نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کچھ ہماری باتیں

کچھ ہماری باتیں

 

اسلام علیکم ۔۔۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ سب۔۔۔ ۔بہت دنوں سے میں کچھ لکھنا چاہتی تھی لیکن وقت نہیں ملا ۔ امتحان  ہو رہے تھے اس لیے مصروفیت میں ہی وقت کیسے گزرا کا پتہ ہی نہیں چلا ۔میں کچھ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اور آج یہ ویڈیو دیکھی تو سوچا آپ کے ساتھ اپنے احساسات بانٹ لوں۔۔۔۔۔۔ ۔اپ کو پتہ کبھی کبھی آپ کسی کو بہت یاد کرتے ہیں۔

کبھی کبھی آپ کا کسی سے ملنے کا بہت دل کرتا ہے آپ اس سے ملنے کی دعا کرتے ہیں ۔کچھ لوگ آپ کی زندگی میں بہت خاص ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ایک میسج کا آپ بہت شدت سے انتظار کرتے ہیں اور جب کبھی اچانک میسج آ جائے تو آپ کو سمجھ نہیں آتی  ۔۔۔۔۔۔کیا بات کروں ۔۔۔۔اور ایک خوبصورت سا احساس آپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور آپ بہت خوش ہو جاتے ہیں ۔۔۔

آپ کو پتہ ہے  کچھ رشتوں کو نام کی ضرورت نہیں ہوتی ۔وہ ہمارے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ ہوتے ہیں ۔اور ہم لڑکیاں تو ویسے بھی بہت جذباتی ہوتی ہیں کسی کے مٹھاس بھرے چند جملے کسی خوش فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور کسی کا جواب نا دینا بھی آپ کو تکلیف پہنچاتا ہے ۔

کیسی کو دعاؤں میں مانگنا اور پھر اللّہ پر چھوڑ دینا ۔کسی کی خوشی میں خوش ہونا اور غم کا ساتھی بننا ۔جب کبھی  کوئی  رومنٹک فوٹو  یا وڈیو دیکھنا تو اپنے تصور میں ہی کسی کو سوچ کے خوش ہونا ۔۔۔۔چاہے کا کپ تھام کے کسی کو سوچنا اور ہولے ہولے مسکرا دینا ۔۔۔۔🙈اور  اللّہ سے التجا کرنا ۔۔۔۔ اک کن کی ہی تو بات ہے مولا  فرما دے نا 😊


دسمبر کی سرد شاموں میں 

یاد تری جب آتی ہے 

میں خود کو یوں بہلاتی ہوں 

تیری یادوں میں کھو جاتی ہوں

اور خود کو یہ سمجھاتی ہوں  

کبھی وہ دن بھی آئے گا 

میرا تو ہو جائے گا

 

تب تک ۔۔۔۔۔

ادھار رہا وہ چاہے کا کپ 😊

تنزیلہ نور





تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...