نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Loneliness is a power

 Loneliness is a power. When you are alone: You love yourself. You know yourself. you share your ideas with yourself. It's only time when you have no fear of being criticized. it's only a time when you can do stupid things that you like. Being alone is itself a blessing bestowed from the almighty. When you are alone there is only you and your "Allah", not the ordinary world. I don't why we are always searching for a partner. you can be your partner. There will be no fear of being deceived. and if you can't enjoy your company and can't stay with yourself how you can think someone else will enjoy with you or affectionate you.  How?  Spending time with yourself is a great thing😘. Be your support system, clap for yourself, Be there for yourself, gift yourself, Do it only for yourself. (Its work for me maybe not for everyone) to achieve this level you'll have to accept yourself.

Me Sari Zindgi k panno per tery piyar ki mohar laga bethii

 میری زندگی کے سارے پنوں پر  تیرے پیار کی مہر لگا بیٹھی  خود کوجو  تیرا کہ دیا  میں خود کو تجھ پہ وار بیٹھی میرے  قلب و جگر میں تو بیٹھا ہے کبھی جھانک تو اپنے اندر بھی تو خود کو جو میرا کہتا ہے  پھر دور کیوں مجھ سے تو رہتا ہے  سبھی اپنوں سے تیرے پیار کی خاطر اور رسم جہاں سے بغاوت کر بیٹھی  تیری اک جھلک تک دیکھنے کو  میں روح بھی چھلنی کر بیٹھی پیار  نے تیرے  بے بس یوں کر دیا   درپن میں دیکھوں،میں  یہ بھول  بیٹھی ویران دل سے میں یہ روز کہوں  قدم اییں اس کے میرے آشیانے میں  رب سے نور  دعا یہ روز کرے ملے ہر خوشی اسے زمانے میں    از قلم : تنزیلہ نور😊  

Good Morning Quets

 

تیرے نام

 تیرے نام تیرے نام  ہستی ہوئی وہ  روشن سی آنکھیں وہ مستی سے چور، نرالی ادائیں  وہ گالوں کی لالی،گلوں سی چمک  مہکتے چمن میں وہ پھولوں کی رانی  وہ کھلتے گلستان میں بلبل دیوانی  وہ گیسو بکھیرے ہوئے  یوں ہی چل دی  وہ پریوں سی لڑکی کہاں سے ہے آئی  رکھے ہاتھ دل پہ نہ  سمجھے  ہرجائی  کہوں اس کو کیسے ،کہیں بکھر نہ جائے  یہ خوابوں کی دنیا ہے ،یا سچی کہانی   پل بھر میں،میں  تو دیوانہ ہوا  رسیا کہوں خود کو یا میں بیگانہ ختم میری شاعری ہے اس کی جبیں پہ ہے اٹکی میری جاں اس کی ہنسی میں معصوم سی بھولی بھالی وہ باتیں  لوگوں سے بے خبر وہ تاروں سی راتیں   ملوں اس سے میں  جب ،دنیا بھول جاؤں   نظروں میں اس کی یونہی  کھو جاؤں دنیا سے کیا میں تو خود سے روٹھ جاؤں  ڑرتا ہوں مجھ سے کہیں دور ہو نا جائے  زمانے کی اس کو نظر لگ نا جائے  ان کھلتے لبوں کی ہسی  کھو نا جائے دعا ہے میری میرے رب سے یہی  جنوری  کی اس پہلی  رات میں  چڑھتے سورج سے اس نئے سال میں...

تیری یادیں

 تیری یادیں ہوسٹل کے بوسیدہ کمرے میں مدہم روشنی سی تھی جب تجھ کو پہلی بار دیکھا تھا دیکھ کے تجھ کو  اک دھڑکن مدھم ہو کے ابھری دیکھ رہی تھی وارڈن مجھکو   ناچار مکھڑے سے تیرے میں نے نظریں پھیری تھیں بعد تعارف ملنا ملانا اک اک لمحہ ہمارا ساتھ بِتانا راتوں کو جی بھر کے  اک دوجے کو ستانا ہم جولی اور ہم کلاس تھے ہم پڑھنے کے بہانے ساتھ وقت بتانا میں تھا کچھ شاعرانہ اوراس کا تھا ہر وار قاتلانہ نہ جانے کب دل میرا  بن گیا اسکی آنکھوں کا نشانہ انجانے میں اس کا بھی ہم پر جی بھر کے حق جتلانا ہر بات سب سے پہلے  رازدانہ مجھے ہی بتانا مجھ سے جو کوئی بھول ہوتی اسکا آسماں سر پے اٹھانا میں تھا انا کا قائل مگر اسکے لیے دل تھا گھائل بُھلا کے خود کو میرا رو رو کے اسکو منانا ناز نخرے پھر اسکا جی بھر اٹھوانا بعد ناراضگی مجھے یہ سمجھانا دیکھ میں ہوں ایسی ہی  تم سدا مجھے یوں ہی منانا حق ہے میرا روٹھ جانا فرض ہے تیرا مجھکو منانا جھکا کے نظریں اسکا یوں فرمانا گلے میں ڈال کے باہیں ناز سےاسکاجھوم جانا باتوں باتوں میں اسکا خود کو صرف میری امانت کہلانا بن کہے ہمارا اک دوسرے کا ب...

دوستی ہماری 💗

 دوستی ہماری 💗 (چشمِ بد بہت دوورر)  کالج کا وہ پہلا دن سب ڈوبے تھے اپنی مستی میں سب تھے اک دوجے سے انجان جھانک رہی تھی کھڑکی سے میں اک لڑکی ہوئی مخل  باتوں باتوں میں گئے ہم بھول  تعارف تو ہے سب سے ضرور یوں وہ بن گئی شناسا اس کو بس آتا تھا مجھے ستانا وہ سب سے گھل مل جاتی تھی میری بس وہی ساتھی تھی میں رہتی تھی خاموش وہ سناتی تھی افسانہ یوں بنا یہ سفر سہانا سر یاسر کا انگلش سمجھانا میرا چھپ کے ناول میں سر چھپانا وہ کہتی تھی تو ہے پاگل رضوانہ میں نے تجھ کو ایک تھپڑ ہے لگانا تھپڑ سے چِڑ تھی مچھ کو مگر اسکو دیکھ کے بس مسکرانا کالج میں مشہور تھا غصہ میرا سب سکھیاں اسکو کہتی تھیں  ہے یہ بہت غصیلی  مسکرا کےاسکا فرمانا کہاں ہے اس میں غصہ  کنٹین پہ وہ نہ جاتی تھی دھکم پیل میں مجھ کو پھنسا آتی تھی عادت ہوئی اک دوسرے کی ایسی کچی سے بن گئی دوستی گہری کالج سے آ کے بھی تھی فون ملاتی اور مجھے اپنی سب باتیں بتاتی ملتی تھی وہ سب سے مسکرا کے بس مجھ کو سناتی دوچار لگا کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر اسکا مجھکو ہر قصہ سنانا تاریخ کی کلاس میں میری حاضری مِس کروانا سر کا عینک میں سے ج...

سانحہ اے پی ایس

 ”سانحہ اے پی ایس“ از قلم : نتاشہ فیاض 16 دسمبر ایک ہولناک اور لرزہ خیز دن جب نوخیز کلیوں کی طرح پروان چڑھتے بچوں کو بے دردی سے موت کی آغوش میں سلا دیا گیا۔ان ننھے پھولوں کی آنکھوں میں جو خواب تھے اور جو سپنے تھے۔ ان خوابوں اور سپنوں کو بھی ہمیشہ لیۓ ان کے ساتھ ہی ابدی نیند سلا دیا گیا۔ 16 دسمبر کی صبح بھی ایک ایسی صبح تھی۔جب ننھے منے بچے گھروں سے اپنے والدین کی دعاٶں کو اپنے سنگ لیۓ اسکول کے لیۓ رخصت ہوٸے۔حسبِ معمول کوٸی کسی بات کی ضد کر کے رویا تو کسی نے اسکول سے چھٹی کرنے کی ضد کی۔لیکن موت کے خوفناک پنجے کے آگے سب بے بس ہو کر اسکول چلے گٸے۔جہاں دل دہلا لینے والا سانحہ پیش آیا۔ سانحہ اے پی ایس میں کٸی افراد نے اپنی جان کی بازی ہار دی اور کٸی افراد اس سانحے میں زخمی ہوٸے۔کٸی اساتذہ اور معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔کٸی ماٶں کی گودوں کو بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اجاڑ دیا گیا۔ ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“ لیکن یہ حملہ کرنے والے ظالم ایک جان کی اہمیت کیا جانیں جنہوں نے کٸی معصوم بچوں کی جان لے لی۔ان حملہ آوروں کو ان معصوم ننھے پھولوں پر رحم نہ آیا۔بھل...