تیرے نام
تیرے نام
ہستی ہوئی وہ روشن سی آنکھیں
وہ مستی سے چور، نرالی ادائیں
وہ گالوں کی لالی،گلوں سی چمک
مہکتے چمن میں وہ پھولوں کی رانی
وہ کھلتے گلستان میں بلبل دیوانی
وہ گیسو بکھیرے ہوئے یوں ہی چل دی
وہ پریوں سی لڑکی کہاں سے ہے آئی
رکھے ہاتھ دل پہ نہ سمجھے ہرجائی
کہوں اس کو کیسے ،کہیں بکھر نہ جائے
یہ خوابوں کی دنیا ہے ،یا سچی کہانی
پل بھر میں،میں تو دیوانہ ہوا
رسیا کہوں خود کو یا میں بیگانہ
ختم میری شاعری ہے اس کی جبیں پہ
ہے اٹکی میری جاں اس کی ہنسی میں
معصوم سی بھولی بھالی وہ باتیں
لوگوں سے بے خبر وہ تاروں سی راتیں
ملوں اس سے میں جب ،دنیا بھول جاؤں
نظروں میں اس کی یونہی کھو جاؤں
دنیا سے کیا میں تو خود سے روٹھ جاؤں
ڑرتا ہوں مجھ سے کہیں دور ہو نا جائے
زمانے کی اس کو نظر لگ نا جائے
ان کھلتے لبوں کی ہسی کھو نا جائے
دعا ہے میری میرے رب سے یہی
جنوری کی اس پہلی رات میں
چڑھتے سورج سے اس نئے سال میں
چمکتے فلک پہ ہیں جتنے ستارے
اتنی خوشیاں اس کے دامن میں بھر دے
رہے آس تیری ہمیشہ اس کے من میں
کسی غیر سے وہ امیدیں نا باندھے
تمنا میں تیری وہ تجھ کو ہی مانگے
سجدے میں تیرے خوشی اپنی جانے
تنزیلہ نور
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں