ایک سوال ہے
دو بھائی کسی بھی اختلافات کی بنا پر آپس میں لڑیں تو جیت کس کی ہو گی ہار کس کی ہو گی؟
چلو فرض کرتے ہیں ان دونوں میں سے کوئی ایک جیت بھی جائے تو پتہ ہے ہار کسی کی مستقل نقصان کس کا ہے؟ ماں کا۔
یہ اسلام کے نام پر بنا وطن ، یہ دھرتی ، یہ مٹی ہماری ماں ہی تو ہے ۔
پھر کیوں آج مشکل حالات میں مل بیٹھ کر مشاورت اور سمجھ بوجھ سے کام لینے کی بجائے ہم اسی ماں کو جلانے پر تل گئے ہیں۔ کیوں ہم اس کے محافظ اس کے اپنے غیروں کے سامنے اس کا سر بلند کرنے کی بجائے خود جھکا رہے ہیں ۔ امن و امان کے نام پر بنے وطن عزیز میں آج ہر طرف ایک عجیب بھگدڑ مچی ہے پورا ملک انتشار کی حالت میں ہے کہیں آگ ہے تو کہیں خون ہی خون۔ حالانکہ ہمیں تو یہ وطن اپنی جان سے بھی پیارا ہے ناں پھر کیوں اس کے کوچے کوچے میں آگ لگائی جا رہی کیوں اپنے ہی اپنوں کو کچل رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے بند، کاروبار بند ، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں امتحانات ملتوی ہو چکے ہیں اور ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی کس معاشی بحران سے گزر رہا تھا اوپر سے عوام کا اپنے ہی پیسے سے بنی عمارات اور مختلف مقامات کو جلا دینا کروڑوں کا نقصان ہے اور نقصان بھی کس کا؟ صرف اور صرف عوام کا۔ جو آگ لگا رہے ہیں انہی کا۔
یعنی گھر کو آگ لگا دی گھر کے چراغ نے؟
والدین گاوں میں بیٹھے اپنے بچوں کی سلامتی کی دعائیں کر رہے ہیں بچے شہر میں سڑکوں پر جلاو گھیراؤ کر رہے ہیں کیا یہی ہے امن و سلامتی والی قوم۔
کسی علاقے میں جب ایک معمولی نظر آنے والا بس سٹاپ کو جلا دیا جاتا ہے تو پھر سالوں تک وہی عوام اسی علاقے کے لوگ بارش، گرمی سردی میں بغیر کسی چھت کے کھڑے رہتےہیں، کسی طاقتور کو قطعاً کچھ فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو صرف عوام کو ہی۔ جب ملک کی حفاظتی اداروں کو ملک کی عوام نقصان پہنچائے تو بیرونی دشمنوں کے لیے کھلے عام دعوت کا سما ہوتا ہے کہ آو ہمیں نوچ کھاو۔ احتجاج ہر دور میں ہوئے ہیں، ہوتے ہیں، اور ہوتے رہیں گے، لیکن یہ توڑ پھوڑ، یہ جلاو گھیراو، یہ طوفان بدتمیزی کسی طاقتور کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، یہ صرف عوام کا اور آپ کے اپنے گھر کا نقصان ہے۔
پہلے ہم بھوک سے مر رہے تھے اور اب اپنے ہی اپنوں کو رنگ و نسل، مذہب کے نام پر ، سیاست کے نام پر، جہالت کے نام پر مار رہے ہیں۔اسلام کے نام پر بنے اس ملک میں کہیں اسلام نظر نہیں آتا۔ بادشاہ سے خاکروب تک ہر ایک نے اس ملک کو جی بھر کے لوٹا ہے۔ نوجوان نسل جو کسی بھی قوم کا سرمایہ ہے وہ اخلاقیات سے گر چکی ہے اور بد تہذیبی کی ہر حد پار کر چکے ہیں۔ فوج جو عوام کے دل میں خاص مقام رکھتی ہے آج اس پر پتھر پھینکے جا رہے ہیں۔ حکمران اعلی جو کسی بھی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں لیڈر ہوتے ہیں ان پر تہمتوں اور الزامات کی بہتات ہو رہی ہے۔ رشتے دار جو کل تک آپس میں مل بیٹھ کر تہوار مناتے تھے خوشیوں غموں میں برابرشریک تھے آج ایک دوسرے پر زہریلے جملے کستے ہیں مزاح بناتے ہیں۔اس قوم کی حالت تو کچھ ایسی ہے کہ:
میں بھی بہت عجیب ہوں
اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
مہنگائی، قانون اور تمام ادارے ہمارے سامنے ہیں گلیوں میں نکلنے کی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ سب دیکھ کر ایک سوال کا جواب تو سامنے آیا کہ کیوں پڑھا لکھا محب وطن نوجوان اس ملک کو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے یہ کیسا مجبور و بے بس وطن ہے جس کی جڑوں کو اپنے ہی چاٹ کر کھائے جا رہے ہیں۔ قوم بن کر سوچنے کی بجائے ہم فرد فرد ہو چکے ہیں ہم اس قدر اندھی تقلید کرتے ہیں کہ ایک انسان کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان بنانے میں وقت نہیں لگاتے۔
جب گھر میں جنگ چھڑ جائے پھر فاتح کون بنتا ہے سوچیں ناں دو بھائی آپس میں لڑیں مرنے مارنے پر تل جائیں تو فتح کس کی ہو گی کسی کی نہیں ہر طرف شکست کا ہی سما ہو گا۔
جو شخص ڈیوٹی دے رہا ہے، وہ عام سپاہی چند ہزار روپے کا تنخواہ دار ہے اس کو جو حکم دیا گیا وہ کر رہا ہے۔ اس کے ، بوڑھے ماں باپ اور بیوی بچے بھی پریشان بیٹھے ہیں اور جو احتجاج کر رہا ہے وہ اس قوم کا فرد اور کسی کا بیٹا ہے. خدارا ملک بچانے نکلییے جلانے نہیں۔
مزید دراڑیں نہ ڈالیں، خانہ جنگی پیدا نہ کریں ۔ اور جو لوگ یہ سب دیکھ کر میمز بنا رہے ان کے لیے مر جانے کا مقام ہے۔
دعا ہے کہ:
محفوظ رکھ تو بغض و عداوت کے خار سے
اس کو بچا غرض کے، ہوس کے شرار سے
شاداب رکھ تو اس کو ہمیشہ بہار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
تو اس کے باسیوں کو عطا اب امان کر
اس کے بڑوں کو، چھوٹوں پہ اب مہربان کر
رہبر کہ رہرووں سے کریں بات، پیار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
بن جائے کُل جہاں کی ضرورت مرا وطن
روشن ہو آفتاب کی صورت مرا وطن
جل جائے اس کا جسم نہ اپنے شرار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
خوشحال یہ رہے سدا، حالِ زبوں نہ ہو
پرچم مرے وطن کا کبھی سرنگوں نہ ہو
دنیا میں سربلند رہے افتخار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
اعدائے خارجی کی نظر سے امان دے
اعدائے داخلی کے بھی شر سے امان دے
مامون ہو یہ گردشِ لیل ونہار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
الہی آمین ثم آمین
🖋️رضوانہ نور۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں