میری زندگی کے سارے پنوں پر
تیرے پیار کی مہر لگا بیٹھی
خود کوجو تیرا کہ دیا
میں خود کو تجھ پہ وار بیٹھی
میرے قلب و جگر میں تو بیٹھا ہے
کبھی جھانک تو اپنے اندر بھی
تو خود کو جو میرا کہتا ہے
پھر دور کیوں مجھ سے تو رہتا ہے
سبھی اپنوں سے تیرے پیار کی خاطر
اور رسم جہاں سے بغاوت کر بیٹھی
تیری اک جھلک تک دیکھنے کو
میں روح بھی چھلنی کر بیٹھی
پیار نے تیرے بے بس یوں کر دیا
درپن میں دیکھوں،میں یہ بھول بیٹھی
ویران دل سے میں یہ روز کہوں
قدم اییں اس کے میرے آشیانے میں
رب سے نور دعا یہ روز کرے
ملے ہر خوشی اسے زمانے میں
از قلم : تنزیلہ نور😊
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں