نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Problems of Education system and suggestions

تعلیم کے مسائل کا تنقیدی جائزہ:

بلند بانگ دعوؤں اور منصوبوں کے باوجود پاکستان کا تعلیمی نظام کئی مسائل کا شکار ہے جن میں میں سے چند کا ذیل میں تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے۔
1) یکسانیت کا فقدان:
پاکستان میں نظام تعلیم یکساں اصولوں پر مبنی نہیں ہے
ملک میں بیک وقت مختلف نظام تعلیم کام کر رہے ہیں۔ نصاب بھی یکساں نہیں ہے جس نے مختلف مکاتب فکر کو جنم دیا ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری تعلیمی اداروں، دینی مدارس سے نکلنے والے اور چند مہنگے نجی(پرائیویٹ) اداروں سے نکلنے ودلے طلبہ کے درمیان ایک فرق کی دنیا ہے.
اس رجحان نے معاشرے میں پولرائزیشن کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔
یہ تقسیم پاکستانی نظام تعلیم کا نتیجہ ہے. اس نظام نے قوم کے درمیان اور یہاں تک کہ قوم کی ثقافتی رگوں میں گہرائی تک گھس کر بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔
دہشت گردی میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ تقسیم اس منقسم نظام کے منطقی نتائج ہیں۔
معاشرے میں سیاسی، سماجی اور معاشی بنیادوں پر اتحاد کی بجائے عوام میں جو کٹوتی ہو رہی ہے۔ اور قوم مزید زبان اور علاقائی بنیادوں پر گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہی ہے جو شاعرانہ طور پر سماجی ہم آہنگی اور معاشرے کے تانے بانے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں.
2) فرسودہ نصاب:
نصاب وہ آلہ ہے جس کے ذریعے تعلیم کے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کا تعلیمی نصاب موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ یہ ایک پرانا اور روایتی نصاب ہے جو سیکھنے والوں کو حقیقت کو مدنظر رکھے بغیر کچھ حقائق اور اعداد و شمار کو یاد کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تعلیم کے مقاصد تعلیم کی نفسیاتی، فلسفیانہ اور سماجی بنیادوں کو استوار کرنا چاہیے۔ موجودہ پاکستان کا تعلیمی نصاب تعلیم اور تحقیق کے ان جدید معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ اس لیے
یہ نصاب عملی کام، تحقیق، سائنسی علم کے لیے سیکھنے والوں کی دلچسپی کو فروغ نہیں دے رہا ہے۔ مشاہدہ کی بجائے، یہ میموری اور تھیوری پر زور دیتا ہے
3) بغیر سمت کے تعلیم:
دنیا کی ہر قوم کے لیے ایک مضبوط تعلیمی نظام ضروری ہے. ہر قوم سماجی، سیاسی، معاشی اور نظریاتی پر بھرپور تربیت اور تعلیم کی بنیاد پر اپنی ترقی کرتی ہے
بنیادیں پاکستان کا تعلیمی نظام بے سمت اور کمزور ہونے کی وجہ سے لوگوں کی صحیح سیاسی اور سماجی بنیادوں پر ترقی اور رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔ تعلیمی نظام میں ہم آہنگی کا فقدان ہے اور اس کا زیادہ خطرہ ہے
عام تعلیم کی طرف جو لوگوں میں کوئی ہنر مند افرادی قوت پیدا نہیں کرتا ۔ نتیجتاً بے روزگاری بڑھتی جاتی بے . یہ صورتحال عوام میں احساس محرومی کو فروغ دے سکتی ہے.
اسکی وجہ سے معاشرے میں ثقافتی اور سیاسی بے چینی ہے۔اس کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق تعلیمی مواقع کی کمی ہے۔ اس طرح طلبہ کی سوچ استدلال اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما نہیں ہو رہی۔
4) معیاری اساتذہ کی کمی:
استاد نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی سکولوں میں اساتذہ کا افسوسناک معیار ہے۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق سکولوں میں اساتذہ اور تدریس کا معیار پست ہے۔
یہ صورتحال پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بھی زیادہ سنگین ہے۔
سکولوں میں اساتذہ دستیاب نہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اساتذہ نئے طریقے اور حکمت عملی استعمال نہیں کرتے
اساتذہ کی اکثریت سبق کی منصوبہ بندی کے بارے میں نہیں جانتی ہے جو انہیں معیاری نظام تعلیم پیش کرتی ہے۔
تدریس اور سیکھنے کے عمل میں مختلف مسائل سے نمٹنے کے قابل نہیں۔ اساتذہ طلباء کو بنا سمجھے رٹا لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
طلباء تعلیمی اداروں میں لائبریریوں کا استعمال نہیں جانتے۔
اس طرح طلبہ میں پڑھنے کی عادت کم ہوتی جارہی ہے۔ اس ساری خرابی کے ذمہ دار اساتذہ ہیں۔
یہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی کتاب پڑھنے کی طرف رہنمائی کریں۔ اساتذہ لیکچر پر بھروسہ کرتے ہیں۔
وہ طریقے جو طلباء کو تعلیم کے عمل میں بطور فعال حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
وہ صرف معلومات کو نوٹ کرتے ہیں اور صرف امتحان پاس کرنے کے لیے اسے حفظ کرتے ہیں۔ اس طرح طلباءکارکردگی کے بجائے حقائق اور معلومات کے حفظ کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے
5) اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کا فقدان:
معیاری کارکردگی کے لیے تربیت ضروری ہے۔ پڑھانا ایک مشکل کام ہے۔پاکستان میں اساتذہ کے لیے تربیتی مواقع کا فقدان ہے۔
اگرچہ ملک میں اساتذہ کی تربیت کے مختلف ادارے ہیں یہ
ادارے یا تو اچھے وسائل سے محروم ہیں یا فنڈز اور تربیت یافتہ انسانی وسائل ٹرینرز اور منتظمین کی کمی کی وجہ سے ناقص چل رہے ہیں۔ مُلک میں دستیاب تربیتی اداروں میں تربیت کا کوئی مناسب معیار نہیں ہے۔ زیادہ تر تربیتی ادارے فنڈز کی کمی کے باعث بند ہو چکے ہیں۔
ٹیچر ایجوکیشن کورسز ہو رہے ہیں مگر پرانے اور بہت روایتی ہیں جو مہارتوں اور تعلیمی معیار میں اضافہ نہیں کرتے ہیں،
6) ناقص نظم و ضبط:
سکولوں کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں میں نظم و ضبط کا فقدان ہے۔
تعلیمی ادارے جو طلباء کے بڑے پیمانے پر بد نظمی کا باعث بنتے ہیں۔
یہ رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت 40 لاکھ طلباء اسکول چھوڑ کر کسی بھی ترقیاتی کام میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔
جزوی طور پر اسکولوں میں سزا، حوصلہ افزائی کا فقدان اور غیر کَشش اسکول کے ماحول کی وجہ سے ہے جزوی طور پر والدین کی طرف سے پرورش کی کمی بھی اسکی ایک اہم وجہ ہے۔ چائلڈ لیبر اور غربت بھی اسکول چھوڑنے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پرائمری تعلیم میں داخل ہونے والے بچوں کا 30 فیصد ہی میٹرک کی سطح تک پہنچتا ہے۔
پاکستان میں اس رجحان نے کم شرح خواندگی میں بھی اضافہ کیا ہے
7 امتحانی نظام:
امتحان طالب علم کے سیکھنے کی مہارت کا اندازہ ہے۔ یہ معیار پر مبنی ہونا چاہئے اور
طلباء کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے لیے مقداری تکنیک اور معیارات کو یقینی بنانا ہوگا۔
امتحان کے عمل میں استعمال ہونے والے طریقہ کار کی درستگی اور معیار کو یقینی بنانا ہو گا۔ امتحان کا بنیادی مقصد طلباء کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ پاکستان کا امتحانی نظام نہ صرف فرسودہ بلکہ سیکھنے والوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
پاکستان کے امتحانی نظام میں صرف طلباء کی یادداشت کی جانچ ہوتی ہے۔ یہ سیکھنے کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرتا ہے
اس کے نتیجے میں امتحانی نظام بنا سمجھے رٹا کو فروغ دیتا ہے اور تعلیمی عمل میں سیکھنے والوں کی اعلیٰ فکری قوت کے کردار کی نفی کرتا ہے۔
جیسے کہ تنقیدی سوچ، عکاسی، تجزیاتی مہارت وغیرہ۔
یہ اصل کامیابیوں اور طلباء کی کارکردگی کی پیمائش نہیں کرتا۔
ناقص نگرانی کے معیارات:
اساتذہ پر نگرانی کا مقصد انہیں پڑھانے اور سیکھانے کے لیے نئ مہارتیں سمجھانا ہے.
مگر پاکستان میں نگرانی کا کردار صرف اساتذہ کی کمزوریوں یا خامیوں کو تلاش کرنا اور سخت سلوک کرنا دور دراز علاقوں میں منتقلی یا خدمات سے برطرفی کی صورت میں ہے۔ اسکولوں پر نگرانی کا عمل خود اساتذہ اور طلباء کے لیے کوئی مثبت نتیجہ نہیں لاتا۔ اساتذہ پر نگرنی کا تعلق کار گردگی کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی اور مدد فراہم کرنے کی بجائے اساتذہ کو کنٹرول اور ہراساں کرنا ہے۔
9) پالیسی کا نفاذ:
قیام پاکستان سے لے کر اب تک کئی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئیں۔
یکے بعد دیگرے حکومت کی جانب سے پالیسیوں کو بھرپور طریقے سے نافذ کرنے کی سیاسی طور پر کمی رہی ہے پالیسیاں انتہائی اہم اور قابل قدر تھیں لیکن حقیقی طریقے اور جذبے سے لاگو نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان میں کرپشن کا مسئلہ فنڈز کی کمی اور مختلف سیاسی حکومتوں کی جانب سے یکے بعد دیگرے منصوبہ بندی میں مجموعی عدم مطابقت ہے
مزید یہ کہ مجموعی پالیسی سازی میں اساتذہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کا شمار غیر اہم عنصر میں ہوتا ہے۔
جو اساتذہ اور نظام تعلیم کے درمیان بیگانگی کا باعث بنا ہے.
10) تعلیم کے لیے کم بجٹ:
فنانس کو کسی بھی نظام کا انجن سمجھا جاتا ہے۔بنیادی طور پر مالیات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کا تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ حکومتیں تعلیم کے شعبہ میں 2.5 فیصد سے بھی کم بجٹ دیتی رہی ہیں۔جو موجودہ دور میں قوم کی بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
بدلتے وقت بہت سے ترقی پذیر علاقائی ممالک جیسے کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں
تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس میں روز بروز کمی آرہی ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 12 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مجموعی ملکی پیداوار میں سے تعلیم کے شعبے پر 2 فیصد سے بھی کم خرچ کیا ہے۔
2015 کے "Dakar Conference کے ترقیاتی اہداف کے مطابق ملک اس ناکافی بجٹ کے ساتھ
پرائمری تعلیم کی عالمگیریت کے اہداف کو بمشکل ہی پورا کرنے جا رہا ہے۔
11) وسائل کی کمی:
تعلیمی وسائل جیسے کتابیں، لائبریریاں اور جسمانی سہولیات
تعلیمی عمل کو ہموار چلانے کے لیے اہم ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کتابیں، لائبریریاں اور پڑھنے کے مواد کی کوئی سہولت نہیں ہے۔
ملک کے تعلیمی ادارے اس کے علاوہ طلباء سے بھرے کلاس رومز، ناکافی اساتذہ اور لیبارٹریز میں ضروری سامان کا نہ ہونا ہے اس تمام گھمبیر صورتحال کا نتیجہ مایوسی اور کم معیاری تعلیم کی صورت میں نکلا ہے۔
12) بدعنوانی:
دیگر وجوہات کے علاوہ، بدعنوانی(کرپشن) اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے جس نے پاکستان کے تعلیمی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
احتساب کا کمزور نظام ہے جس نےبہت سے جرائم پیشہ عناصر کو فنڈز کے غلط استعمال، فنڈز کی تقسیم، تبادلوں، ترقیوں اور فیصلہ سازی میں غیر ضروری احسانات اور اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کی ترغیب دی۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
کم تنخواہوں کی وجہ سے اساتذہ اچھے معیار زندگی کی تلاش میں ہیں۔ اور یہ امتحان سرٹیفکیٹس، ڈگریوں وغیرہ سے متعلق معاملات میں غیر منصفانہ عمل اختیار کرتے ہیں۔
نتیجہ:
اس مقالے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ تعلیم لوگوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی دیتی ہے جیسے سماجی، اخلاقی،
روحانی، سیاسی اور اقتصادی یہ ایک متحرک قوت ہے جو ہر قوم کو اپنے قومی مقاصد مجموعی طور پر حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔
یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ جن ممالک نے ایک اچھا نظام تعلیم تیار کیا ہے ان کے پاس مضبوط سماجی اور سیاسی نظام ہے.موثر تعلیمی نظام کے ساتھ بہت سے ممالک قوموں کی برادری میں قیادت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وہ اپنی آزادیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں سیاسی اور معاشی طور پر بھی آزاد اور ترقی یافتہ ہیں۔ پاکستان کا تعلیمی نظام ملک میں اپنا کردار موثر انداز میں ادا نہیں کر سکا. اس عنصر نے پاکستانی معاشرے میں مایوسی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی آنے والی نسل ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے بے سمت ہے جس کی وجہ سے قوم معاشی، سماجی، سیاسی اور اخلاقی بنیادوں میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
نظام تعلیم بے تحاشہ ڈگری ہولڈرز تیار کر رہا ہے جو اعلیٰ ترتیب کی مہارتوں جیسے عکاسی نظر، تنقیدی سوچ، تجزیہ، تحقیق اور تخلیقی صلاحیت سے محروم ہے.
تعلیمی نظام نے بچوں کو ترقی کی طرف بڑھانے کی بجائے
پرانی معلومات اور علم کے حامل افراد جو موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا سے کم متعلقہ ہیں اُن پر توجہ دی ہے۔
پاکستانی نظامِ تعلیم سے نکلنے والے طلبہ نظریاتی طور پر مضبوط ہیں لیکن ان میں کوئی مہارت نہیں ہے۔
تدریس اور سیکھنے کے روایتی طریقوں کی وجہ سے وہ اپنے اداروں سے جو کچھ سیکھتے ہیں اسے لاگو کریں۔
آخر میں، یہ کالم یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ تعلیم کے نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔

تعلیمی نظام میں بہتری کے لیےتجاویز:

1) پرائمری سے ہائیر کلاسسز تک کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے معیاری ادارے ہونے چاہیں. اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں کے موجودہ نظام کو منڈز فراہم کیے جائیں اور اساتذہ کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی پروگرام چلانے چاہیں.
2) مجموعی ملکی پیداوار GDP میں تعلیم کے لیے مناسب بجٹ مختض ہونا چاہیے.
3) نصاب کا سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں اساتذہ، والدین اور کمیونٹی کی ان کی توقعات اور مشاہدات کے بارے میں ایک وسیع سروے کیا جا سکتا ہے ۔ ماہرین تعلیم کے تجربات اور مشاہدات
کی روشنی میں نصاب کے اہداف ہونے چاہئیں اور اس طرح ایسا نیا نصاب تیار کیا جائے جو بلا تفریق ذات پات، رنگ و نسل
معاشرے اور ملک کی نفسیات اور ضروریات کو پورا کرتا ہو۔
4) احتساب کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور اس نظام سے وابستہ تمام پیشہ ور افراد کا احتساب کیا جائے۔
افراد کو انفرادی اور اجتماعی بنیادوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی تعلیم دی جائے۔ اس سے نظام میں ملکیت کا احساس پیدا کرنے اور اس کے افعال انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔
5) جہاں تک ممکن ہو کم سیاسی مداخلت ہونی چاہیے۔ یہ نظام کو آسانی سے اور بغیر کسی امتیاز کے کام کرنے کی اجازت دے گا۔ بار بار کی سیاسی مداخلت سے نظام میں خلاء پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ
کرپشن اور دیگر برائیاں ہے۔
6) امتحانی نظام کو غیر منصفانہ ذرائع، کرپشن اور غیر قانونی مافیا سے پاک کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے نگرانی اور معائنہ کے دونوں نظام کو جسمانی اور نظریاتی طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی ماہرین کی تنخواہوں میں اضافہ کرے۔
تاکہ ان کا رجحان احسانات اور حمایت حاصل کرنے کے برے ذرائع کی طرف نہ موڑ جائے.
7) پولیسی کو وقت اور وسائل کی تاخیر کے بغیر نافذ کیا جانا چاہئے۔ حکومت کی جانب سے سیاسی بغیر کسی تاخیر کے پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مضبوط عزم ہونا چاہئے.
پالیسی پر ناقص عمل درآمد نے عوام اور حکومتی تنظیم کے درمیان خلاء اور اعتماد کا فقدان پیدا کیا ہے۔
8. تعلیمی اداروں میں تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں تدریس اور سیکھنے میں تحقیق پر مبنی پروگراموں کی رفتار کو تیز کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو
ملک بھر میں خاص طور پر اعلیٰ سطحوں پر حکومتی فنڈز کو بڑھانا چاہیے۔

رضوانہ نور


#Allahamiqbal #Eduaction #Pakistan #Education_system_of_Pakistan ##issuesinpakistaneducation, رضوانہ نور# #RizwanaNooor #Rizwanaliaqat







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...