نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حقیقی نسوانیت

 حقیقی نسوانیت 

سائرہ عباس 


اللّه کی سب سے حسین، حساس، اور پرکشش تخلیق عورت ہے۔ اسلام نےعورت کو گھر کی دہلیز کے اِس پار بہت سارے عہدے دئیے ہیں۔

 جو وہ گھر کی دہلیز کے اُس پار جا کر حاصل کرنا چاہتی ہے۔

 اسکی بہترین مثال "(ماں) ہے۔

 اک گھر کے اندر "وزارت خزانہ" ایک عورت ہوتی ہے جس کے پاس گھر کو چلانے کے لئے ایک مرد تمام طرح کی خون پسینے کی کمائی جمع کرواتا ہے۔

اس کے بعد "وزارت صفائی"

جو گھر کے تمام افراد کی مکمل صفائی ستھرایی کا خیال رکھتی ہے۔ 

"وزارت تعلیم"

پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے 

یہاں سے انسان ابتدائی اور پر اثر تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اللّه نے عورت کو حاکم بنایا کے وہ اولاد کی بہترین تربیت سے معاشرے کو بدل سکے۔برائی کو ختم کر کے بھلائی کا بول بالا کر سکے۔

"وزارت امور خانہ داری"

گھر کے تمام افراد کے لئے صحت مند غذا کا انتخاب کرنا اور پورے گھر کے کھانے پینے کو کنٹرول کرنا۔3 وقت کھانا بنا کر دینا اور گھر کے ماحول میں توازن قایم رکھنا۔

"وزارت دفاع "

خاندان کو ہر قسم کے حالات سے محفوظ کرنا، کسی بھی ایمرجنسی صورت حال کا جی جان سے مقابلہ کرنا، تن تنہا ہر صورت حال میں فرنٹ لائن سولیجرز کی ڈیوٹی سمبھالنا

یہ سب وہ منصب ہیں جو اسلام نے عورت کو چار دیواری کے اندر عطاء کئے ہیں۔

اللّه نے گھر کی چار دیواری کی مکمل حکومت ایک عورت کو  سونپی ہے۔ جب کے !

وہ یہی سب گھر کی دہلیز سے باہر جا کر حاصل کرنا چاہتی ہے۔

معاشرے کے بگاڑ کی اہم وجہ یہ ہے کے ہماری مائیں اولاد کو ،جو معاشرے کا مستقبل تھے وہ ابتدائی تعلیم نہ دے سکیں جو  انہوں نے گھر سے لے کر نکلنا تھا

 حقوق نسواں تو اسلام نے زمانہ جہالت سے لے کر اسلام کے دور دورے تک متعین کر رکھے ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کا قیام بنیادی طور پر امریکہ نے 8 مارچ 1908 کو کیا تھا۔ جس میں اس نے عورتوں کو آزادی دی تھی کے وہ فحاش سے بھرپور زندگی گزار سکتی ہے جب کے حقیقت اس کے برعکس ہے۔

یہ سارے مغربی جال  یورپ کے بچھائے ہوۓ ہیں جسکا شکار آج کی میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہوئی عورت ہے۔ وہ یورپ ہمیں حقوق نسواں سکھا رہا ہے جو عورتوں پر تشدد ،ظلم اور عورتوں کے حقوق کی پامالی میں سر فہرست ہے۔

اسلام نے عورت کے لئے جو حدود مقرر کی ہیں اگر تو عورت ان حدود کے اندر رہتے ہوۓ زندگی بسر کرتی ہے تو وہ مکمل تحفظ میں ہے مگر جب عورت اللّه کی بنائی ہوئی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔

اگر ہم قرآن کے احکامات کو دیکھتے ہیں تو قرآن میں اللّه نے فرمایا ہے کے مرد عورت کا محافظ ہے۔ عورت کی چار دیواری اسکے لئے سب سے محفوظ جگہ ہے۔ اگر کوئی عورت گھر سے باہر کسی کام کے لئے نکلتی ہے تو اسے چاہیے کے وہ اپنے منہ پر پردہ اوڑھ لے تا کے اسے غیر محرم اور حوس پرستوں کی نظر سے محفوظ رکھا جائے۔

دوسری جگہ یہ فرمایا کے عورت تنہا سفر نہ کرے وہ جب کہیں نکلے تو ایک محرم کے ساتھ نکلے تا کے وہ محفوظ رہ سکے۔ 

لا شک تحفظ اسی کو ملتا ہے جو تحفظ کا متلاشی ہوتا ہے۔

آج کی عورت تحفظ نہیں چاہتی، 

" آزادی "چاہتی ہے۔

وہ آزادی جسکا عکس مغربیت کی عکاسی کرتا ہے۔


خود سے سوال کیجیے!


ننگے منہ ،بال کھول کر ،باریک کپڑے زیب تن کر کے کوئی عورت اپنی نمودو نمائش کرے اور پھر معاشرے سے توقع رکھے کے اسکا ریپ نہ کیا جائے ؟

خود کو ہر غیر محرم کی نظر پر زنا کا ارتکابی ٹہرائے اور مرد سے نظر نیچے رکھنے کی توقع کرے

تو یہ کونسی آزادی ہے؟

اور کونسا تحفظ ہے ؟

اور ایسا تحفظ کہاں ممکن ہے؟

جو اسلام کی حدود کو پھلانگتا ہے اس کے لئے تحفظ کے دائرہ کار میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ 

صیح مسلم کی حديث نمبر 5704 میں :

رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :

"ایسی عورتیں پیدا ہوں گی جو کپڑے پہننے کے باوجود بھی ننگی ہوں گی (یعنی کے باریک اور تنگ کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے) ایسی عورتیں جہنم میں جانے والی ہیں۔"

آپ اسلام کے دائرہ کار میں رہے تو  معاشرہ کیا اللّه کی ذات آپکو اپنے عرش کا تحفظ دے گی۔ خواہ آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں موجود ہوں۔

تحفظ ملتا نہیں ہے تحفظ حاصل کیا جاتا ہے۔

عورت چھپانے کی چیز ہے، خود کو اللّه کے احکامات کی چادر میں لپیٹ کر رکھے گی تو جس طرح قرآن کا کوئی حرف کبھی بدلہ نہیں جا سکا اس طرح اس کی آبرو پر بھی اللّه کی ذات کوئی حرف نہیں آنے دے گی۔

اگر عورت خود کو بہت عام بنا کر معاشرے کے سامنے کھلا چھوڑ دے گی تو ظاہر ہے گندگی پے مکھیاں تو جمع ہوں گی۔

عورت کا تحفظ اسکے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ اس پر منحصر ہے  کے وہ کونسا راستہ اختیار کرتی ہے۔ عورت کو اپنے حقوق مانگنے کی ضرورت ہی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ اسلام نے عورت کے تمام درجے طے کر رکھے ہیں۔



اے صنف نازک!

تو ہی ہے زبر بھی اور زیر بھی

کہیں چٹان سی کہیں ڈھیر بھی  

تو ہی ہے فاتح  بھی اور شکست بھی 

کہیں نور بھی ،کہیں حور بھی

تو ہے خواب بھی ،سراب بھی

  کہیں آدھ کھلی کتاب بھی

تو ہے جنّت کی سر تاج بھی 

محرمِ عشق کی معراج بھی




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...