نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

تیرے نام

 تیرے نام تیرے نام  ہستی ہوئی وہ  روشن سی آنکھیں وہ مستی سے چور، نرالی ادائیں  وہ گالوں کی لالی،گلوں سی چمک  مہکتے چمن میں وہ پھولوں کی رانی  وہ کھلتے گلستان میں بلبل دیوانی  وہ گیسو بکھیرے ہوئے  یوں ہی چل دی  وہ پریوں سی لڑکی کہاں سے ہے آئی  رکھے ہاتھ دل پہ نہ  سمجھے  ہرجائی  کہوں اس کو کیسے ،کہیں بکھر نہ جائے  یہ خوابوں کی دنیا ہے ،یا سچی کہانی   پل بھر میں،میں  تو دیوانہ ہوا  رسیا کہوں خود کو یا میں بیگانہ ختم میری شاعری ہے اس کی جبیں پہ ہے اٹکی میری جاں اس کی ہنسی میں معصوم سی بھولی بھالی وہ باتیں  لوگوں سے بے خبر وہ تاروں سی راتیں   ملوں اس سے میں  جب ،دنیا بھول جاؤں   نظروں میں اس کی یونہی  کھو جاؤں دنیا سے کیا میں تو خود سے روٹھ جاؤں  ڑرتا ہوں مجھ سے کہیں دور ہو نا جائے  زمانے کی اس کو نظر لگ نا جائے  ان کھلتے لبوں کی ہسی  کھو نا جائے دعا ہے میری میرے رب سے یہی  جنوری  کی اس پہلی  رات میں  چڑھتے سورج سے اس نئے سال میں...

تیری یادیں

 تیری یادیں ہوسٹل کے بوسیدہ کمرے میں مدہم روشنی سی تھی جب تجھ کو پہلی بار دیکھا تھا دیکھ کے تجھ کو  اک دھڑکن مدھم ہو کے ابھری دیکھ رہی تھی وارڈن مجھکو   ناچار مکھڑے سے تیرے میں نے نظریں پھیری تھیں بعد تعارف ملنا ملانا اک اک لمحہ ہمارا ساتھ بِتانا راتوں کو جی بھر کے  اک دوجے کو ستانا ہم جولی اور ہم کلاس تھے ہم پڑھنے کے بہانے ساتھ وقت بتانا میں تھا کچھ شاعرانہ اوراس کا تھا ہر وار قاتلانہ نہ جانے کب دل میرا  بن گیا اسکی آنکھوں کا نشانہ انجانے میں اس کا بھی ہم پر جی بھر کے حق جتلانا ہر بات سب سے پہلے  رازدانہ مجھے ہی بتانا مجھ سے جو کوئی بھول ہوتی اسکا آسماں سر پے اٹھانا میں تھا انا کا قائل مگر اسکے لیے دل تھا گھائل بُھلا کے خود کو میرا رو رو کے اسکو منانا ناز نخرے پھر اسکا جی بھر اٹھوانا بعد ناراضگی مجھے یہ سمجھانا دیکھ میں ہوں ایسی ہی  تم سدا مجھے یوں ہی منانا حق ہے میرا روٹھ جانا فرض ہے تیرا مجھکو منانا جھکا کے نظریں اسکا یوں فرمانا گلے میں ڈال کے باہیں ناز سےاسکاجھوم جانا باتوں باتوں میں اسکا خود کو صرف میری امانت کہلانا بن کہے ہمارا اک دوسرے کا ب...

دوستی ہماری 💗

 دوستی ہماری 💗 (چشمِ بد بہت دوورر)  کالج کا وہ پہلا دن سب ڈوبے تھے اپنی مستی میں سب تھے اک دوجے سے انجان جھانک رہی تھی کھڑکی سے میں اک لڑکی ہوئی مخل  باتوں باتوں میں گئے ہم بھول  تعارف تو ہے سب سے ضرور یوں وہ بن گئی شناسا اس کو بس آتا تھا مجھے ستانا وہ سب سے گھل مل جاتی تھی میری بس وہی ساتھی تھی میں رہتی تھی خاموش وہ سناتی تھی افسانہ یوں بنا یہ سفر سہانا سر یاسر کا انگلش سمجھانا میرا چھپ کے ناول میں سر چھپانا وہ کہتی تھی تو ہے پاگل رضوانہ میں نے تجھ کو ایک تھپڑ ہے لگانا تھپڑ سے چِڑ تھی مچھ کو مگر اسکو دیکھ کے بس مسکرانا کالج میں مشہور تھا غصہ میرا سب سکھیاں اسکو کہتی تھیں  ہے یہ بہت غصیلی  مسکرا کےاسکا فرمانا کہاں ہے اس میں غصہ  کنٹین پہ وہ نہ جاتی تھی دھکم پیل میں مجھ کو پھنسا آتی تھی عادت ہوئی اک دوسرے کی ایسی کچی سے بن گئی دوستی گہری کالج سے آ کے بھی تھی فون ملاتی اور مجھے اپنی سب باتیں بتاتی ملتی تھی وہ سب سے مسکرا کے بس مجھ کو سناتی دوچار لگا کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر اسکا مجھکو ہر قصہ سنانا تاریخ کی کلاس میں میری حاضری مِس کروانا سر کا عینک میں سے ج...

سانحہ اے پی ایس

 ”سانحہ اے پی ایس“ از قلم : نتاشہ فیاض 16 دسمبر ایک ہولناک اور لرزہ خیز دن جب نوخیز کلیوں کی طرح پروان چڑھتے بچوں کو بے دردی سے موت کی آغوش میں سلا دیا گیا۔ان ننھے پھولوں کی آنکھوں میں جو خواب تھے اور جو سپنے تھے۔ ان خوابوں اور سپنوں کو بھی ہمیشہ لیۓ ان کے ساتھ ہی ابدی نیند سلا دیا گیا۔ 16 دسمبر کی صبح بھی ایک ایسی صبح تھی۔جب ننھے منے بچے گھروں سے اپنے والدین کی دعاٶں کو اپنے سنگ لیۓ اسکول کے لیۓ رخصت ہوٸے۔حسبِ معمول کوٸی کسی بات کی ضد کر کے رویا تو کسی نے اسکول سے چھٹی کرنے کی ضد کی۔لیکن موت کے خوفناک پنجے کے آگے سب بے بس ہو کر اسکول چلے گٸے۔جہاں دل دہلا لینے والا سانحہ پیش آیا۔ سانحہ اے پی ایس میں کٸی افراد نے اپنی جان کی بازی ہار دی اور کٸی افراد اس سانحے میں زخمی ہوٸے۔کٸی اساتذہ اور معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔کٸی ماٶں کی گودوں کو بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اجاڑ دیا گیا۔ ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“ لیکن یہ حملہ کرنے والے ظالم ایک جان کی اہمیت کیا جانیں جنہوں نے کٸی معصوم بچوں کی جان لے لی۔ان حملہ آوروں کو ان معصوم ننھے پھولوں پر رحم نہ آیا۔بھل...

سانحہ پشاور اے پی ایس

سانحہ (APS) پشاور از قلم : وردہ محمد ناصر تحریر: 16 دسمبر شہدا کے نام  16 دسمبر کا دن پاکستانی قوم کبھی نہیں بھولے گی،یہ وہ دن تھا۔ جب سبز ہلالی پرچم معصوم بچوں کے لہو سے و سرخ ہو گیا،درندوں نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں،باپوں سے ان کے لخت جگر،بہنوں سے ان کے بھائی جدا کر دئیے۔ یہ وہ دن تھا جب دہشت گردوں نے قوم کے مستقبل پہ حملہ کیا تھا،یہ وہ دن تھا جب سر زمین پاک پر طلوع ہونے والا سورج بھی اشک یار ہو کر ڈوبا اور شہیدوں کے خون سے لت پت پشاور کی سر زمین کی سرخی ہمیں آج بھی یاد ہے۔ "پھول دیکھے تھے جنازوں پہ ہمیشہ میں نے " کل میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے" 16 دسمبر کو دہشت گردوں کا یہ گمان تھا ،کہ وہ اس بے رحمانہ کارروائی سےہمارے حوصلوں کو پست کردیں گے،لیکن ان کو یہ خبر نہیں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے ہے جو!!!!!          {جڑ سےجبر مٹاتی ہے        ظالم کو مار بھگاتی ہے  ہم موت کو آنکھ دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔} ہم ٹینگو سے کب گھبراتے ہیں ۔ہم توپ سے بھی لڑ جاتے ہیں  اس سانحے نے یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک کے فوجی جوان اور بڑے ہی نہیں، بلکہ ب...

16 December APS

 On 16 December, some stony hearted sapiens crossed all the limits of humanity and stolen the beaminess of emerging stars...  This day brings our souls to deadly piece of land which own some screamings and whispers of condolence...  Another day of failure of humanity...               And   Last day of blessed souls in a dreamy land... #APSAttack  #army  #16December

افسانہ سانحہ اے پی ایس

 ”افسانہ“  از قلم : ”نتاشہ فیاض“ ”خون آلود دسمبر“ دسمبر2021 دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔ہر شے پہ اداسی ڈھیرا جماٸے بیٹھی تھی۔شاید دسمبر نام ہی اداسی کا ہے۔یہ مہینہ جب بھی آتا ہے ہر شے پر اداسی خودبخود چھا جاتی ہے۔  صبح کا  آغاز ہو چکا تھا اور دسمبر شروع ہو چکا تھا تو پشاور میں بھی سردی نے زور پکڑنا شروع کر دیا تھا۔کالونی میں خاموشی کا راج تھا اور ایسی ہی خاموشی کالونی میں موجود ایک گھر میں بھی تھی۔یا یوں کہیے کہ پچھلے کچھ سالوں نے تو اس گھر کے مکینوں کے چہروں سے خوشی اور مسکراہٹ تک جدا کر دی تھی۔ ماضی میں ہوٸے سانحے کے اثرات اب بھی باقی تھے۔انسان کا ماضی چاہے خوشگوار ہو یا غم سے بھر پور انسان ماضی کو نہیں بھول سکتا۔اور یہی مسٹر فرمان اور انکی فیملی کے ساتھ ہوا وہ ماضی میں ہوٸے اس سانحے  اور اس دن کو نہیں بھلا سکے۔بھلا انسان اس سانحے کو کیسے بھول سکتا ہے جو سانحہ اسکے قریبی عزیز کو جدا کرنے کی وجہ بنا ہو۔۔ ماضی میں ان کے ساتھ جو سانحہ درپیش آیا وہ جاننے کے لیۓ آپ کو ماضی کے اس دن میں جھانکنا پڑے گا۔  مسٹر فرمان اپنی مسز زویا اور دو بیٹوں علی اور احد کے...