نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Yusra Book

 خش خش جتنا قدر نی "میرا"

تے میرے "صاحب" نوں وڈیائیاں
"میں" گلیاں دا روڑا کوڑا
تے محل چڑھائیاں "سائیاں"
الحمہ اللہ رب العالمین.
یقیناً یہ ایوارڈ مجھے اس ایک پیغام کی بدولت ملا ہے جو میں نے "یسرا" میں دینے کی کوشش کی ہے.
یہ کتاب کرونا وائرس کے وقت لوگوں کی زندگیوں پر پڑنے والے مثبت اثرات کے بارے میں لکھی گئ ہے. اُس وقت پوری قوم کو جانی و مالی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور اس کتاب کا مقصد ہی اِس درد میں راحت محسوس کروانا ہے.زخموں سے چُور دلوں پر مرہم رکھنا ہے.
یسرا (انا مع العسر یسرا) کا لب لباب کچھ یوں ہے:
زندگی میں مشکلات کا طوفان بھی اُمڈ آئے تب بھی اپنی زبان کو شکوے کا زہر نہ چکھنے دیں کلمہ شکر کا ورد اپنی زبان پہ جاری رکھیں اور اگر تکلیف اتنی بڑھ جائے کہ شکر نہ ہو سکے تو صبر کی گھنی چادر اوڑھ لیں. جب جب زخم ملے شکر ادا کریں رب نے آپ کے اندر کا اندھیرا ختم کرنے کے لیے روشنی کا سبب پیدا کر دیا.
مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں "زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے"
میرایقین کیجیے جو مقام و مرتبہ درد دل ملنے کے بعد انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ عام انسان کے لیے حاصل کرنا ممکن نہیں. وہ جودنیاوی سہارےچھن جانے کے بعد عطا ہوتا ہے وہ لا زوال ہے. اسی لیے جب تکلیف ملے سہارا چھن جائے دل درد سے تڑپ اٹھےتو اس درد کو رب العالمین کے سامنے شکوہ مت بننے دیں.
میں آج جس مقام پر بھی ہوں اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ کی وجہ سے ہی ہوں اور ان شاءاللہ ہمیشہ ایسے ہی محنت کرتی رہوں گی.
میں ٹیم لیڈرز پاکستان مینٹور کمیونٹی، دوسرے لکھاریوں اور روز نامہ طالب نظر کی تہہ دل سے مشکور ہوں اس دوران جنہوں نے میرا ساتھ دیا میری نظر میں وہ بیش قیمت موتیوں سے بھی زیادہ اہم ہیں.
رضوانہ نور

اس منفرد اور بہترین کتاب کی ابتدائی قیمت پانچ سو 500 روپے رعایتی قیمت رکھی گئی ہے۔اس کتاب کو پاکستان میں کہیں بھی منگوانے کیلئے اس واٹس لنک پر جاکر آرڈر کریں۔ https://wa.me/923177465951 پاکستان مینٹور کمیونٹی کے بارے میں مزید جاننے کیلئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کردیں۔آپ کو تفصیل میسر ہوجائے گا۔ https://www.youtube.com/channel/UCl8K-q3NDYnK5ZfpvLU6yWA?sub_confirmation=1 PMC YT. Facebook https://web.facebook.com/Pakistan-Mentor-Community-106061224995985 Insta. . https://www.instagram.com/pakistanmentorecommunity/ Pakistanmentorcommunity@gmail.com




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم

 قوم کے معمار کی توقیر ہے لازم  تنزیلہ نور   استاد وہ ہستی جوحال میں ملے تو ماضی بھلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔ایک بزرگ نے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے ؟کوئی خاص جواب نا پا کر کہنے لگے :-" جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مر سکتا ہے "نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے۔۔''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘مگر آج بچے اساتذہ کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور ان سے آگے چلنا انکے برابر بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں '' کاش ہم ان ہستیوں کے احترام کو جان سکیں کہ آج ہم جو ہیں وہ اپنے استاد  کی وجہ سے ہیں۔ اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے اس دور میں ایک سچا استاد (گرو) کہاں ملتا ہے؟ اب تو صرف روزی کمانے کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں آج کل سننے کو عام ملتی ہیں لیکن  معلوم ہونا چاہے کہ  ایک سچے انسان کی تلاش ایک سچا انسان ہی کر سکتا ہ...

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟ میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔ چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔    ایسا تو ...

سانحہ پشاور اھ پی ایس

 سانحہ اے پی ایس ازقلم جنت ملک شہر ہری پور سانحہ اے پی ایس 2014 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ  پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو اشکبار  کیا۔ کسی کے وہم و گماں میں نہیں تھا اس دن خیبر پختونخواہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کیا ہونے والا ہے۔  یہ وہ دن تھا جس کا سورج بہت روشن اور چمکدار ابھرا اور دن کا اختتام خون کی ہولناکی کے ساتھ ہوا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لہو کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ معصوم بچے گھروں سے ماؤں کی دعاؤں میں نکلے, نہ ان ماؤں کو خبر تھی ان کے لخت جگر واپس لوٹیں گے نہ ان معصوم شہیدوں کو خبر تھی آج ان کی زندگی شہادت پر ختم ہو گی۔ دہشت گردوں کی زد میں آنے والے معصوم جانوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں ان میں سے کچھ بچوں کا سکول میں پہلا دن تھا اور زندگی کا آخری دن۔۔۔ کچھ بچوں نے گھر سے پیٹ درد کا بہانہ بنایا ہوگا اور ماں نے بہلا  کر سکول بھیجا ہوگا۔۔۔ کچھ بچے اپنے دوستوں کی ڈھال بنے انہیں بچانے کے لیے خود اپنی معصوم جسموں پر 13۔13 گولیاں کھائیں۔۔ آہ انسانیت آہ۔۔ ان دہشت گردوں کو ان چیخوں پر ان جانوں پر ذرا ت...