نظرانہِ عشق
ظہور تا وِصال کی صدا یہی
رب حبل امتی رب حبل امتی
شب برات جب انعام میں ملی
چشم نم لیے بولے یہی نبی ﷺ
ربی حبلی امتی ربی حبلی امتی
شبِ معراج رات وصل کی تھی
ہوئے جلوہ فروز رب العالمین
کیا ارشادکچھ تو کہو محبوب نبی ﷺ
چشم نبی میں اتر آئی نمی
ارشاد ہوا محبوب کہو کیا ہے کمی
کہنے لگے ہمارے پیارے نبی ﷺ
ربی حبلی امتی ربی حبلی امتی
تاحیات بس کہتے رہے یہی نبیﷺ
رب حبلی امتی ربی حبلی امتی
تو پھر میں کیوں نہ پکاروں
لبیک یا رسول لبیک یا نبی ﷺ
جان نبیﷺامتی میں بستی رہی
وار کیوں نہ دے جان امتی بھی
جو ناموس نبیﷺپہ آیا حرف اک بھی
کٹ مرے گا یہی امتی بھی
رب کو پیارے نبی، نبی ﷺکو پیارے امتی
جب بھی ملاقات خدا نے کی
ہمارے نبیﷺ نے فرمائش کی یہی
کر دے رہائی میرے امتی کی
لاڈ سے جب بلایا محبوب نبیﷺ
ارشاد کیا بخشو گناہگار امتی
عر ضِ امتی ہے پیارے نبیﷺ
لائی جائے کام میں جان امتی
رہوں صدا قدم بستہ راہوں میں آپکی
تاحیات میں بھی پکاروں بس یہی
لبیک یا نبی صلی اللہ لبیک یا نبیﷺ
رضوانہ نور
سکھیکی منڈی حافظ آباد
لاجواب ماشاءاللہ❤
جواب دیںحذف کریں