نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

 صبر کیا ہے؟ صبر کیسے آتا ہے؟ کیا یہ خود ہی آجاتا ہے یا کرنا پڑتا ہے؟ صبر کرنے سے کیا ہو گا؟

میرے خیال سے صبر سے مراد یہ ہے کہ جب درد ہو، تکلیف ہو یا زندگی میں مصائب بڑھ جائیں اس وقت اللہ سے شکوے شکائتیں نہ کرنابلکہ یقین رکھنا کہ اس میں اللہ پاک کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی ۔

چند ماہ پہلے میری چھوٹی بہن کی اچانک طبعیت خراب ہوئی گلا بند ہو گیا ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔ اب ہم سب بہت زیادہ پریشان تھے چھوٹی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس کو کہا پریشان نہیں ہونا بس تھوڑی سے تکلیف ہے لیکن ان شاءاللہ جلدی آرام آ جائے گا پھر طبعیت سنبھل جائے گی۔ اب جب میں جانتی ہوں کہ اس کو درد ہو گا اور وہ مجھے اتنی پیاری ہے کہ کوئی اس کو ایک لفظ بھی کہے برداشت نہ کروں پھر خود اس کو اتنی تکلیف میں کیوں بھیج رہی ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس کے درد کو تکلیف کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اگر آپریشن نہیں ہو گا تو اس کو ہر وقت تکلیف ہو گی۔ یعنی یہ کچھ وقت کا درد اس کو آرام دینے کے لیے لازم ہے۔یہ سمجھ لینا کہ یہ درد اور تکلیف مل رہا ہے تو اس میں میرے لیے بہتری ہے۔ بس یہی صبر ہے۔  

 ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ انسان شدت درد کی کیفیت میں مبتلا ہو اور وہ روئے نہ، اس کا کوئی اپنا دنیا ہے چل بسے اور وہ تڑپے نہ۔ جب ہمارے محبوب نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لخت جگر کی وفات ہوئی تو آقا کی آنکھیں مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئیں ۔ جب صابروں کے سردار امام حسین رضی اللہ عنہ نے شہزادہ امام علی اکبر اور امام علی اصغر کو تیر لگتے دیکھا تو انکا دل چھلنی ہو گیا تھا۔ ہم تو ان کے قدموں کی خاک برابر بھی نہیں۔ تکالیف میں رونا ، دکھی ہونا ، پریشان ہو جانا اس سب سے مراد یہ نہیں کہ یہ انسان صابر نہیں، صبر یہ نہیں کہ انسان کو درد ہو تو وہ فریاد ہی نہ کرے بلکہ صبر تو یہ ہے کہ انسان دکھ میں آ کر شدت غم سے گھبرا کر دل یا زبان سے شکوہ نہ کرے بلکہ رب پر یقین رکھے کہ آج نہیں تو کل حالات بہتر ہو جائیں گے۔ قرآن میں بار بار کیے گئے وعدوں پر یقین رکھے کہ میرا خالق میرے زخموں پر مرہم لگائے گا۔ 

صبر کی اہمیت اتنی ہے کہ جو اس کو اپناتا ہے یہ اس کو دین و دنیا میں بلند مرتبے عطا کرتا ہے۔ 

دنیا و جہاں کا خالق و مالک قرآن پاک میں بار بار صبر کرنے کا کہہ رہا ہے کبھی کہتا ہے میرے بندے دکھی نہ ہو میں تیرے دل کی حالت سے واقف ہوں۔ پھر کہتا ہم تمہارا اسطرح رونا تڑپنا دیکھ رہے ہیں۔ پھر کہتا ہے غمگین مت ہو میں جلد ہی تجھے اتنا عطا کروں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ اور پھر دنیا و جہاں کی رنگینیاں بناتا ہے دل کو لبھانے والے منظر بنا دیتا ہے اور فرماتا ہے یہ روز و شب یہ عرش و فرش یہ مشرق و مغرب یہ سب تیرے لیے بنایا ہے اور خود اس قدر رحیم و کریم ہے کہ سب چھوڑ کر بندے کے دل میں بسیرا کر لیتا ہے۔ 

حالت اضطراب میں بھی شکوے کا لفظ ذہن و گمان میں نہ آنا اور آنکھ سے آنسو تو ٹپکے چاہے لہو یہ یقین ہو یہ عقیدہ ہو کہ یہ تکالیف میری بھلائی کیلئے ہیں اور یہی عقیدہ صبر ہے۔

اور یاد رکھیں صبر آ بھی جاتا ہے انسان تکلیف میں بلکتا ہے روتا تڑپتا ہے آہستہ آہستہ تھک ہار کر خاموش ہو جاتا ہے لیکن اس کا کوئی اجر نہیں۔ اجر ہے تو اس بات کا کہ انسان جانتے بوجھتے ہوش و حواس میں خود صبر کرے۔ جب انسان خود صبر کرتا ہے تو رب اس کے دل کی دراڑوں کو اپنے نور سے بھر دیتا ہے۔ صبر کی طاقت کو بیان کرنے کے لیے بہت بڑے دلائل کی ضرورت ہی نہیں ایک آیت کافی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ اللہ تعالٰی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔ یعنی تمام طاقتیں جس کے کن کی محتاج ہیں وہ کہہ رہا ہے کہ میں صبر کرنے والے انسان کے ساتھ ہوں۔ جب دنیا میں کوئی بڑا آدمی جھوٹا سا ہی کہہ دے یار میں تمہارے ساتھ ہوں انسان پھولا نہیں سماتا تو جو صبر کرنے والوسن کے ساتھ ہے وہ اس کا تو ہر وعدہ سچا ہے۔ یاد رکھیں صبر ہمیشہ آپ کو ایک خاص مقام ، مرتبہ اور رتبہ عطا کر دیتا ہے صبر ستانے والے کی جڑیں ہلا کر رکھ دیتا ہے اور صابر کو ستانے والے ہمیشہ پچھتائے ہیں۔ 

صبر کی طاقت اتنی ہے کہ جو اسے اپناتا ہے یہ اسکو تا عمر بلندیاں نواز دیتا ہے صفا اور مروہ ایک عورت کے صبر کی نشانی ہیں جب جب آپ کو زندگی کے تپتے صحرا میں تڑپتا چھوڑ دیا جائے ہر بار دنیا و جہاں کے مالک پر یقین رکھ کر اسماعیل کی طرح ایڑیاں رگڑنا جب جب دنیاوی بھیڑیوں سے خوف زدہ ہو تو اماں ہاجرہ کی طرح اس خالق کی در پر بے چین چکر کاٹنا اور دل میں یقین رکھنا کہ وہ رحیم و کریم ہے میری تڑپ دیکھ رہا ہے مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا تو پھر یقینا زم زم کے چشمے پھوٹیں گے۔ درد چھٹ جائے گا خدا کا نور مرہم بن کر دل میں آ ئے گا۔ ہر درد کو آرام مل جائے گا۔دل کی ہر دراڑ کو وہ اپنے نور الہی سے بھر دے گا۔ 

صبر مشکل سہی، اس میں درد سہی، یہ غموں کا پہاڑ سہی لیکن ایک دن یہ تمہیں اپنی چادر میں چھپا لے گا تمہارے درد راحت میں بدل دے گا اور آنسو نرم سی مسکراہٹ بن جائیں گے۔ یہی صبر آپ کی انگلی تھام کر بن بتائے آپ کو شکر کے دروازے پر لے جائے گا۔ 


🖋️رضوانہ نور



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طالبِ نظر

  طالبِ نظر آپ ہیں میرے احد میں ہوں آپکا گناہگار بندہ آپ ہیں بے نیاز الصمد اللہ میں لاعلم بدگمان بندہ اوقات نہیں میری پر میرا دل کرتا ہے اک التجا اللہ موسیٰ کو جو دیکھائی تجلی رہ کے دل میں میرے اوجھل ہیں کیوں اللہ دل تڑپتا ہےمیرا دیدار کو مگر کیوں ہیں چشمِ تر سے آپ مخفی اللہ وہ جس تجلی کے لیے موسیٰ گئے اتنی دور لیے پھرتی ہوں دل میں وہ نور اللہ قلب بسمل کی ہے اک ہی عرض اللہ ظاہر ہو جلوہِ رحمٰن و رحیم اللہ کرو نظرِ کرم مجھ عاصی پر میں ہوں آپ کی طلبگار اللہ میں ہوں سیاہ کار, کرو عفودرگزر اللہ گِر چھوڑا آپ نے کون کرے گا پرواہ اللہ شمار میں بھی تو ہوں امتیوں میں ہوں خطاور مگر آپ ہیں رحمن اللہ آپ رب العالمین, محبوب ہے رحمت اللعالمین ہو گی کیوں حشر میں مجھکو سزا اللہ محبوب رب نے بھی واسطے امتی کے رو رو کے کی ہے آپ سے دعا اللہ ہے عرض رہے سلامت ماں میری ہے اسکو بھی مجھ سے محبت بے پناہ اللہ کل نفس ذائقۃالموت ہے فرمانِ ربی ہو مدفن میرا جننت البقع میں اللہ ہو نظرِ کرم نور پر صدقہ رسول اللہ میں ہوں طالب آپ میرے مطلوب اللہ ☜ازقلم: رضوانہ نور 27رمضان المبارک 10م...

حقیقت پر مبنی افسانہ

تحریر:  زمّرد سلطانہ  حقیقت پر مبنی افسانہ  افسانہ: سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر شبانہ رحمان ریڈنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں پچھلے 20 سال سے  مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ وہ اس وقت کی بات ہے جب وہ حادثات میں ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف تھیں۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نارمل روٹین میں سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دوکانیں، مارکیٹں، ریڑھی بان ،چابڑی والے، حجام، قصائی اور غبارے والے سب اپنی اشیاء بیچنے اور اپنے کاموں میں محو تھے۔  صبح کا وہ دن تھا جب مائیں بچوں کو تیار کرکے لنچ باکس دے کر ڑرائیور کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڑرائیور کے آنے پر بچوں کی بھاگ دوڑ نے گھر میں رونق لگائی ہوئی تھی۔ مائیں بھی بچوں کو بھگا کر وین، رکشہ یابس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ جب بچے اسکولوں میں پہنچ گئے تو ماؤں نےسکھ کا سانس لیا۔ پھر اسکول کی گھنٹی بجی اور اسمبلی میں تمام اساتذہ بچوں کو  قطاروں میں کھڑا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلی ہوئی اور بچے اپنی جماعتوں میں مقرر کردہ سیکشن میں چلے گئے۔ بیٹھتے ہی اپنے ہم جماعتوں کے سات...

مکافات عمل Makafat-e-Amal

از قلم: تنزیلہ نور سکھیکی منڈی حافظ آباد        " مکافات عمل" کیا معافی مانگ لینے سے کسی کی تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہے ؟   ھر گز نہیں  آپ کی معافی سے کسی کی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی بلکہ معافی تو خود کو تسلی دینے کا اک طریقہ ہے کسی ہنستے مسکراتے چہرے پہ جب آپ کی وجہ سے دکھوں کے بادل منڈلانے لگیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو بھی کسی طرح اور کسی بھی وقت اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا  زندگی مکافات عمل کا دوسرا نام ہے  ہم نے بہت دفعہ اپنے بڑھوں سے سنا ہوتا ہے کہ جو کچھ بویں گے وہی کاٹیں گے ۔۔۔۔اس زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے  خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔انسان بعض اوقات اپنی اوقات بھول جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے اگر خودی کو جان لے گا تو اسے سب کچھ معلوم ہو جائے گا کونکہ اسی میں  ہی سب کچھ ہے خدا بھی اور خدائی بھی ،انسان بھی اور انسانیت بھی ۔جب خود کو تکلیف ہوتی ہے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی میرے لفظوں کے تیر نے اس کے تن بدن کو چھلنی کر د...