نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Education system of Pakistan

 "رٹوں طوطے تیار کرنا بند کر دیں آگے بڑھنے دیں کچھ نیا سیکھنے دیں تب اچھا طالب علم, بہترین نوجوان ,زمہ دار شہری اور روشن مستقبل آئےگا"

اقبال نے کیا کہا تھا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں.
پاکستان میں حکومت نے تعلیم کو کبھی بھی اولین ترجیح کے طور پر نہیں دیکھا.ہمارے ملک کا تعلیمی نظام ان انگریزوں کے قانون کی پیروی کر رہا ہے جنہوں نے یہ نظام بنایا ہی اس لیے تھا کہ نوکر پیدا کیے جا سکیں اور آج دیکھ لیں ہمارے ملک میں ڈگریاں رُل رہی ہیں مگر کوئی خود کچھ نہیں کر پا رہا ہر کسی کو نوکری کی تلاش ہے جب ہماری نوجوان قوم کو کچھ نیا سیکھنے کو ہی نہیں ملے گا تو وہ آگے خاک بڑھے گا اور یاد رکھیے جس ملک کی نوجون نسل کامیاب وہ ملک کامیاب اور جس ملک کی نوجوان نسل کا ہی بیڑا وہی پرانا رٹے کا دھکا لگا کے آگے بڑھ رہا ہے وہ ترقی پزیر کا خانہ کبھی کراس نہیں کر سکے گا.
ہمارا نوجوان لاکھوں روپے یونیورسٹیوں اور مہنگے کالجز میں لگاتے ہوئے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے ہی یہاں سے نکلا بہت بہترین جاب ملے گی گاڑی گھر سب لوں گا لیکن ہوتا کیا ہے یونیورسٹیوں سے نکل کر ہی تو ہمیں دنیا کا اصل رنگ پتہ چلتا یے سمجھ آتی ہے کہ اوہ ابھی تک تو میں نے وقت اور پیسہ برباد کیا ہے.
کیوں ہم پچھلے کئی سالوں سے ریڈی میڈ رٹوں طوطےتیار کر رہے ہیں.
ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی اسی پرانے نظام میں الجھے ہوئے ہیں ادارے طلبہ کو بے معنی سلائیڈوں، کوئزز اور امتحانات کے چکر میں مجبور کر رہے ہیں۔ جو
یہاں تک کہ اسکول اور کالج کی سطح پر بھی ادارے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور مارکیٹ میں قابل طلب کورسز متعارف کروانے کے بجائے کچھ عجیب بے ڈھنگا صدیوں پرانا سسٹم لے کر چل رہے ہیں. اب خدارا اس سسٹم کو بدل دیں کچھ نیا لے آئیں جنہوں نے یہ نظام بنایا تھا اب ان کی ہڈیان بھی گل سڑ چکی ہیں.
ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیمی نظام کو از سر نو ترتیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ خدا کے واسطے ہمارے آنے والی نسل کوکچھ کرنا سیکھائیں اسے پرسنل برینڈنگ , پروجیکٹ مینجمنٹ, اور سائنسی تجربات کرنا سیکھائیں انہیں خود کچھ بننا سیکھائیں.
بابر جنگ لڑ کے چلا گیا ہے چیونٹی دیوار پر چڑھ گئی ہے مسٹر چپس کی شادی ہو گئ ہے جس جس کو نوبل پرئز ملنا تھا مل گیا اب ہمیں نوبل پرائز حاصل کرنے کے قابل بننے دو. میڑک پاس کرنے والا بچہ نہیں ہوتا سمجھ دار ہوتا ہے اگلے 8سال جو وہ یونیورسٹیوں میں رلتا ہے جہاں اسے پریکٹیکل کے نام پر ہوا میں کیمیکل اور ریاضی کے x y فرض کرنے کے علاوہ کچھ نہیں سیکھاتے بلکے فرض کر کر کے اپنی کامیابی بھی فرضی ہی لگتی یے
چھٹی ساتویں کلاس سے وہ سیکھانا کیوں نہیں شروع کرتے جو وقت کی ضرورت ہے جو اصل سائنس ہے. جو سکلز ہیں پریکٹکل سیکھائیں جو نئے دور کی ضرورت ہیں. پرابلم سولونگ ٹیکنیک سیکھائیں. ہمارا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم مسلے کو مسلہ ہی نہیں مانتے. چودھویں تک تو ہم یہی کہ رہے ہوتے ہیں ابھی عمر ہی کیا ہے میرے بچے کی اور ادھر جن گوروں کےبنائے نظام کو ہم لے کے چل رہے ہیں آپ کے بچے سے آدھی عمر کا گورا بچہ کروڑوں کی کمپنی کا مالک ہوتا ہے.
شاہ عبداللہ دوم نے ایک بار کہا تھا کہ "آپ اپنے نوجوانوں کو جو ترغیب دیتے ہیں وہ ملک کا مستقبل بنائے یا بگاڑے گی."
تو آپ ہمیں کیا سیکھا رہے ہیں نوکری کرنا مطلب نوکر بننا اب خود سوچ لیں پاکستان کا مستقبل کتنا شاندار ہو گا.
رضوانہ نور




تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...