انسان ہمیشہ سے ہی بلندیوں کا طلبگار ہوتا ہے۔کچھ انسان اپنی زندگی کو فضولیات میں ضائع کردیتے ہیں تو کچھ اس زندگی کو غنیمت جان کر کامیابی کے حصول کیلئے شب و روز تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔اس طرح وہ اپنی تخلیقی ذہنوں سے کچھ نہ کچھ نیا کرتے ہیں۔اس طرح ہی اردو ادب کے میدان میں ایک نئے اور منفرد موضوع کو لیے ہوئے کتاب کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔جس کا نام " ان مع العسر یسر" ہے۔اس میں کرونا وائرس کے عروج کے زمانے میں آپ کو کس طرح کی مثبت سرگرمی یا اچیومنٹ نصیب ہوئی ؟ اس بارے میں تحاریر لکھنا تھا۔کچھ نامور اور نئے لکھاریوں کے تخلیقات کو لیکر پبلش ہونے والا یہ کتاب پاکستان مینٹور کمیونٹی کے روح رواں رضوانہ نور کی انتھک کوششوں کا ثمرہ ہے۔اس کو مرتب کرنے میں کم از کم 8 مہینوں کا وقت لگا ہے۔
طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں