Transgender act 2022
2022 ٹرانسجینڈر بل
میں ٹرانسجینڈر بل پاس ہونے کے حق میں بلکل نہیں ہوں بلکل غلط ہوا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
لیکن آپ مجھے یہ سمجھائیں کہ اس بل کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیوں یہ لوگ اپنا حق مانگنے پر مجبور ہوئے اور حکومت نے یہ بل پاس کیا؟
اس لیے کہ ہم نے اسلام کو نہ پڑھا نہ سمجھا نہ اسلامی تعلیمات پر عمل کیا ہم نے صرف اور صرف اسلام کو اپنے مطلب اور مقصد کے لیے "ٹچ" کیا. اور اب جب ہمارے اس "اسلامک ٹچ" کا نتیجہ ہمارے سامنے آیا ہم تڑپ اٹھے۔
اب کیوں سڑکوں پر نکلتے ہو تب کیوں نہیں نکلے جب ایک "انسان" کو صرف "خدا کے طرف سے" دیئے کسی ایک "نقص" کی وجہ سے بنا کسی گناہ کے قتل کر دیا جاتا تھا۔ وہ عیب جو اس کو خدا کی طرف سے ملا جس میں اس کا کوئی اختیار نہیں اس وجہ سے آپ کو اس سے گھن آتی رہی۔ آپ اس کو محلے میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ تب ہم کہاں تھے جب ہمارے نام نہاد مرد و خواتین اپنی چند لمحوں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے اسی "ٹرانسجینڈر" کے ساتھ زیادتی کرتے تھے اور پھر انکو قتل کروا دیتے تھے۔ جا کر پڑھیں اسلام میں واضح طور پرحقوق دئیے گئے ہیں۔
اسلام نے کہا ہے جیسی بھی اولاد ہو اس کو جائیداد میں حصہ دیں پھر کیوں ان کو پیدا ہوتے ہی گھروں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ؟ کیا یہ اسلام نے کہا یا حکومت نے قانون بنایا یا پھر ہماری جہالت ہے۔
اللہ رب العزت نے حکم دیا اور اسکے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیمات سیکھائیں کہ کسی کو برے ناموں سے نہ پکارو۔ اب خود کے دامن میں جھانکو ہم کیا کرتے ہیں ؟ سال یا چھے ماہ بعد جب ہمارے محلے میں وہ داخل ہوتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں کیسے کیسے ناموں سے انکو پکارتے ہیں مردانگی کے مارے مرد انکو کس کس طرح چھیڑتے ہیں۔
روزگار میں انکو کوئی حق نہیں کیوں کیا وہ انسان نہیں ہیں یا انکو من و سلوی آئےگا۔ یقین مانیں انکو تو آبھی جائے لیکن جیسے ہمارے اعمال ہیں ہم تو من و سلوی کی خوشبو کو بھی ترس جائیں گے۔
رسول اللہ کے دور میں بھی ایسے لوگ یقینا تھے اور انکے حوالے سے مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔ اصحابہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت عمر، ابوبکر علی اور عثمان رضی اللہ کے دور میں بھی ہوں گے جا کر پڑھیں کیا انکو رہائش ، تحفظ، ذریعہ معاش اور بنیادی زندگی کے حقوق حاصل تھے یا آج کی طرح سانس لینے کا حق بھی زمینی خداؤں نے چھین رکھا تھا۔
ہم انسان کو انسان نہیں سمجھتے اللہ اور اسکا محبوب نبی مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جانوروں سے بھی پیار کی دلیل دیتا ہے۔
اب سوچو یہ غلط عمل ہوا تو کیوں ہوا؟
یہ ہمارے غلط اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ سب ہوتا ہی نہ اگر ہم ٹرانسجینڈر کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم نہ کرتے اور اسلامی نظریہ کو مکمل اپنی زندگی اور اپنے اعمال میں لے کر آتے صرف اسلامی باتیں کرنے کی بجائے اسلامی زندگی گزارتے۔
جب ہم لوگ اسلام کے مطابق پوری زندگی گزارنے کی بجائے صرف "اسلامک ٹچ" اور اپنے مطلب کا اسلام اپنائیں گےتب ایسا ہی ہو گا۔ ہم تو منافق ہیں ہمیں اپنے آپ سب گھن کیوں نہیں آتی جب گناہ ہوتا دیکھتے ہیں خاموش رہ کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں اور جب اس گناہ کا نتیجہ نکلتا ہے تو چیخ اٹھتے ہیں نعرے بازی کرتے ہیں۔
اصل نعرہ تو اس وقت اٹھنا چاہیے جب گناہ کی شروعات ہو۔ اس وقت نہ کوئی سیاسی پارٹی قدم بڑھاتی ہے نہ عوام بولتی ہے نہ مولوی حضرات کچھ ارشاد فرماتے ہیں اور حکومت کیا ہے وہ تو ہم سب ہی ہیں جب ہم گناہ کے حامی ہوں تو حکومت کیا کرے۔
ہمارے موجودہ جوشیلے واٹسیپ کے سکالرز مرد و خواتین بھی اگر ٹرانسجینڈر سے انکے بارے میں "چسکے" لینے کی بجائے اچھا سلوک کریں اور اسلام کو ہر طرح اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو ہو سکتا ہے اس طرح کا نیا بل نہ آئے ورنہ پھر اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں۔
جب تک ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں ہو گا تب تک اسطرح کے مسائل آتے رہیں گے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں