انسان ہمیشہ سے ہی بلندیوں کا طلبگار ہوتا ہے۔کچھ انسان اپنی زندگی کو فضولیات میں ضائع کردیتے ہیں تو کچھ اس زندگی کو غنیمت جان کر کامیابی کے حصول کیلئے شب و روز تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔اس طرح وہ اپنی تخلیقی ذہنوں سے کچھ نہ کچھ نیا کرتے ہیں۔اس طرح ہی اردو ادب کے میدان میں ایک نئے اور منفرد موضوع کو لیے ہوئے کتاب کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔جس کا نام " ان مع العسر یسر" ہے۔اس میں کرونا وائرس کے عروج کے زمانے میں آپ کو کس طرح کی مثبت سرگرمی یا اچیومنٹ نصیب ہوئی ؟ اس بارے میں تحاریر لکھنا تھا۔کچھ نامور اور نئے لکھاریوں کے تخلیقات کو لیکر پبلش ہونے والا یہ کتاب پاکستان مینٹور کمیونٹی کے روح رواں رضوانہ نور کی انتھک کوششوں کا ثمرہ ہے۔اس کو مرتب کرنے میں کم از کم 8 مہینوں کا وقت لگا ہے۔
قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم تنزیلہ نور استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن معلوم ہونا چاہے کہ ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں