگن اور جستجو کے چار چاند لگا کر اپنی پہچان بنا کر دنیا میں ایک مقام پیدا کر۔ جن قوموں نے اس فلسفہ خودی کو اپنا لیا وہ قومیں دنیا میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئی ۔جنہوں نے اپنے اصل کو اپنی شناخت بنا لیا اور پھر اس پر رات دن لگا کر محنت کی۔ جن قوموں نے مغرب کی تقلید کی ،اپنی زندگی کو مغرب کے رنگ میں ڈھال دیا وہ قومیں زوال کا شکار ہوئیں۔ 

 بلا شبہ قوموں کی ترقی کا راز " فلسفہ خودی "میں پوشیدہ ہے۔


جس پر آشکار ہوا فلسفہ خودی 

وہ شخص دنیا میں فاتح ٹہرا




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...